غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ مرکز برائے انسانی حقوق نے ان بڑھتے ہوئے اشاروں پر گہری تشویش اور خدشات کا اظہار کیا ہے جو قابض اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے ایک غیر اعلانیہ اور ’نرم‘ جبری بے دخلی کی پالیسی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ پالیسی سفر کے لیے فراہم کی جانے والی ایسی مبہم سہولیات اور انتظامات کے ذریعے اپنائی جا رہی ہے جن میں شفافیت کا فقدان ہے اور جو کسی واضح فریم ورک کے بغیر چلائی جا رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب سنگین طبی حالات سے دوچار ہزاروں مریضوں کو سفر کی اجازت دینے سے مسلسل انکار کیا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کے مرکز نے منگل 5 مئی سنہ 2026ء کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے قابض اسرائیل کے کوآرڈینیٹر برائے حکومتی سرگرمیاں کے اس اعلان کا بغور جائزہ لیا ہے جس میں کہا گیا کہ 44 ہزار افراد مختلف زمینی گزرگاہوں کے ذریعے غزہ کی پٹی سے تیسرے ممالک روانہ ہوئے، جبکہ اس کے مقابلے میں رفح گزرگاہ کے ذریعے رخصت ہونے والے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کی تعداد محض 2000 کے لگ بھگ رہی۔
مرکز نے اشارہ کیا کہ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایک طرف تو ان مریضوں کے سفر میں منظم طریقے سے رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں جن کے ہاں سفر میں تاخیر اور سفری اجازت نہ ملنے کے باعث روزانہ کی بنیاد پر اموات ہو رہی ہیں، اور دوسری طرف غیر واضح طریقہ کار کے تحت مخصوص افراد اور خاندانوں کو تیسرے ممالک بھیجنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں جو کسی بھی آزادانہ نگرانی یا اعلانیہ معیار کے تابع نہیں ہیں۔
حقوقِ انسانی کے مرکز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب بھی تقریباً 18 ہزار مریض اور زخمی ایسے ہیں جنہیں بیرون ملک علاج کے لیے فوری سفر کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ ہزاروں دیگر افراد کو بھی خصوصی طبی نگہداشت کی ضرورت ہے کیونکہ قابض اسرائیل کے براہ راست حملوں اور طویل محاصرے کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کا طبی نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
بیان میں متنبہ کیا گیا کہ قابض اسرائیل کے حکام پیچیدہ سکیورٹی اور انتظامی طریقہ کار کے ذریعے مریضوں کے سفر میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں یومیہ بنیادوں پر صرف محدود تعداد میں لوگوں کو سفر کی اجازت ملتی ہے جو کہ سنگین طبی کیسز اور ہنگامی ضروریات کے حجم کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔
غزہ مرکز برائے انسانی حقوق نے زور دے کر کہا کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے تحت نقل و حرکت اور سفر کی آزادی ہر انسان کا مسلمہ حق ہے جسے من مانی پابندیوں کے ذریعے ضبط نہیں کیا جا سکتا۔ مرکز نے واضح کیا کہ نسل کشی، تباہ کن جنگ اور ظالمانہ محاصرے کے تناظر میں اس حق کو مخصوص اور غیر شفاف انتظامات کے ذریعے منظم کرنا اس سنگین شبہ کو جنم دیتا ہے کہ یہ معاملہ محض انسانی ہمدردی کا نہیں بلکہ جبر اور محرومی کے دباؤ کے تحت آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی ایک انجینئرڈ سازش ہے۔
مرکز نے یاد دلایا کہ قابض اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر عسکری جارحیت کے ابتدائی دنوں میں ہی اپنے اس ارادے کا اظہار کر دیا تھا کہ وہ یہاں کے باشندوں کو باہر نکالنا چاہتا ہے۔ آج جب انفراسٹرکچر، گھروں، ہسپتالوں اور زندگی کے بنیادی ذرائع کو وسیع پیمانے پر تباہ کر دیا گیا ہے اور آبادی کو کل رقبے کے محض 36 فیصد حصے تک محدود کر دیا گیا ہے، جہاں مستقبل قریب یا بعید میں زندگی گزارنا ناممکن بنا دیا گیا ہے، ایسی صورتحال میں آبادی کے اخراج کے لیے ’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سہولیات‘ کی کوئی بھی بات اپنی اخلاقی اور قانونی حیثیت کھو دیتی ہے۔
مرکز نے اس بات پر زور دیا کہ امن و امان کی عدم موجودگی، پناہ گاہوں، علاج اور روزگار کے فقدان کے عالم میں وطن چھوڑنا کوئی آزادانہ انتخاب نہیں ہے بلکہ یہ اس جبری حقیقت کا براہ راست نتیجہ ہے جو قابض قوت نے مسلط کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسی زندگی کی شرائط پیدا کرنا جو شہریوں کو اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کر دیں، بین الاقوامی انسانی قانون اور نسل کشی کی روک تھام کے کنونشن کے تحت ایک ممنوعہ طرز عمل ہے جو ’جبری بے دخلی‘ کے زمرے میں آتا ہے، خواہ اسے انتظامی طریقہ کار یا تیسرے ممالک کے لیے سفری راہداریوں کا لبادہ ہی کیوں نہ پہنایا جائے۔
غزہ مرکز برائے انسانی حقوق نے مطالبہ کیا کہ جارحیت کو فوری طور پر روکا جائے اور غزہ کی پٹی کا مکمل محاصرہ ختم کیا جائے کیونکہ یہی موجودہ انسانی المیے کی بنیادی وجہ ہے، ساتھ ہی تمام مریضوں اور زخمیوں کو بغیر کسی پیچیدہ طریقہ کار یا من مانی پابندیوں کے علاج کے لیے فوری اور محفوظ سفر کا حق دیا جائے۔
مرکز نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ غزہ سے نکلنے کے کسی بھی طریقہ کار کو شفاف اور اعلانیہ معیار کے تابع کیا جائے اور یہ سب بین الاقوامی نگرانی میں ہو تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اسے غزہ کی پٹی کو اس کے باشندوں سے خالی کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔
مرکز نے عالمی برادری پر اس کی قانونی ذمہ داریوں پر زور دیا کہ وہ عام شہریوں کی حفاظت کرے، ان کی اپنی سرزمین پر بقا کے حق کو یقینی بنائے، جارحیت سے ہونے والی تباہی کی تعمیر نو کرے اور ان کی قانونی حیثیت یا قومی حقوق کو نقصان پہنچائے بغیر ان کی نقل و حرکت اور واپسی کے حق کا تحفظ کرے۔
بیان کے آخر میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ غزہ کے انسانی المیے کا حل آگ اور محاصرے کے دباؤ میں ہجرت کے دروازے کھولنا نہیں ہے، بلکہ اس المیے کی اصل وجوہات کا خاتمہ اور باشندوں کو اپنے وطن میں امن اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔
