غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) عالمی ادارہ صحت نے مطالبہ کیا ہے کہ محصور غزہ کی پٹی میں ادویات اور بنیادی طبی سامان کی بلا تاخیر فراہمی کی اجازت دی جائے تاکہ بڑے پیمانے پر صحت کی خدمات کی دوبارہ تعمیر کا آغاز کیا جا سکے۔
یہ مطالبہ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسوس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے کیا، جس میں انہوں نے غزہ کی پٹی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر تبصرہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قابض اسرائیل نے گذشتہ دو دہائیوں سے غزہ کا محصار کر رکھا ہے جس میں گذشتہ تین سالوں کے دوران مزید سختی کر دی گئی ہے۔
گیبریسوس نے بتایا کہ عالمی ادارے نے شمالی غزہ کی پٹی میں ایک نئے فیملی ہیلتھ سنٹر کے قیام میں مدد فراہم کی ہے، جہاں صحت کی خدمات انتہائی محدود ہو چکی ہیں اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد ان تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مرکز شہریوں تک براہ راست صحت کی سہولیات پہنچانے میں معاون ثابت ہو رہا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پورے غزہ میں صحت سے متعلق ضروریات بہت زیادہ اور فوری توجہ کی طالب ہیں۔
گیبریسوس نے مطالبہ کیا کہ ادویات اور ضروری طبی سامان کو بغیر کسی رکاوٹ کے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے دیا جائے تاکہ صحت کی خدمات کی بڑے پیمانے پر بحالی کا کام شروع ہو سکے۔
عالمی عہدیدار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بنیادی ادویات کی فراہمی میں حائل بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کیا جائے اور غزہ تک رسائی پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر اٹھائی جائیں۔
قابض اسرائیل نے سنہ 2007ء سے غزہ کی پٹی کا محاصرہ کر رکھا ہے، اور اب غزہ کے تقریباً 2.4 ملین فلسطینیوں میں سے 1.5 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں کیونکہ صہیونی نسل کشی کی جنگ نے ان کے گھروں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔
جنگ بندی کا معاہدہ اس نسل کشی کے دو سال بعد طے پایا جو قابض اسرائیل نے امریکہ کی حمایت سے سات اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع کی تھی، جس کے نتیجے میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 72 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
اس کے باوجود، قابض اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر محاصرے اور بمباری کے ذریعے نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے قیمتی جانوں کا زیاں ہو رہا ہے۔ صہیونی دشمن غزہ میں خوراک، ادویات، طبی سامان اور پناہ گاہوں کے لیے ضروری مواد کی وافر مقدار میں فراہمی کو روک رہا ہے، جہاں 1.5 ملین بے گھر افراد سمیت 2.4 ملین فلسطینی انتہائی تباہ کن اور ہولناک حالات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔
