مقوضہ بیت المقدس- (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قابض دشمن کا جارحانہ طرزِ عمل نئی مساواتیں مسلط کرنے یا مسجد اقصیٰ کی شناخت اور اس کے تاریخی تشخص کو تبدیل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ حماس نے واضح کیا کہ فلسطینی عوام اپنے حقوق اور مقدسات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور قابض دشمن کے اقدامات کے سامنے اپنی استقامت اور ثابت قدمی جاری رکھیں گے۔
حماس نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک پریس بیان میں انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند اسرائیلی وزیر یتضحاق فسرلاوف کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے صحنوں پر دھاوے کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم قابض حکومت کی اس پالیسی کا عملی اظہار ہے جس کا مقصد مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیانا اور مسجد پر سرکاری سرپرستی میں ہونے والے حملوں کو ایک معمول بنانا ہے۔
حماس نے کہا کہ قابض حکومت عالمی انتباہات، فیصلوں اور اپیلوں کی پرواہ کیے بغیر مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اپنی پالیسیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں اشارہ کیا گیا کہ ان بار بار ہونے والے اور بڑھتے ہوئے حملوں کے ساتھ ساتھ مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تنگی اور پابندیوں کی مہم بھی جاری ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قابض دشمن کے ان اقدامات میں مرد اور خواتین مرابطین (محافظینِ اقصیٰ) کی گرفتاریاں اور انہیں مسجد اقصیٰ سے بے دخل کرنا شامل ہے، تاکہ اس مقدس مقام کو اس کے عوامی دفاعی حصار سے خالی کرایا جا سکے اور اس پر تسلط بڑھا کر اسے آباد کاروں کے لیے ایک آسان لقمہ بنا دیا جائے۔
حماس نے عرب اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے کاز کے لیے ہر ممکن تعاون اور مدد فراہم کریں۔ ساتھ ہی مقبوضہ بیت المقدس، مغربی کنارے اور اندرون فلسطین کے فلسطینیوں پر زور دیا گیا کہ وہ مسجد اقصیٰ اور اس کے گردونواح میں اپنی موجودگی اور رباط (پہرہ دینے) کے عمل کو تیز کریں اور قابض دشمن و آباد کاروں کے منصوبوں کو ناکام بنا دیں۔
دہشت گرد فسرلاوف کا یہ دھاوا ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی کنیسٹ کے 22 وزراء اور اراکین نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں قابض فورسز سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ جمعہ کو آباد کاروں کو مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے کی اجازت دیں، جو کہ قبضے کی سالانہ یادگار اور یومِ نکبہ کے دن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
اس پٹیشن پر 9 وزراء اور کنیسٹ کے 13 اراکین نے دستخط کیے ہیں جن کا تعلق زیادہ تر بنجمن نیتن یاھو کی جماعت لیکوڈ سے ہے، جبکہ تین ارکان بزلئیل سموٹریچ کی جماعت مذہبی صیہونیت سے ہیں۔ یہ درخواست مقبوضہ بیت المقدس کی پولیس قیادت کو ارسال کی گئی ہے جس میں 15 مئی سنہ 2026ء کو مقبوضہ بیت المقدس پر اسرائیلی خودمختاری دکھانے کے نعرے کے تحت ان حملوں کے لیے سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دستخط کرنے والوں میں حکومت کی اہم شخصیات شامل ہیں جن میں نائب وزیراعظم اور وزیر انصاف یاریو لیون اور وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کے علاوہ مختلف محکموں کے وزراء شامل ہیں۔ اس اقدام کو مسجد اقصیٰ سے متعلق ایک سنگین سیاسی اشتعال انگیزی قرار دیا گیا ہے۔
پٹیشن میں یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ مسجد اقصیٰ کو ان حملوں کے لیے کھولا جائے تاکہ مقبوضہ بیت المقدس پر اسرائیلی خودمختاری کی تصدیق کی جا سکے، جبکہ ایک متبادل آپشن یہ بھی دیا گیا ہے کہ اگر جمعہ کو یہ ممکن نہ ہو سکے تو جمعرات کی شام اسے غیر معمولی طور پر کھولا جائے، یہ مطالبات رواں ماہ کے آغاز میں پیش کی گئی ایک سابقہ درخواست کے مشابہ ہیں۔