تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کے سیاسی منظر نامے میں انتخابات کی آمد کے ساتھ ہی فلسطینیوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانیے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہےجبکہ اس دوران غزہ کی پٹی کے باسیوں کو دربدر کرنے، فلسطینی قومی تشخص کا انکار کرنے اور مغربی کنارے سمیت سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف نفرت پھیلانے والے بیانات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔
ایک تازہ رصد کے مطابق ایک قابض اسرائیلی ریسرچ سینٹر نے رواں برس کے آغاز سے لے کر اب تک قابض اسرائیلی عہدیداروں کے ایسے 227 بیانات کی دستاویزی توثیق کی ہے جنہیں انتہا پسندانہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ سیاسی زندگی میں استحصالی اور نسل پرستانہ بیانیے کا اثر و رسوخ پھیلتا جاسکتا ہے، یہ سب کچھ فلسطینیوں پر مسلط جنگ کے بھیانک اثرات اور یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے ساتھ ساتھ رونما ہو رہا ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے منگل کے روز شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں قابض اسرائیلی ریسرچ سینٹر اوفِک کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے اشتعال انگیزی کی نگرانی کے ایک جاری پروجیکٹ کے تحت ان بیانات کی باقاعدہ دستاویز بندی کی ہے۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ یہ خطرناک بیانیہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے ساتھ سامنے آ رہا ہے، جبکہ ان جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف احتساب کے اقدامات انتہائی محدود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قابض حکومت کے سربراہ بنجمن نتن یاھو براہ راست وہی زبان استعمال نہیں کرتے جو ان کے انتہا پسند دائیں بازو کے اتحادی اپناتے ہیں، لیکن وہ اپنی انتخابی مہم دائیں بازو بمقابلہ فلسطین کے نعرے کے تحت چلا رہے ہیں، جو کہ ایک ایسا نعرہ ہے جس پر کڑی تنقید کی گئی ہے کیونکہ اس میں واضح طور پر اشتعال انگیز مضمرات پائے جاتے ہیں۔
غزہ کے مکینوں کو جبری بے دخل کرنے کی صریح پکار
رپورٹ نے قابض اسرائیلی عہدیداروں اور سیاسی شخصیات کے ان بیانات کو بے نقاب کیا ہے جن میں غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو باہر نکالنے یا ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی براہ راست دعوتیں دی گئی ہیں، اس کے علاوہ ایسے بیانات بھی شامل ہیں جو فلسطینی قومی تشخص کے وجود سے ہی انکار کرتے ہیں۔
رپورٹ میں دائیں بازو کی جماعت زیہوت کے رہنما موشے ویگلین کا یہ بیان نقل کیا گیا ہے کہ غزہ کے باسیوں کو ان کے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا جائے اور ہر ممکن طریقے سے انہیں دیس سے نکالا جائے، بشمول ان کی پانی کی سپلائی کاٹنے کے، اور انہوں نے ایک ایسا بیان بھی دیا جس میں ان سب کے قتل کا مطالبہ کیا گیا۔
اسی طرح، سیاسی امیدوار اور سابق قابض اسرائیلی اسیر ایتان مور کے والد زفیکا مور کا یہ بیان بھی نقل کیا گیا کہ غزہ کا محاصرہ کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ وہاں کے باشندوں کو اس سرزمین سے لازماً باہر دھکیلا جانا چاہیے۔
اسی سیاق و سباق میں رپورٹ نے قابض اسرائیل کے جنگی وزیر یسرائيل کاٹز کا یہ بیان بھی درج کیا ہے کہ ہم نے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے اور حکومت کے سربراہ کی حمایت سے میں نے یہی بنیادی تبدیلی پیدا کی ہے۔ یہ بیان رپورٹ میں اس سیاسی جنگی بیانیے کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا جو اس پٹی پر مسلط جنگ سے جڑا ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تمام بیانات قابض اسرائیل کی عمومی فضا میں جبری نقل مکانی اور بے دخلی کے مطالبات کی گہری جڑوں کی عکاسی کرتے ہیں، جو غزہ کے فلسطینیوں پر جاری جنگ کی تباہ کاریوں کے ساتھ ساتھ پروان چڑھ رہے ہیں۔
فلسطینی تشخص کا انکار اور عربوں کے خلاف زہر افشانی
رپورٹ میں اجاگر کردہ یہ زہر آلود بیانیہ صرف پٹی کے مکینوں تک ہی محدود نہیں رہا، بلکہ اس کی زد مغربی کنارے کے فلسطینیوں اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں کے اندر بسنے والے عرب شہریوں تک پر پھیلی ہوئی ہے۔
رپورٹ نے سمندر پار امور اور انسدادِ یہود دشمنی کے وزیر اميحائی شیکلی کا یہ بیان نقل کیا کہ حقیقت میں فلسطینی شناخت نامی کسی شے کا کوئی وجود نہیں ہے، جبکہ کنیسٹ کے رکن یتسحاق كرويزر کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں کوئی بھی شہری یا معصوم بچہ موجود نہیں۔
رپورٹ میں کنیسٹ کے کئی دیگر ارکان کے ایسے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں جو براہ راست عرب شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ چنانچہ رکن پارلیمنٹ زیوی سوكوت نے انہیں پانچواں ستون قرار دیا، جبکہ رکن پارلیمنٹ تسفيكا فوگل نے مطالبہ کیا کہ منصور عباس اور متحدہ عرب لسٹ کے ان کے ساتھیوں کو کنیسٹ میں بیٹھنے دینے کے بجائے تفتیشی کمروں کے حوالے کیا جانا چاہیے۔
رپورٹ میں رکن پارلیمنٹ ليمور سون هار ميليخ کا وہ بیان بھی نقل کیا گیا ہے جس میں اس بات کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ طبی شعبے سے تعلق رکھنے والے ان عرب کارکنوں کو قابض اسرائیل کے صحت کے نظام سے باہر کر دیا جائے جنہوں نے نابلس یا مقبوضہ بیت المقدس کے فلسطینی اداروں سے تعلیم حاصل کی ہو۔
یہ بیانات سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں کہ اس سیاسی زہر کا فلسطینیوں کے وقار اور حقوق پر کیا اثر پڑے گا، خصوصاً جب اس قسم کے الفاظ منتخب عہدیداروں یا حکومتی اداروں کے ارکان کی زبان سے ادا کیے جائیں۔
یہودی آباد کار اور مغربی کنارے میں جاری جارحیت
رپورٹ نے فلسطینیوں کے خلاف اس بڑھتے ہوئے کینہ پرور بیانیے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کے درمیان براہ راست گہرے تعلق کو واضح کیا ہے، اور اس بات کی نشان دہی کی ہے کہ یہ حملے گرفتاریاں اور قانونی کارروائیاں نہ ہونے کے برابر ہونے کی وجہ سے مسلسل جاری ہیں۔
رپورٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں واقع قصبے مشرقی اللبن کے سڑک کنارے دکان چلانے والے فلسطینی مؤيد عويس کا حوالہ دیا، جہاں یہودی آباد کاروں نے ان کی دکان کے سامنے قابض اسرائیل کے پرچم لا کر گاڑ دیے، جس کی وجہ سے دکان تک رسائی ناممکن ہو گئی۔ جب مؤيد عويس نے انہیں ہٹانے کی کوشش کی تو انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔
خبر رساں ایجنسی نے ان کا یہ بیان نقل کیا کہ وہ مسلسل یہودی آباد کاروں کے حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں، جو اس روزمرہ کے شدید دبائو کی عکاسی کرتا ہے جس کا سامنا مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں فلسطینیوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اشتعال انگیزی کے یہ مظاہر اب محض سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے مواد کا بھی حصہ بن چکے ہیں۔اس مواد کو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کے ذریعے مزید ہوا دی جا رہی ہے، جس سے اس دشمنانہ زبان کا دائرہ کار وسیع تر ہو رہا ہے اور اجتماعی بحث و مباحثے پر اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ایک ایسا بیانیہ جو انتخابی مسابقت کی حدوں سے تجاوز کر چکا ہے
اسی سے جڑے ہوئے ایک اور تناظر میں رپورٹ نے دہشت گردی اور جعل سازی کی نگرانی کرنے والی قابض اسرائیلی تنظیم فیک رپورٹر کے بانی آحيا شاٹز کا یہ قول نقل کیا ہے کہ موجودہ غالب بیانیہ انتہائی زہر آلود ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تنبیہ کی کہ اس نوعیت کے بیانات اب قابض اسرائیل میں روز کا معمول بنتے جا رہے ہیں اور ان میں مزید خطرناک حد تک تیزی آ رہی ہے۔
رپورٹ میں قومی سلامتی کے وزیر ايتمار بن گویر کے یہ بیانات بھی درج ہیں جن میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم اپنی سرزمین کی طرف واپس آ رہے ہیں، اور غزہ ہمارا ہے۔ اس کے علاوہ وزیر مالیات بزلئیل سموٹریچ کا وہ بیان بھی شامل ہے جس میں انہوں نے مغربی کنارے کی طرز پر النقب اور الجليل کو یہودیانے کا اعلان کیا۔
یہ بیانات ایک ایسے انتہائی کشیدہ سیاسی ماحول میں سامنے آ رہے ہیں جو قابض اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات سے ٹھیک پہلے کی فضا کو محیط ہے، جبکہ دوسری طرف غزہ پٹی اور مغربی کنارے کے غیور فلسطینی اس جارحیت، جبری انخلا اور ان کی روزمرہ زندگی پر عائد ظالمانہ پابندیوں کے طوفان کا تنِ تنہا مقابلہ کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے آخر میں اس حقیقت پر زور دیا گیا ہے کہ اس کینہ پرور اور دشمنانہ بیانیے کا وسیع تر پھیلاؤ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قابض اسرائیل کی سیاسی اور میڈیا کی دنیا میں فلسطینیوں کو انسانی درجے سے گرانے اور انہیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی اس مجرمانہ سوچ کو معمول پر لایا جا رہا ہے، بالخصوص جب یہ الفاظ ان ذمہ داروں کے منہ سے نکلیں جو اعلیٰ ترین حکومتی اور قانون ساز مناصب پر فائز ہیں۔
