Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ کی ماؤں کی مشکلات: بے گھری، بھوک اور جدائی کی داستان

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کے بوسیدہ خیموں کی اوٹ میں جہاں معصوم بچوں کے مرجھائے ہوئے چہرے دم توڑتی امیدوں کا پتہ دیتے ہیں، وہاں فلسطینی مائیں ایک ایسی قیامت سے گزر رہی ہیں جس کا تصور ہی روح کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔ ان ماؤں کی زندگی بھوک کی جان لیوا تڑپ، مسلسل در بدری کے جانکاہ کرب اور اپنے لختِ جگروں اور سہاگ کے چھن جانے کے لامتناہی دکھوں کا مجموعہ بن چکی ہے۔ قابض اسرائیل کی جانب سے ڈھائی جانے والی بے پناہ سفاکیت کے اس مہیب سائے میں یہ مائیں انسانی وقار کی آخری حدوں سے بھی محروم کر دی گئی ہیں اور اب وہ محض بقا کی ایک ایسی جنگ لڑ رہی ہیں جو لفظوں کے بیان سے باہر ہے۔

جہاں ہجرت زدہ خیموں کی وحشت ناک قطاریں اپنے منہدم گھروں کی راکھ سے لپٹی یادوں سے ٹکراتی ہیں اور جہاں بچپن کی معصوم مسکراہٹیں بھوک اور خوف کے شور میں کہیں گم ہو کر رہ گئی ہیں، وہاں ایک ایسی حقیقت جنم لے رہی ہے جو انسانی برداشت کے ہر پیمانے کو پاش پاش کر چکی ہے۔ یہ ان ماؤں کا مسکن ہے جنہوں نے اپنے جگر گوشوں اور جیون ساتھیوں کو اس طرح کھو دیا ہے جیسے تند و تیز لہریں ساحلوں کے نشان مٹا دیتی ہیں۔

قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی نسل کشی کی اس وحشیانہ مہم نے یہاں کی نوے فیصد سے زائد آبادی کو ان کے آبائی گھروں سے بے دخل کر دیا ہے۔ یہ ستم رسیدہ انسان کئی کئی بار بے گھر ہوئے اور اب گنجان پناہ گاہوں میں یا کھلے آسمان تلے وبائی امراض، پانی کی بوند بوند کو ترستی آنکھوں اور ادویات کے فقدان کے سائے میں سسک رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی تنظیموں کی رپورٹس اس ہولناک انسانی المیے کی گواہی دے رہی ہیں۔

ختم نہ ہونے والی ہجرت کا خونی سفر

تپتی دوپہروں کی حدت اور تھرتھراتی سرد راتوں کی یخ بستگی میں ایک پسماندہ خیمے کے اندر، خزاعہ نامی بلدہ سے ہجرت کرنے والی مامتا کا پیکر، وداد النجار بیٹھی اپنی اس طویل اور لہو رنگ مسافت کے زخم کرید رہی ہیں جو سات اکتوبر سنہ 2023ء کو جنگ کے پہلے دن شروع ہوئی تھی۔

ام وداد نے نامہ نگار کو اپنی بپتا سناتے ہوئے بتایا کہ ان کے خاندان کو امن کی تلاش میں چھ سے زائد مرتبہ در بدر ہونا پڑا، مگر اس سرزمین پر انہیں کہیں بھی سکون یا جائے پناہ میسر نہ آئی۔ انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ ہم نے اپنے خوابوں کے گھر، اپنے پیارے اور اپنا اثاثہ سب کچھ کھو دیا، اب ہمارے پاس اگر کچھ بچا ہے تو وہ صرف اور صرف خونچکاں یادیں ہیں۔

لیکن اس فلسطینی ماں کے تڑپتے دل پر ہجرت کے زخم سے بھی گہرا گھاؤ اپنے اس اکلوتے بیٹے کی پر اسرار گمشدگی کا ہے، جو چھ بیٹیوں کی دعاؤں کے بعد ان کے آنگن کا اجالا بنا تھا۔ وداد کا کہنا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مہینوں ہی میں ان کا اپنے لختِ جگر سے رابطہ ٹوٹ گیا تھا اور تب سے وہ اسے زندہ پانے کی مدہم سی امید اور اسے ہمیشہ کے لیے کھو دینے کے جان لیوا خوف کے درمیان جی رہی ہیں۔

