Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ: ہزاروں بیوگان معاشی مشکلات میں، انسانی بحران میں اضافہ

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی سینٹر برائے سیاسی مطالعہ نے پیر کے روز انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں خاندان کی کفالت کرنے والی خواتین کی تعداد میں بے پناہ اور غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جبکہ بیوہ ہونے والی خواتین کی تعداد بڑھ کر 22 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

مرکز نے “غزہ کی پٹی میں خاندان کی کفیل خواتین: جنگی معیشت اور سماجی غربت کی نئی صورتحال” کے عنوان سے جاری کردہ ایک تجزیاتی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں خاندان کے واحد کفیل کی شہادت نے فلسطینی خاندان کے ڈھانچے میں گہری تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں، جبکہ اس وقت دسیوں ہزار بچے ایسے ہیں جو اپنے والدین میں سے کسی ایک سے محروم ہو چکے ہیں۔

اس مطالعہ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ تبدیلی ایک ایسی تباہ حال جنگی معیشت کے سائے میں رونما ہو رہی ہے جہاں روزگار کی منڈی بکھر چکی ہے اور خواتین میں بے روزگاری کی شرح بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں غیر رسمی معیشت، جو محض امداد اور غیر مستحکم سرگرمیوں پر مبنی ہے، پھیل رہی ہے، جس نے خواتین کو حقیقی پیداواری ذرائع کے بغیر خاندان کی کفالت کے کٹھن مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔

رپورٹ میں اس جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ غزہ کی پٹی میں خواتین اب معاشی کفالت اور خاندان کی نگہداشت جیسے دوہرے اور پیچیدہ کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ سماجی تحفظ کا کوئی بھی موثر نظام موجود نہیں ہے۔ اس صورتحال نے ان خواتین پر معاشی، نفسیاتی اور سماجی دباؤ کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

تجزیاتی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ تبدیلیاں کوئی عارضی بحران نہیں ہیں بلکہ یہ سماجی ڈھانچے کی ایک گہری تشکیل نو کی عکاسی کرتی ہیں جو نسل در نسل غربت کی منتقلی کا سبب بن سکتی ہیں، بشرطیکہ امدادی مداخلتوں کو پائیدار معاشی بااختیاری کی پالیسیوں میں تبدیل نہ کیا جائے۔

مرکز نے اس بات پر زور دیا کہ اس صورتحال کے حل کے لیے ایک جامع وژن کی ضرورت ہے جو کفالت کرنے والی خاتون کو محض امداد لینے والی کے بجائے سماجی اور معاشی بحالی کے عمل میں ایک فعال عنصر کے طور پر تعمیر نو اور پیداواری عمل کا حصہ بنائے۔

اسی تناظر میں میدانی اعداد و شمار غزہ کی پٹی میں خواتین کو درپیش انسانی المیے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں وہ قابض اسرائیل کے نشانے پر اور مصائب میں سب سے آگے رہی ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 6,020 سے زائد خاندانوں کی نسل کشی کی گئی ہے جہاں بہت سے کیسز میں صرف ایک ہی فرد زندہ بچا ہے جو کہ عموماً کوئی خاتون یا بچہ ہے۔ اس کے علاوہ 2,700 خاندان ایسے ہیں جنہیں مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹا کر سول رجسٹر سے ان کا نام و نشان ختم کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب وزارت امور خواتین نے واضح کیا ہے کہ شوہروں کی شہادت اور ہزاروں کی گرفتاری کے باعث دسیوں ہزار خواتین اپنے خاندانوں کی واحد کفیل بن چکی ہیں، جو کہ انتہائی مشکل انسانی اور معاشی حالات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan