رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) رام اللہ کے شمال میں واقع قصبے جلجليا کے قریب قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی بچہ شہید ہو گیا، یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب علاقے میں آباد کاروں کے وسیع پیمانے پر حملے اور مظالم جاری ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ 16 سالہ بچہ یوسف علی یوسف کعابنہ رام اللہ کے شمال میں واقع جلجليا کے قریب قابض اسرائیل کی گولیوں کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کر گیا ہے۔
ہلال احمر (ریڈ کراس) کے مطابق ان کے طبی عملے نے آباد کاروں کے حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 4 افراد کو طبی امداد فراہم کی جن میں ایک نوجوان بھی شامل تھا جس کے سینے میں لائیو گولی لگی تھی، بعد ازاں اسی زخمی نوجوان کی شہادت کی تصدیق کر دی گئی۔
آباد کاروں کی مسلح ملیشیاؤں نے رام اللہ کے شمال میں واقع قصبے سنجل اور گاؤں جلجليا پر دھاوا بولا جہاں انہوں نے چرواہوں پر وحشیانہ حملہ کیا اور ان کی سینکڑوں بھیڑیں چوری کر لیں۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ آباد کاروں نے سنجل پر حملے کے دوران ایک گھر میں گھس کر تقریباً 700 بھیڑیں لوٹ لیں۔
مقامی فلسطینیوں نے آباد کاروں کے اس حملے کا دلیری سے مقابلہ کیا جس کے دوران نوجوانوں اور حملہ آوروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، فلسطینی شہری سنجل سے چوری کی گئی بھیڑوں میں سے کچھ کو واپس لینے میں کامیاب رہے۔
اسی دوران آباد کاروں نے جلجليا گاؤں کے مضافات میں واقع شہریوں کے گھروں پر بھی حملہ کیا اور وہاں سے بھی بھیڑیں اور زرعی آلات چرا لیے۔
قابض اسرائیلی افواج نے بھی اس لوٹ مار میں حصہ لیتے ہوئے جلجليا اور سنجل کے درمیان واقع بدوی بستی سے ایک زرعی ٹریکٹر قبضے میں لے کر چوری کر لیا۔
علاوہ ازیں رام اللہ کے علاقے عبوین میں بھی آباد کاروں نے قابض اسرائیلی افواج کی براہ راست چھتری تلے بھیڑوں کے ایک گلے پر ڈاکا ڈالا اور انہیں ہنکا کر لے گئے۔
