Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں انسانی المیہ شدت اختیار کر گیا، جبری بے دخلی اور حملے جاری

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی فوجی تسلط والی پٹی سے ملحقہ علاقوں میں خوف اب کوئی احتمال نہیں بلکہ ایک روزمرہ کی تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ لاکھوں باشندے قابض اسرائیلی نشانہ بازوں کی گولیوں کے مستقل سائے میں زندگی گزار رہے ہیں، اس ہولناک منظر کو مقامی لوگ ایک کھلے فائرنگ رینج سے تشبیہ دیتے ہیں جہاں انسانی جانوں کی کوئی وقعت نہیں۔

البريج کیمپ کے ایک رہائشی محمد منصور اس سفاکیت کی منظر کشی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم مستقل اس احساس کے ساتھ جی رہے ہیں کہ جیسے ہم کسی نشانہ بازی کے میدان میں کھڑے ہوں۔ قابض اسرائیلی فوجی جب چاہتے ہیں ہم پر گولیاں برسا دیتے ہیں، ان کے نشانے پر معصوم بچے، بے بس خواتین اور یہاں تک کہ بے زبان جانور بھی ہوتے ہیں۔

آگ اور خون کے کھیل سے تسلط کی کوشش

سرحد کے ساتھ ساتھ بلند فوجی مورچے قائم ہیں جو قابض اسرائیلی نشانہ بازوں کو وسیع رینج فراہم کرتے ہیں، جس کی مدد سے وہ رہائشی محلوں کے اندر تک انسانی شکار کھیلتے ہیں۔ محمد منصور مزید بتاتے ہیں کہ گولیاں کیمپ کے وسط تک پہنچتی ہیں اور نشانہ بازوں، بکتر بند گاڑیوں اور ڈرون طیاروں سے بارش کی طرح برستی ہیں۔ دن کا کوئی بھی لمحہ ایسا نہیں جسے ہم محفوظ قرار دے سکیں۔

منظم نسل کشی اور جبری بے دخلی کا حربہ

مقامی لوگوں کی شہادتیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اس مسلسل جارحیت کا مقصد صرف قتل و غارت نہیں بلکہ فلسطینیوں کو ان کے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے۔ منصور کے بقول جب بھی فائرنگ کی جاتی ہے، ہم ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں اور جب واپس لوٹتے ہیں تو وہی سفاکیت دوبارہ شروع ہو جاتی ہے، گویا ان کا واحد مقصد ہمیں یہاں سے ہمیشہ کے لیے بے دخل کرنا ہے۔

جنگ بندی کے باوجود مسلسل ہجرت کا عذاب

دیر البلح کے مشرقی علاقوں میں بھی یہی خونی داستان دہرائی جا رہی ہے۔ ابراہیم سلیم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نام نہاد سیز فائر نے زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل ہمیں گھروں سے نکل جانے کا کہتا ہے، لیکن یہ انتباہی نوٹس کے ذریعے نہیں بلکہ گولیوں کی بوچھاڑ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ہمیں روزانہ نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ ہمیں ہجرت پر مجبور کیا جا سکے۔ ابراہیم بتاتے ہیں کہ وہ جنگ بندی کے بعد دس سے زائد مرتبہ نقل مکانی کر چکے ہیں اور ہر بار واپسی پر ان کا استقبال گولیوں سے کیا جاتا ہے۔

گھروں کی تباہی اور واپسی کی راہیں مسدود

قابض دشمن کی درندگی صرف فائرنگ تک محدود نہیں بلکہ وہ براہ راست گھروں کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ابراہیم سلیم کے مطابق گذشتہ مرتبہ نشانہ بازوں نے گھر کے اندر ایسی آتش گیر اور دھماکہ خیز گولیاں برسائیں جس سے پورا گھر جل کر راکھ ہو گیا تاکہ ہمارے لیے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہ رہے۔

بنیادی انسانی ضروریات پر کاری ضرب

روزمرہ زندگی کے بنیادی ڈھانچے، بالخصوص پانی کے ٹینکوں اور توانائی کے نظام کو منظم طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے۔ مخیم المغازی کے زکریا المسی کہتے ہیں کہ قابض اسرائیلی فوجیوں نے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کر کے پانی کے ٹینک اور شمسی توانائی کی پلیٹیں مکمل طور پر تباہ کر دیں، جن کی مرمت اب ناممکن ہے۔ وہ ہر صبح نئے ٹینکوں کو نشانہ بناتے ہیں جیسے یہ کوئی روزانہ کا کھیل ہو، جو بچوں اور خواتین کے لیے شدید خطرے کا باعث ہے۔

گریٹر اسرائیل کا خواب اور سکڑتی ہوئی زمین

فوجی تسلط کے علاقوں میں توسیع کے نتیجے میں فلسطینیوں کے لیے زمین سکڑتی جا رہی ہے، جس سے انسانی بحران سنگین تر ہو گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدامات فلسطینیوں کو ایسے تنگ علاقوں میں محصور کرنے کے لیے ہیں جہاں زندگی کی کوئی رمق باقی نہ رہے۔ گذشتہ دو ماہ کے دوران قابض اسرائیلی فوج نے یلو لائن کے علاقے کو وسعت دی ہے اور اورنج لائن کے نام سے نئے نقشے تیار کیے ہیں، جس کے بعد غزہ کی پٹی کا 64 فیصد رقبہ اب عملی طور پر قابض اسرائیل کے براہ راست کنٹرول میں چلا گیا ہے۔

مجموعی طور پر غزہ کا دو تہائی حصہ ان ممنوعہ علاقوں کے حصار میں ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار اپلائیڈ ریسرچ کے ڈائریکٹر جاد اسحاق کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے کم از کم 64 فیصد حصے پر قابض ہو چکا ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو کم سے کم جگہ پر دھکیلنا چاہتے ہیں تاکہ غزہ میں زندگی کی پائیداری ختم کر کے انہیں مکمل طور پر نکال باہر کیا جا سکے۔

سیاسی ناکامی چھپانے کی مذموم کوشش

اسرائیلی امور کے ماہر اور تجزیہ نگار عادل یاسین کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل کا بنیادی مقصد اس مرحلے پر کسی بھی معاہدے کو سبوتاژ کرنا اور دوسرے مرحلے کی ذمہ داریوں بالخصوص انخلاء سے فرار حاصل کرنا ہے۔ زمین پر ہونے والی یہ کارروائیاں انخلاء کے بجائے قبضے میں توسیع کی واضح عکاسی کرتی ہیں۔ عادل یاسین کے مطابق بنجمن نیتن یاھو کے لیے کسی بھی قسم کا انخلاء سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا، کیونکہ فوج کی واپسی کے مناظر ان کی انتخابی مہم کے لیے مہلک ثابت ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابض دشمن کی جارحانہ ذہنیت سویلین آبادی کی واپسی کو ایک براہ راست خطرہ سمجھتی ہے کیونکہ یہ ان کے اعلان کردہ مقاصد بالخصوص غزہ کے باسیوں کی نسل کشی اور جبری بے دخلی کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ یہ تمام تر اقدامات انتہا پسند دائیں بازو کے ان عزائم سے میل کھاتے ہیں جو غزہ کے کھنڈرات پر صہیونی بستیاں تعمیر کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ عادل یاسین نے زور دے کر کہا کہ یہ سب کچھ امریکی انتظامیہ کی فراہم کردہ چھوٹ کے تحت ہو رہا ہے، اور امریکہ کا واضح موقف نہ ہونا ہی اس سفاکیت اور خون ریزی کو دوام بخش رہا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan