Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

غزہ محاصرہ ختم کرنے کی مہم تیز، یونان سے فلوٹیلا کے 5 جہازوں روانہ

یونان – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) گلوبل صمود فلوٹیلا اتحاد نے بدھ کے روز یونان کے ایک جزیرے سے پانچ بحری جہازوں کی روانگی کا اعلان کیا ہے، جو غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ ظالمانہ اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کے لیے کی جانے والی ایک وسیع تر بین الاقوامی کوشش کا حصہ ہے۔ اس مہم کا مقصد اس عالمی خاموشی اور سزا سے بچنے کے اس ماحول کا مقابلہ کرنا ہے جو فلسطینی عوام کی نسل کشی، انہیں بھوکا مارنے اور ان کے مکمل خاتمے کے صہیونی منصوبے کو تقویت دے رہا ہے۔

اتحاد نے ایک پریس بیان میں وضاحت کی ہے کہ پانچ بحری جہاز جن کے نام “عدالہ”، “کیریاکوس ایکس”، “لینا النابلسی”، “پیرسفیئرنس” اور “ٹیناز لو اقصیٰ بنگلہ دیش” ہیں، جلد ہی مزید 55 کشتیوں کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔ یہ کشتیاں فرانس، اٹلی اور پولینڈ کے جھنڈے تلے ترکیہ کے علاقے مرمریس سے روانہ ہوں گی اور ان پر علامتی طور پر خوراک اور ادویات کا ذخیرہ لدا ہوا ہے۔

اتحاد نے اس بات پر زور دیا کہ گلوبل صمود فلوٹیلا محض ایک امدادی تنظیم نہیں ہے بلکہ یہ اس سمندری محاصرے کو براہ راست چیلنج کرنے کی ایک تحریک ہے جسے اس نے “سفاکانہ اور غیر قانونی” قرار دیا ہے۔ اس محاصرے کا مقصد فلسطینیوں کو تنہا کرنا، انہیں قید کرنا اور ان پر مظالم ڈھانا ہے، جبکہ یہ مہم فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی جرائم کو روکنے میں عالمی برادری کی ناکامی کے خلاف ایک احتجاج بھی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ سنہ 2010ء سے یہ اتحاد قابض اسرائیل کے محاصرے کو براہ راست چیلنج کرنے کے لیے درجنوں بحری اسفار منعقد کر رہا ہے۔ اس تحریک کی بنیاد “فری غزہ” موومنٹ کے تجربے پر رکھی گئی ہے جس نے سنہ 2008ء میں پہلی بار سمندری راستے سے محاصرہ توڑنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

اتحاد نے بتایا کہ جون سنہ 2025ء میں بحری جہاز “میڈلین” کے سفر کے بعد اس اقدام میں بین الاقوامی شرکت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی سول سوسائٹی اب حکومتوں کی جانب سے محاصرے اور نسل کشی کو معمول کے طور پر قبول کرنے کی پالیسی کو مسترد کر رہی ہے۔

بیان کے مطابق اس مشن کا موجودہ مرحلہ گذشتہ 29 اپریل سنہ 2026ء کو یونان کے مغربی ساحل کے قریب 22 شہری جہازوں پر ہونے والے اسرائیلی حملے اور گلوبل صمود فلوٹیلا کے دو منتظمین کے اغوا اور ان کے ساتھ کیے جانے والے ناروا سلوک کے بعد شروع کیا گیا ہے۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے اور اگلے اقدامات کی ہم آہنگی کے لیے بحری اسفار کو عارضی طور پر روکا گیا تھا، تاہم اب اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ حملوں اور دھمکیوں کے باوجود فلوٹیلا کا مشن جاری رہے گا۔

اتحاد نے قابض اسرائیل اور امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ “بے بنیاد دعوؤں” کے ذریعے گلوبل صمود فلوٹیلا کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور اسے مجرم قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ شہری مزاحمت کی قانونی حیثیت کو ختم کیا جا سکے اور اس مشن پر مزید حملوں کے لیے رائے عامہ ہموار کی جا سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ دو منتظمین “سیف” اور “تیاگو” کی بغیر کسی الزام کے رہائی نے ان صہیونی دعوؤں کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ واضح ہے کہ قابض اسرائیل اور اس کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ فلوٹیلا شہری نوعیت کا ہے، غیر مسلح ہے اور بنیادی انسانی حقوق کے دفاع کے لیے عالمی قانون کے عین مطابق سفر کر رہا ہے۔

اتحاد نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فلوٹیلا غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ محض انسانی ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ یہ استعماری تشدد اور اس کی پشت پناہی کرنے والے عالمی نظام کے خلاف ایک “بین الاقوامی شہری مزاحمت” کی حیثیت رکھتا ہے۔

اتحاد نے غزہ کی ناکہ بندی کا مقابلہ کرنے کے لیے سمندر اور زمین کے ذریعے اپنی براہ راست اور پرامن جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تاکہ آزادی، وقار، حقِ واپسی اور حقِ خودارادیت کی خاطر لڑنے والے فلسطینی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہوا جا سکے۔

واضح رہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا اتحاد دنیا بھر کے کئی ممالک کی سول سوسائٹی کی تنظیموں اور عوامی تحریکوں پر مشتمل ہے جو سنہ 2010ء سے غزہ پر مسلط اسرائیلی محاصرے کو سمندر کے ذریعے چیلنج کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

اس اتحاد کی سرگرمیوں کا مقصد بین الاقوامی قانون کی حمایت کرنا، فلسطینی عوام کے نقل و حرکت کی آزادی، حقِ خودارادیت اور وقار کے حقوق کو فروغ دینا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ قابض اسرائیل کے استعمار اور نسل پرستی (اپارتھائیڈ) میں تعاون کرنے والی حکومتوں اور اداروں کا اصل چہرہ بے نقاب کرنا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan