Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

قابض اسرائیلی حکام کے کیسز کے بعد کریم خان کو دھمکیوں کا سامنا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر جنرل کریم خان نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ایسی معلومات ملی ہیں جن کے مطابق روسی اور اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے ان کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے دباؤ اور دھمکیوں کی مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔

برطانوی ویب سائٹ ’مڈل ایسٹ آئی‘ کو دیے گئے بیانات میں کریم خان نے عدالت کے اندر موجود بعض ارکان پر اپنے خلاف ایک ’خطرناک‘ اور ’جانبدارانہ‘ مہم چلانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم جنسی بدسلوکی کے غیر ثابت شدہ الزامات اور قابض اسرائیل کے جنگی جرائم سے متعلق ان کی تحقیقات کی بنیاد پر چلائی جا رہی ہے۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے ’غیر معمولی دباؤ اور دھمکیوں کی مہم‘ کا سامنا ہے، کیونکہ انہوں نے قابض حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور سابق وزیر جنگ یوآو گیلانٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی کوشش کی ہے۔

کریم خان نے واضح کیا کہ ان کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک ایسا ’منصوبہ بند عمل‘ ہے جو خاص طور پر انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا آج ’وحشیانہ طاقت کے منطق‘ اور قانون کی حکمرانی میں سے کسی ایک کے انتخاب کے موڑ پر کھڑی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے روسی اور اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے اپنی نگرانی سے متعلق معلومات متعلقہ حکام کو فراہم کر دی ہیں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے خلاف جاری مسلسل مہم نے عدالت کو ایک ’نامعلوم خطے‘ میں دھکیل دیا ہے۔ ان کے بقول یہ عمل ایک ایسی خطرناک مثال بن سکتا ہے جس کے ذریعے منتخب عہدیداروں کو سیاسی دباؤ کے ذریعے ہٹایا جا سکے گا۔

انہوں نے عدالت کی اسمبلی آف اسٹیٹ پارٹیز کے بیورو کے ارکان پر بنیادی قانونی اصولوں کو پامال کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ان ارکان نے اقوام متحدہ کی اس تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج کو نظر انداز کیا جس میں ان کے خلاف کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کے ثبوت نہ ملنے کی تصدیق کی گئی تھی، حالانکہ خود اسمبلی نے ہی یہ تحقیقات سونپی تھیں۔

کریم خان نے بیان کیا کہ تحقیقات کے دوران انہیں اپنی شناخت خفیہ رکھنے کا حق نہیں دیا گیا، جبکہ اسی طرح کے الزامات کا سامنا کرنے والے دیگر عہدیداروں کو یہ حق دیا گیا تھا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بیورو کے صدر نے ان کا نام میڈیا کے سامنے ظاہر کیا۔

انہوں نے اسمبلی آف اسٹیٹ پارٹیز کے ایک نائب صدر پر بھی الزام لگایا کہ انہوں نے ’قانونی طریقہ کار کی رعایت کیے بغیر‘ ان کے خلاف شکایت کرنے والی خاتون سے ملاقات کی۔ کریم خان نے بیورو کے تین ارکان کو اپنے کیس سے الگ کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ان کا رویہ ’جانبدارانہ‘ رہا ہے۔

کریم خان ان الزامات کی قطعی تردید کرتے ہیں اور وہ تحقیقات مکمل ہونے تک گذشتہ تقریباً ایک سال سے غیر معینہ مدت کی چھٹی پر ہیں۔

پراسیکیوٹر جنرل پر دباؤ میں اضافہ اپریل سنہ 2024ء سے اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے غزہ پر جنگ اور مغربی کنارے میں آباد کاری کے حوالے سے بنجمن نیتن یاھو اور گیلانٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی تیاری شروع کی۔

کریم خان اس سے قبل امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے ڈالے جانے والے شدید سیاسی دباؤ کا بھی ذکر کر چکے ہیں، جس کا مقصد انہیں اسرائیلی حکام کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست دینے سے روکنا تھا۔

واضح رہے کہ نومبر سنہ 2024ء میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے بنجمن نیتن یاھو اور گیلانٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، جو اکتوبر سنہ 2023ء میں غزہ کی پٹی پر شروع ہونے والی جنگ کے دوران کیے گئے تھے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan