مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ ’یونیسف‘ نے منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی بچوں کو نشانہ بنائے جانے کے خطرناک رجحان میں اضافے پر خبردار کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ سنہ 2025ء کے آغاز سے اب تک قابض فوج کی مسلسل عسکری کارروائیوں اور آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی سفاکیت کے سائے میں اوسطاً ہر ہفتے ایک فلسطینی بچہ جام شہادت نوش کر رہا ہے۔
جنیوا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران یونیسف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے بتایا کہ گذشتہ جنوری سے لے کر آج تک مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مقبوضہ بیت المقدس میں کم از کم 70 فلسطینی بچے شہید کیے جا چکے ہیں۔
جیمز ایلڈر نے مزید کہا کہ ان بچوں میں سے تقریباً 93 فیصد کو قابض اسرائیلی افواج نے قتل کیا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ اکثر متاثرین کو براہ راست گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسی مدت کے دوران 850 سے زائد بچے زخمی بھی ہوئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مشرقی مقبوضہ بیت المقدس کے تمام حصوں میں قابض دشمن کی بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیوں اور حملوں کے نتیجے میں معصوم بچے ناقابل برداشت قیمت چکا رہے ہیں۔
یونیسف نے قابض اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مزید فلسطینی بچوں کے قتل اور انہیں اپاہج ہونے سے بچانے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کریں اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے گھروں، سکولوں اور پانی کے ذرائع کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
تنظیم نے بااثر ممالک سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ بین الاقوامی قوانین کا احترام یقینی بنایا جا سکے اور فلسطینی شہریوں کے خلاف جاری سنگین خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو۔
یونیسف کا یہ انتباہ اکتوبر سنہ 2023ء میں غزہ کی پٹی پر شروع ہونے والی نسل کشی کی جنگ کے بعد سے مغربی کنارے میں قابض دشمن اور آباد کاروں کے حملوں میں ہونے والے بے مثال اضافے کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں قابض فوج نے اپنی عسکری کارروائیاں اور چھاپے تیز کر دیے ہیں، خاص طور پر شمالی مغربی کنارے کے کیمپوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
قابض اسرائیلی فوج نے جنوری سنہ 2025ء میں فلسطینی پناہ گزین کیمپوں، بالخصوص جنین، طولکرم اور نور شمس کے خلاف ایک وسیع عسکری آپریشن شروع کیا تھا، جس کے ساتھ بڑے پیمانے پر مکانات کی مسماری، زمینوں کی توڑ پھوڑ اور دسیوں ہزار فلسطینیوں کی جبری بے دخلی جیسے مظالم ڈھائے گئے۔
انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارے میں قابض اسرائیل اور آباد کاروں کی سفاکیت کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں درجنوں بچے شامل ہیں، جبکہ ہزاروں افراد زخمی اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب قابض فوج کی سرپرستی میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور نئے مرکز قائم کرنے کا سلسلہ بھی پوری شدت سے جاری ہے۔
