Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ کی 86 فیصد زرعی زمین متاثر، پائیدار بحالی کے مطالبات

غزہ ٓ- (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی سینٹر برائے سیاسی مطالعات نے آج اتوار کے روز انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کی جنگ کے دوران غزہ کی پٹی میں 86 فیصد سے زائد زرعی اراضی کو مختلف نوعیت کے نقصانات پہنچے ہیں۔ مرکز نے مطالبہ کیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ محض ہنگامی امدادی کارروائیوں کے بجائے ایک پائیدار ترقیاتی وژن اپنایا جائے۔

یہ انکشافات ایک نئی اقتصادی پالیسی دستاویز میں کیے گئے ہیں جس کا عنوان سنہ 2023-2025ء کی جنگ کے بعد غزہ میں زرعی اراضی کی بحالی: خطرات کے خاتمے، بحالی کے چیلنجز اور زرعی نظام کی تعمیرِ نو کے افق کے درمیان ہے، جسے محقق خالد ابو عامر نے تیار کیا ہے۔ اس دستاویز میں زرعی شعبے کو پہنچنے والی تباہی کے ہولناک حجم پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

پالیسی پیپر میں واضح کیا گیا ہے کہ نقصانات صرف فصلوں اور بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ مٹی، پانی اور حیاتیاتی ماحول تک پھیلے ہوئے ہیں، جس نے بحالی کے عمل کو ماضی کے ادوار کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور مشکل بنا دیا ہے۔

محقق نے اشارہ کیا ہے کہ اندازوں کے مطابق 86 فیصد سے زائد زرعی اراضی متاثر ہوئی ہے، جبکہ پانی کے نظام اور لائیو سٹاک (مویشیوں) کا شعبہ بھی تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

مطالعے میں مقامی اور بین الاقوامی اداروں کے زیرِ انتظام زرعی اراضی کی بحالی کے جاری منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ زرعی مداخل، توانائی اور فنڈز کی کمی کے باعث یہ منصوبے تاحال صرف زمین کی تیاری کے مرحلے تک محدود ہیں اور پیداواری چکر مکمل نہیں ہو پا رہا۔

اس دستاویز میں غزہ میں تعمیرِ نو کے گذشتہ تجربات کا تجزیہ بھی پیش کیا گیا ہے جس سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ محاصرے کی پابندیوں، فنڈز کی کمی اور جامع ماحولیاتی علاج کی عدم موجودگی کی وجہ سے بار بار جزوی بحالی کا وہی پرانا نمط دہرایا جاتا ہے جو دوبارہ کمزوری کا باعث بنتا ہے۔

رپورٹ میں فنڈز کی شدید کمی کے حوالے سے خبردار کیا گیا ہے کیونکہ دستیاب مالی معاونت فوری ضروریات کے 10 فیصد سے بھی کم حصے کو پورا کرتی ہے، جبکہ جامع تعمیرِ نو کی لاگت 4.2 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جو کہ غزہ کی پٹی میں غذائی تحفظ کے مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

مرکز نے اس بات پر زور دیا ہے کہ زرعی نظام کی دوبارہ تعمیر اور سیاسی و ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع ترقیاتی نقطہ نظر اپنانا ضروری ہے تاکہ فلسطینی معاشرے کی پائیداری اور صمود کو تقویت مل سکے۔

یہ پالیسی پیپر تحقیقی اشاعتوں کے اس سلسلے کا حصہ ہے جس کے ذریعے مرکز جنگ کے اثرات اور تعمیرِ نو کے حوالے سے فیصلہ سازوں اور متعلقہ اداروں کو گہرے تجزیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan