الدامون – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے قابض اسرائیل کے عقوبت خانے الدامون میں قید فلسطینی خواتین کے خلاف بڑھتی ہوئی انسانیت سوز خلاف ورزیوں پر سخت خبردار کرتے ہوئے انہیں ایسے جنگی جرائم قرار دیا ہے جن پر کسی صورت خاموش نہیں رہا جا سکتا۔ حماس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض دشمن پر دباؤ ڈالنے اور اسیران و اسیرات کے تحفظ کے لیے فوری طور پر حرکت میں آئے۔
حماس نے ایک اخباری بیان میں واضح کیا کہ الدامون عقوبت خانے سے موصول ہونے والی شہادتیں انتہائی لرزہ خیز ہیں، جن کے مطابق اسیرات کو بدترین تشدد اور جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہیں زمین پر اوندھے منہ لٹایا جاتا ہے، ان کے ہاتھ پیچھے کی طرف باندھ دیے جاتے ہیں اور پھر انہیں لاتوں اور گھونسوں سے پیٹا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں بلاوجہ تنہائی میں قید کر دیا جاتا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قابض اسرائیل کے اخلاقی اور انسانی اقدار سے عاری ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
حماس نے زور دے کر کہا کہ قابض دشمن کے لیڈروں کا تعاقب کرنا اور ان کا محاسبہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ان اسیرات کو موت اور تشدد کے ان مراکز سے بچایا جا سکے۔ تحریک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ وحشیانہ مظالم نہ تو ان اسیرات کے حوصلے توڑ سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں آزادی کی منزل سے پیچھے ہٹا سکتے ہیں۔ حماس نے قومی دھڑوں، انسانی حقوق کے اداروں، خواتین کی تنظیموں اور فلسطینی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اسیران کی حمایت میں جاری سرگرمیوں کو تیز کریں اور ان کی رہائی تک اپنی کوششیں جاری رکھیں۔
اسی تناظر میں اسیران میڈیا آفس نے انکشاف کیا ہے کہ الدامون عقوبت خانے میں قید خواتین کو گذشتہ اپریل سنہ 2026ء کے دوران 10 سے زائد مرتبہ بدترین کریک ڈاؤن اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اسے ایک منظم مہم قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد خواتین کو ذہنی و جسمانی اذیت دے کر ان کے ارادوں کو توڑنا ہے۔
میڈیا آفس نے اپنے بیان میں بتایا کہ نحشون جیسے مخصوص وحشی دستوں نے اسیرات کے حصوں پر بار بار چھاپے مارے، جن کے دوران صوتی بموں کا استعمال کیا گیا، خواتین کو زبردستی زمین پر لٹا کر ان کی مشکیں کسی گئیں اور پھر سی سی ٹی وی کیمروں سے دور لے جا کر انہیں بے رحمی سے زدوکوب کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں زبردستی منتقل کرنے اور بلاوجہ تنہائی میں رکھنے کے واقعات بھی پیش آئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ ممارسات صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں بلکہ اسیرات کو نفسیاتی طور پر بھی شدید اذیت دی جا رہی ہے جس کے ان کی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ میڈیا آفس نے بتایا کہ الدامون عقوبت خانے میں دو حاملہ خواتین بھی قید ہیں جن کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ ذہنی دباؤ اور تشدد کی وجہ سے ان میں سے ایک خاتون کی طبیعت اس قدر بگڑ گئی کہ انہیں مناسب طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باوجود ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔
اسیران میڈیا آفس نے تصدیق کی کہ عقوبت خانے کے اندر زندگی گزارنے کے حالات لمحہ بہ لمحہ ابتر ہو رہے ہیں۔ کمرے اسیرات سے بھرے پڑے ہیں جس کی وجہ سے کئی خواتین زمین پر سونے پر مجبور ہیں۔ پرائیویسی نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی اور واش رومز کی حالت بھی انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کو دھوپ میں نکلنے اور نہانے کے اوقات میں بھی شدید کٹوتی کر دی گئی ہے، جبکہ لباس اور صفائی ستھرائی کے سامان کی بھی شدید قلت ہے۔
خوراک کے حوالے سے بتایا گیا کہ جو کھانا فراہم کیا جا رہا ہے وہ نہ تو مقدار میں پورا ہے اور نہ ہی معیار کے لحاظ سے انسانی ضرورت کے مطابق ہے، جس کی وجہ سے اسیرات کے وزن میں تیزی سے کمی آ رہی ہے اور وہ معدے کے امراض سمیت مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہی ہیں۔ مزید برآں عقوبت خانے کے عملے کی رات کے وقت مسلسل موجودگی کی وجہ سے خواتین شدید گرمی کے باوجود چوبیس گھنٹے باپردہ لباس میں رہنے پر مجبور ہیں تاکہ اپنی حرمت کا تحفظ کر سکیں۔
اسیران میڈیا آفس نے ان تمام اقدامات کو ایک سوچی سمجھی صہیونی پالیسی قرار دیا ہے اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان اسیرات کے بنیادی حقوق کی پامالی رکوانے کے لیے فوری مداخلت کریں۔
