غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے ترجمان حازم قاسم نے وضاحت کی ہے کہ جماعت نے غزہ کی پٹی پر جاری جارحیت کے آغاز ہی سے یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ جنگ کے بعد کے انتظامی انتظامات کا حصہ بننے کی خواہش مند نہیں ہے، تاہم بعد ازاں اپنے موقف میں وسعت لاتے ہوئے غزہ کے امور چلانے کے لیے قومی کمیٹی کی تشکیل پر اتفاق کیا۔
بدھ کے روز جاری کردہ اپنے صحافتی بیانات میں حازم قاسم نے اس بات پر زور دیا کہ حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ قومی کمیٹی کے غزہ کی پٹی میں داخلے کے عمل کو تیز کیا جائے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ قومی کمیٹی کے اراکین کو غزہ میں داخل ہونے اور اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کی اجازت مل سکے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ تحریک نے انتظامی اختیارات قومی کمیٹی کو منتقل کرنے کے لیے تمام ضروری میدانی، سیاسی اور قانونی اقدامات مکمل کر لیے ہیں، جن میں غزہ کی پٹی کے اندرونی سکیورٹی اور انتظامی امور بھی شامل ہیں۔
حماس کے ترجمان نے غزہ میں امن کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نکولے ملادی نوف کے ان بیانات پر کڑی تنقید کی جن میں روزانہ کی بنیاد پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نکولے ملادی نوف کا مبہم انداز میں گفتگو کرنا زمینی حقائق اور سچائی کے منافی ہے۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ قابض اسرائیل وہ فریق ہے جو مسلسل جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 850 سے زائد شہری جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔
حازم قاسم نے نشاندہی کی کہ قابض دشمن انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے اور اس نے غزہ کی پٹی کے اندر پیلی لکیر (یلو لائن) کو مزید مغرب کی جانب منتقل کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نکولے ملادی نوف کو چاہیے تھا کہ وہ واضح طور پر قابض اسرائیل کی سفاکیت اور خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے، کیونکہ حماس اور دیگر فلسطینی دھڑے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر عمل درآمد کی خاطر معاہدے کی تمام شقوں کی مکمل پاسداری کر رہے ہیں۔
حماس کے ترجمان نے مطالبہ کیا کہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ دوسرے مرحلے پر بحث شروع کرنے سے قبل مفاہمت کے پہلے مرحلے میں طے پانے والے امور پر عمل درآمد کرے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ دوسرے مرحلے میں قومی کمیٹی اور بین الاقوامی افواج کا داخلہ، قابض اسرائیل کا مکمل انخلاء اور فلسطینی اسلحہ کے معاملے سے نمٹنا شامل ہے۔
قاسم نے اس بات پر زور دیا کہ حماس نے دوسرے مرحلے کے راستوں سے متعلق ثالثوں کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کے ساتھ مثبت رویہ اختیار کیا ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں امن کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نکولے ملادی نوف نے آج قبل ازیں ایک بیان میں کہا تھا کہ کونسل غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے مستقبل کی فراہمی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے روزانہ کی بنیاد پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور شہریوں کی مسلسل شہادتوں کا بھی ذکر کیا تھا۔
نکولے ملادی نوف نے اپنے صحافتی بیانات میں اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ انہوں نے غزہ کے انسانی اور سیاسی معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے کونسل کی مشاورت کے فریم ورک کے تحت قابض اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے ملاقات کی ہے۔
