مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے پیر کے روز علی الصبح مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں دھاوے بولتے ہوئے تلاشی اور گرفتاریوں کی ایک وسیع مہم شروع کی جس کے دوران فائرنگ، گھروں کی بے حرمتی اور توڑ پھوڑ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان زخمی اور املاک کو شدید نقصان پہنچا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قصبہ الرام میں علیحدگی کی دیوار کے قریب قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی نوجوان کے پیر میں گولی لگی جس سے وہ زخمی ہو گیا۔
قلقيليہ کے مشرقی قصبے کفر قدوم میں بھی غاصب فوج کی یلغار جاری رہی، جہاں قابض اہلکاروں نے شہریوں کے گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور گرفتاریوں کی مہم چلائی، جس میں اسیر شادی جمعہ کے 8 بھائیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں حزما چوکی کے قریب پتھراؤ کے نتیجے میں آباد کاروں کی ایک بس کو نقصان پہنچا، جس کے بعد قابض فوج نے قصبے کے داخلی راستوں کو بند کر دیا اور عسکری اقدامات مزید سخت کر دیے۔
الخلیل گورنری میں قابض فوج نے سعیر، الشیوخ اور بیت امر جیسے قصبوں پر دھاوا بولا اور گھروں میں گھس کر وسیع پیمانے پر تلاشی لی، اس دوران صوتی بم پھینکے گئے اور متعدد شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا جن میں ایہاب علی الفروخ اور مراد علی جرادات شامل ہیں، جبکہ ایک گاڑی بھی ضبط کر لی گئی۔
یہ جابرانہ مہم بیت لحم گورنری کے علاقوں بیت جالا اور کیسان گاؤں تک بھی پھیل گئی، اس کے علاوہ مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مشرق میں واقع شعفاط کیمپ اور رام اللہ کے شمال مشرق میں دير جریر قصبے میں بھی فوجی دستے داخل ہوئے۔
جنین گورنری میں قابض اسرائیلی فوج نے شدید فوجی تعیناتی کے سائے میں نابلس روڈ اور جبل ابو ظہیر کے علاقے میں کئی گھروں پر چھاپے مارے۔
یہ حملے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں اور بستیوں میں جاری اس مسلسل کشیدگی کا حصہ ہیں جس میں فلسطینیوں کے خلاف گرفتاریوں اور سفاکانہ تنگی کا دائرہ بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب فلسطینی عوام کی طرف سے اس ظلم اور غاصبانہ قبضے کے خلاف مزاحمت اور مقابلے کی پکار میں تیزی آ رہی ہے۔