وداد اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ میں صرف یہ جاننا چاہتی ہوں کہ میرا بچہ کس حال میں ہے؟ کیا وہ جامِ شہادت نوش کر گیا یا قابض صہیونی عقوبت خانوں کی تنی ہوئی سلاخوں کے پیچھے قید ہے؟ میں صرف ایسا جواب چاہتی ہوں جو میری سلگتی ممتا کو تھوڑا قرار دے سکے۔ میں اس کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی، وہ میری زندگی کا کل اثاثہ ہے اور اس کے بغیر میں ایک زندہ لاش سے زیادہ کچھ نہیں۔ میری تمنا ہے کہ کاش میں بھی دنیا کی دیگر ماؤں کی طرح اپنے بیٹے کی خوشیاں دیکھ پاتی۔

شہادت، قید اور فاقہ کشی کا تگنا عذاب

خان یونس شہر کے ایک اور پر آشوب کیمپ میں مقیم ماں، ہدیٰ المدنی اپنے ایک بیٹے ابراہیم کی شہادت کے رستے ہوئے زخم اور دوسرے بیٹے احمد کی جدائی کے صدمے میں گھل رہی ہیں، جو گذشتہ دو سال سے زائد عرصے سے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں ظلم و ستم کی چکی میں پس رہا ہے۔

ام ہدیٰ نے بتایا کہ ان کا بیٹا ابراہیم قابض اسرائیل کی نسل کشی کا نشانہ بن کر منوں مٹی تلے جا سویا اور اپنے پیچھے پانچ معصوم یتیم چھوڑ گیا، جبکہ اس کا بھائی احمد آج تک اپنے اس لختِ جگر کی صورت تک نہیں دیکھ سکا جو اس کی اسیری کے دوران پیدا ہوا تھا اور اب اس کی عمر دو سال آٹھ ماہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا کہ وہ ننھا بچہ ہر پل اپنے بابا کے بارے میں پوچھتا ہے اور دیگر بچوں کی طرح اپنے باپ کا لمس محسوس کرنا چاہتا ہے۔ ہمارے دلوں کے ٹکڑے ہو چکے ہیں اور ہم کسی ایسی خبر کے منتظر ہیں جو احمد کی زندگی کی نوید لا سکے۔

فلسطینی ماؤں کی یہ اذیت محض اپنوں کی جدائی تک محدود نہیں، بلکہ پناہ گاہوں میں خوراک اور پانی کی شدید قلت کے باعث وہ بدترین فاقہ کشی کا سامنا کر رہی ہیں۔

چار یتیموں کی بیوہ ماں، ام محمود برکہ کہتی ہیں کہ شوہر کی شہادت نے انہیں وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے اور اب اپنے خاندان کی کفالت کا سارا بوجھ ان کے ناتواں کندھوں پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب میں ہی ان بچوں کی ماں ہوں اور میں ہی ان کا سہارا۔ ہم بھوک، خوف اور زندگی کی کم از کم ضرورتوں کے بغیر محض سانس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان ہجرت زدہ ماؤں نے اپنی گفتگو کے آخری کلمات میں کہا کہ اب فلسطینی ماں کسی آسائش یا وقار کی تلاش میں نہیں ہے، وہ تو محض اتنی سی امان اور لقمہ چاہتی ہے جس سے وہ اپنے بچوں کو موت کے پنجے اور مسلسل در بدری کے جہنم سے بچا سکے۔

خواتین کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ویمن) کے لرزہ خیز اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیل کی اس نسل کشی کی جنگ میں اب تک غزہ کی پٹی میں تقریباً 38 ہزار خواتین اور لڑکیاں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں، جن میں 22 ہزار خواتین اور 16 ہزار لڑکیاں شامل ہیں۔ یہ اوسطاً روزانہ کم از کم 47 خواتین اور لڑکیوں کی شہادت بنتی ہے، جو غزہ میں شہداء کی مجموعی تعداد کے نصف سے بھی زائد ہے۔

اسی دوران تقریباً دس لاکھ خواتین اور لڑکیاں جنگ کے ہولناک دورانیے میں کئی بار ہجرت پر مجبور ہوئیں، جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق تقریباً سات لاکھ نوے ہزار خواتین کو خوراک کی تباہ کن قلت کا سامنا ہے۔ سرکاری میڈیا آفس اور اقوام متحدہ کے آبادیاتی فنڈ کے اعداد و شمار کے مطابق 22 ہزار سے زائد خواتین اپنے شوہروں کی شہادت کے بعد بیوگی کی چادر اوڑھ چکی ہیں، جبکہ تقریباً 55 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی مائیں صحت کے نظام کی مکمل تباہی اور غذائی قلت کے باعث موت کے دہانے پر کھڑی ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan