Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی فوج نے پانچ منزلہ عمارت گرا دی، 70 فلسطینی بے گھر

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی مشینری نے آج منگل کی صبح سویرے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرق میں واقع قصبہ الطور میں پانچ منزلہ رہائشی عمارت کو اس پر دھاوا بولنے اور مکینوں کو زبردستی باہر نکالنے کے بعد مسمار کر ڈالا، اس حملے کی زد میں دس رہائشی اپارٹمنٹس آئے جن میں تقریباً ستر فلسطینی رہائش پذیر تھے اور ان کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل تھی۔

القدس گورنری نے بتایا کہ قابض فوج نے صہیونی بلدیہ کے بلڈوزروں کے ہمراہ کئی فوجی گاڑیوں کے ساتھ علاقے پر دھاوا بولا، اس سے پہلے کہ وہ عمارت پر چھاپہ مارتے اور مکینوں کو طاقت کے زور پر باہر نکلنے پر مجبور کرتے اور انہیں اپنے سامان باہر نکالنے سے روکتے، جبکہ انخلاء کے دوران متعدد شہریوں پر تشدد بھی کیا گیا۔

گورنری نے واضح کیا کہ قابض حکام نے عمارت کے مکینوں کو گذشتہ روز انہدام کا حتمی نوٹس تھمایا تھا، برسوں تک انہدام کے نوٹسز کے ذریعے ان کا تعاقب کرنے اور بھاری مالی جرمانے عائد کرنے کے بعد، ایسے وقت میں جب حکام نے انہیں عمارت کی تعمیر کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا تھا۔

قابض حکام نے سال 2022ء میں عمارت کو منہدم کرنے کا حکم جاری کیا تھا، تاہم اہل خانہ قابض عدالتوں کے ذریعے اس کے نفاذ کو رکوانے میں کامیاب ہو گئے تھے، مگر یہ فیصلہ پھر سے سامنے آگیا اور آج صبح سویرے اس کے نفاذ پر بات ختم ہو گئی۔

گذشتہ برسوں کے دوران عمارت کے مکینوں نے تعمیراتی لائسنس حاصل کرنے کی کوششوں کے دائرے میں دیگر رقوم کے علاوہ دسیوں ہزار ڈالر جرمانے اور فیس کی شکل میں ادا کیے، لیکن قابض حکام نے انہیں لائسنس جاری کرنے سے انکار کر دیا۔

یہ عمارت مسمار کرنے کا عمل مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی وجود کو نشانہ بنانے والے انہدام اور کھدائی کے بڑھتے ہوئے سلسلوں کے سائے میں سامنے آیا ہے، کیونکہ القدس گورنری کے اعداد و شمار کے مطابق سال کے آغاز سے لے کر ستمبر سنہ 2026ء کے اختتام تک القدس گورنری میں انہدام اور کھدائی کے 427 آپریشنز ریکارڈ کیے گئے۔

رواں سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران اکیلے گورنری نے 139 انہدام اور کھدائی کے آپریشنز کی دستاویزی توثیق کی، جن میں 35 جبری خود انہدام کے عمل شامل تھے جن کے دوران فلسطینیوں کو اپنے گھروں یا تنصیبات کو اپنے ہاتھوں سے گرانے پر مجبور کیا گیا، اس کے علاوہ 96 ایسے انہدام تھے جو قابض مشینری نے براہ راست انجام دیے، اور 8 کھدائی کے آپریشنز تھے جن کی زد میں فلسطینی زمینیں، تنصیبات اور سہولیات آئیں۔

اسی مدت کے دوران قابض حکام نے انہدام، انخلاء اور قبضے سے متعلق 150 نوٹسز اور فیصلے بھی صادر کیے، جن میں 140 انہدام کے نوٹسز اور فیصلے، 3 انخلاء کے فیصلے اور املاک اور زمینوں کی ضبطی کے 7 فیصلے شامل ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan