غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے قابض اسرائیل کے اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ میں شائع ہونے والی اس خبر کی تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تحریک نے اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار کے ذریعے سات اکتوبر سنہ 2023ء جیسے حملے کو دہرانے کی دھمکی دی ہے۔ تحریک نے قطاع غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی پابندی کا اعادہ کیا۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار کے ذریعے اس قسم کی دھمکی کی منتقلی سے متعلق اخبار میں شائع رپورٹ بالکل ’غیر صحیح‘ اور من گھڑت ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اسرائیلی میڈیا کی جانب سے پیش کی جانے والی من گھڑت کہانی کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔
حازم قاسم نے ثالثوں سے اپیل کی کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف قابض اسرائیل کی خلاف ورزیوں اور متواتر تجاوزات کو روکنے کے لیے فوری طور پر متحرک ہوں، اور جنگ بندی معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کام کریں۔
انہوں نے عبرانی اخبار کی طرف سے پیش کی جانے والی داستان کے بارے میں مزید تفصیلا فراہم کیے بغیر خبردار کیا کہ قابض دشمن کے من گھڑت دعووں پر کان نہ دھرا جائے اور نہ ہی انہیں انتخابی معرکے میں استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔
قبل ازیں آج ’یدیعوت احرونوت‘ نے دعویٰ ظاہر کیا تھا کہ ’حماس‘ کے عہدیداروں نے انسان دوست امور کے لیے اقوامِ متحدہ کے کوآرڈینیٹر رامز الاکبروف کے ذریعے ایک پیغام پہنچایا ہے، جو انہوں نے گذشتہ ہفتے غزہ میں تحریک کی قيادت کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران حاصل کیا۔ اخبار کے مطابق اس پیغام میں سات اکتوبر جیسے حملے کو دہرانے کی تحریک کی آمادگی شامل تھی۔
جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں
یہ من گھڑت دعوے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی قابض دشمن کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں کے سایہ میں سامنے آئے ہیں، جبکہ قابض افواج قطاع کے مختلف علاقوں میں اب بھی موجود ہیں اور ان کے جارحانہ اقدامات میدانی صورت حال کے استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
’حماس‘ اس بات پر زور دیتی ہے کہ ثالث بالخیر قابض دشمن کو معاہدے کی شقوں کا پابند بنانے اور اس کے مظالم کو روکنے کے لیے فوری کردار ادا کریں، جبکہ اپنے تازہ بیان میں تحریک نے اسرائیلی اخبار کی جانب سے پیش کردہ کہانی کی بار دیگر تردید کرتے ہوئے ان من گھڑت دعووں کو سیاسی اور انتخابی کشمکش میں استعمال کرنے کے خلاف شدید خبردار کیا ہے۔
