غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں تندور مالکان کی ایسوسی ایشن نے آٹے اور بنیادی سامان کے مکمل خاتمے کی وجہ سے اگلے 48 گھنٹوں میں تندوروں کا کام بند ہونے کے خطرے سے خبردار کیا ہے، جو انسان دوست امداد میں کمی، مسلسل بمباری و بے دخلی اور سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی شہریوں کی غذا کے لیے ایک نیا سنگین خطرہ ہے۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ آٹے کی شدید کمی روٹی کی پیداوار کے تسلسل کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ایک ایسے وقت میں جب پٹی کے اکثر باشندے اپنی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ انتباہ خاندانوں کو ان کی ایک بنیادی غذا کے مکمل طور پر ختم ہو جانے کے احتمال کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف ریلیف پروگراموں کی طرف سے فراہم کی جانے والی آٹے کی مقدار اور تیار شدہ کھانا دن بہ دن کم ہوتا جا رہا ہے۔
یہ انتباہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے اس اعلان کے تین دن بعد سامنے آیا ہے جس میں اس نے اپنی امداد میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کا اعلان کیا تھا، جس سے بدائل کی کمی کے دوران روٹی کی پیداوار کی معطلی سے متعلق خدشات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔
ورلڈ فوڈ پروگرام نے رواں ماہ 19 اکتوبر کو فنڈنگ کی کمی کے باعث غزہ میں اپنے امدادی مستفیدین کی تعداد 16 لاکھ سے گھٹا کر 11 لاکھ افراد کرنے کا اعلان کیا تھا، نیز غذائی راشن بھی آدھا کر دیا گیا تھا تاکہ ایک خاندان کو دو کے بجائے صرف ایک پارسل اور آٹے کا ایک چھوٹا تھیلا ملے، جبکہ گرم کھانے کی روزانہ کی فراہمی 2,50,000 سے گھٹا کر 1,50,000 کر دی گئی تھی۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق غزہ کے تقریباً 14 لاکھ افراد بحران کی سطح یا اس سے بھی بدتر سنگین غذائی غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں، جن میں سے تقریباً 2,00,000 ایمرجنسی کی سطح پر موجود ہیں۔
ہر پانچ میں سے صرف ایک بچے کو ہی کافی اور متنوع غذا مل پاتی ہے، جبکہ بے روزگاری 80 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے جس سے خوراک دستیاب ہونے پر بھی خاندانوں کی اسے خریدنے کی صلاحیت انتہائی محدود ہو جاتی ہے۔
یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ روٹی کا بحران ایک وسیع تر بحران کا حصہ ہے، کیونکہ مارکیٹوں میں کچھ اشیا کی مسلسل موجودگی آمدنی کے خاتمے یا امداد کی بندش کا نعم بدل نہیں ہو سکتی، نیز صرف آٹے کی فراہمی بچوں، مریضوں اور حاملہ خواتین کی متنوع غذا کی ضرورت کو پورا نہیں کرتی، تاہم یہ روزانہ کے کھانوں میں مزید کمی کو روکنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
پروگرام نے مارچ سنہ 2027ء تک غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے 450 ملین ڈالر کی فوری فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔
تندوروں کی بندش کا خطرہ پناہ گاہوں کے بحران کے مزید سنگین ہونے کے ساتھ ہی سامنے آیا ہے، کیونکہ غزہ میں سماجی ترقی کی وزارت نے رواں ماہ 13 اکتوبر کو خبردار کیا تھا کہ تقریباً 300,000 خاندان مناسب چھت کے بغیر سردیوں کا سامنا کر رہے ہیں اور بتایا تھا کہ استعمال ہونے والے تقریباً 90 فیصد خیمے بوسیدہ اور رہنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔
یہ تمام بحران قابض دشمن کے جاری مظالم اور جرائم سے جدا نہیں ہیں کیونکہ جمعرات کی فجر خان یونس کے مغرب میں واقع مصطفیٰ حافظ سکول کے اندر ایک خیمے پر بمباری کے نتیجے میں بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے چار افراد زخمی ہو گئے تھے، جس کے ساتھ ہی پٹی کے دیگر علاقوں میں گھروں پر فضائی حملے اور عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کی کارروائیاں کی گئیں۔
وزارت صحت نے آج اعلان کیا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چار فلسطینی 12 زخمی ہسپتالوں میں لائے گئے، اس کے بعد 11 اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے بعد سے شہدا کی مجموعی تعداد 1,538 اور زخمیوں کی تعداد 5,498 تک پہنچ گئی ہے۔
