Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

فلوٹیلا مشن پر اسرائیلی کارروائی، متعدد کارکن گرفتار

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی بحری فوج نے آج پیر کے روز غزہ کی پٹی کی طرف بڑھنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک وحشیانہ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ یہ بحری بیڑہ غزہ پر مسلط ظالمانہ محاصرے کو توڑنے کی ایک نئی انسانی کوشش کے تحت گذشتہ جمعرات کو ترکیہ کے ساحلوں سے روانہ ہوا تھا۔

قابض اسرائیل کے چینل 12 نے رپورٹ کیا ہے کہ بحری کمانڈوز کے خصوصی ملاحی ونگ “شایطیت 13” نے فلوٹیلا کے جہازوں پر زبردستی قبضہ کرنے کی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف الجزیرہ نے مطلع کیا ہے کہ قابض اسرائیل کے چار جنگی جہازوں نے اس بحری قافلے کے قریب پہنچ کر اس کے عملے کو انجن بند کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ اس کا راستہ روکا جا سکے۔

قابض اسرائیلی میڈیا نے بتایا ہے کہ بحری افواج نے فلوٹیلا میں شامل متعدد انسانی حقوق کے کارکنوں کو ایک جنگی جہاز پر منتقل کر دیا ہے جسے ایک تیرتے ہوئے عقوبت خانے میں تبدیل کیا گیا ہے تاکہ بعد میں انہیں اسدود کی بندرگاہ منتقل کیا جا سکے۔ دوسری طرف فلوٹیلا کے اندر موجود ایک ذمہ دار ذرائع نے صحافتی بیانات میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کسی ایک جہاز کا راستہ روکنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ باقی قافلہ غزہ کی طرف اپنا سفر روک دے گا۔

اس سے قبل عبرانی اخبار جیروزالیم پوسٹ نے ایک صیہونی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ غاصب حکومت کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاھو نے اتوار کے روز ایک ابتدائی سکیورٹی اجلاس کی صدارت کی تھی جس میں اس فلوٹیلا سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر غور کیا گیا تھا اور اس کے بعد فوجی کمانڈروں کے ساتھ ایک آپریشنل میٹنگ ہونی تھی تاکہ اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر بحث کی جا سکے کیونکہ یہ اندازہ تھا کہ یہ جہاز 48 گھنٹوں کے اندر اس علاقے میں پہنچ جائیں گے۔

اسی تناظر میں، فلسطین میں الجزیرہ کے بیورو چیف نے وضاحت کی ہے کہ قابض اسرائیل کا منصوبہ یہ ہے کہ فلوٹیلا کو علاقائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی اقتصادی پانیوں میں روک دیا جائے اور کارکنوں کو وہیں سمندر میں قائم عارضی پلیٹ فارمز اور تیرتے ہوئے جہازوں پر نظربند کر دیا جائے تاکہ انہیں قابض اسرائیل کی بندرگاہوں یا دیگر ممالک منتقل کرنے سے بچا جا سکے جیسا کہ گذشتہ تجربات میں ہو چکا ہے۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ قابض اسرائیلی فوج نے کنٹرول حاصل کرنے کے اس آپریشن کو انجام دینے کے لیے بڑے پیمانے پر بحری کمک بشمول ایلیٹ یونٹس اور پیادہ فوج کو روانہ کیا ہے اور اس سفاکیت کے لیے یہ بے بنیاد جواز پیش کیا ہے کہ فلوٹیلا میں مبینہ طور پر “پرشدد” کارکن موجود ہیں جبکہ دشمن کی اصل کوشش یہ ہے کہ سنہ 2010ء کے مرمرہ جہاز کے اس منظرنامے کو دہرانے سے بچا جا سکے جس میں خونی جھڑپیں ہوئی تھیں۔

دوسری طرف فلوٹیلا کے ایک جہاز کے اندر سے الجزیرہ کے نامہ نگار نے رپورٹ دی ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں اس بحری قافلے کا راستہ روکنے کی حقیقی صیہونی دھمکیاں موجود ہیں اور صیہونیوں کے منصوبے کے مطابق شرکاء کو نظربندی کے تیرتے ہوئے جہازوں پر منتقل کر کے انہیں کسی بھی بندرگاہ تک پہنچنے سے روک دیا جائے گا جبکہ اس کے برعکس فلوٹیلا کے منتظمین نے جہاز پر کسی بھی قسم کے ہتھیار کی موجودگی یا غیر پرامن مقاصد کی سختی سے تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ یہ گلوبل صمود فلوٹیلا ترکیہ کی مرمریس بندرگاہ سے 54 جہازوں کے ساتھ روانہ ہوا تھا جس میں دنیا کے تقریباً 70 ممالک سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں انسانی حقوق کے سرگرم کارکن بشمول ڈاکٹرز، وکلاء اور صحافی شریک ہیں اور اس عالمی مہم کا مقصد سنہ 2007ء سے غزہ کی پٹی پر مسلط صیہونی محاصرے کو توڑنا ہے۔

پہلے باضابطہ ردعمل میں، فلوٹیلا کی سرگرمیوں کے ترجمان نے اس صیہونی حملے کو بین الاقوامی قوانین اور بحری نیویگیشن کے اصولوں کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو کچھ ہوا وہ ایک خالص انسانی مشن پر براہِ راست حملہ ہے اور انہوں نے تمام شرکاء کی سلامتی کی مکمل ذمہ داری قابض اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غاصب دشمن کے محاسبے کے لیے فوری طور پر حرکت میں آئے۔

یہ سنگین صورتحال غزہ کے بحری محاصرے کو توڑنے کی مسلسل کوششوں کے تسلسل میں سامنے آئی ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بین الاقوامی پانیوں میں سویلین جہازوں کا راستہ روکنے کے خطرناک نتائج پر سخت خبردار کیا ہے جو خطے میں ایک نئے قانونی اور انسانی بحران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan