نیو یارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں نام نہاد نارنجی لکیر (اورنج لائن) قائم کر کے اپنے غاصبانہ قبضے کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے، جس کے ذریعے اس پیلی لکیر (یلو لائن) کی حدود کو پھیلا دیا گیا ہے جو پٹی میں اسرائیلی کنٹرول کے علاقوں کو الگ کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے بتایا کہ عالمی ادارے کے پاس ایسے نقشے موجود ہیں جن میں ایک اور رنگین لکیر شامل ہے جسے نارنجی لکیر کا نام دیا گیا ہے، یہ نقشہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے والے فعال عالمی عملے کو فراہم کیا گیا ہے۔
دوجارک نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کو مطلع کیا گیا ہے کہ انسانی امدادی ٹیمیں نارنجی لکیر عبور کرتے وقت قابض اسرائیل کے ساتھ پہلے سے کوآرڈینیشن کرنے کی پابند ہوں گی، انہوں نے مزید کہا کہ یہ مطالبہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ جو علاقے ہمارے لیے غیر محفوظ تصور کیے جاتے ہیں وہ تشویش کا باعث ہیں۔
عالمی ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ وہ حال ہی میں وضع کی گئی اس نارنجی لکیر کے معاملے کو مزید واضح کرنے کے لیے قابض اسرائیل کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں، انہوں نے اشارہ کیا کہ غزہ میں شہری ان لکیروں کے گرد و نواح میں انتہائی کٹھن حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
دوجارک نے غزہ میں پیلی لکیر کو لفظی اور استعاری معنوں میں ایک ایسا اشارہ قرار دیا کہ معاملات درست سمت میں نہیں جا رہے ہیں۔
قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے امدادی تنظیموں کے ساتھ شیئر کیے گئے ایک نقشے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے پیلی لکیر کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے جو کہ غزہ کی پٹی کے 53 فیصد حصے پر محیط تھی، اور اب نارنجی لکیر بنا کر فلسطینیوں کو ایک انتہائی تنگ جگہ میں محصور کر دیا گیا ہے۔
پیلی لکیر غزہ کی پٹی کے اندر ایک فرضی لکیر ہے جہاں جنگ بندی کے تحت اسرائیلی فوج عارضی طور پر پیچھے ہٹی تھی تاکہ بعد میں مزید انخلاء کیا جا سکے، یہ لکیر اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول علاقوں اور ان علاقوں کے درمیان فرق کرتی ہے جہاں فلسطینیوں کو موجودگی کی اجازت ہے۔
سنہ 17 فروری کو قابض اسرائیل کے وزیر جنگ یسرائيل کاٹز نے کہا تھا کہ قابض اسرائیل غزہ میں پیلی لکیر سے ایک ملی میٹر بھی پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک کہ حماس کو غیر مسلح نہ کر دیا جائے۔
پیلی لکیر کے تحت فلسطینیوں کو غزہ کے محض 47 فیصد رقبے تک محدود کر دیا گیا تھا اور اب اس نئی نارنجی لکیر کے ساتھ ان کی مزید 11 فیصد زمین قابض اسرائیل کے زیر تسلط آ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ انہیں اب پوری غزہ کی پٹی کے محض 36 فیصد حصے میں محصور کر دیا گیا ہے۔
اکتوبر سنہ 2025ء میں حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے ضمن میں اس لکیر تک پیچھے ہٹنے کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوج اس لکیر کو عبور کرنے کے بہانے درجنوں فلسطینیوں کو شہید کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔
یہ معاہدہ اس نسل کشی کے دو سال بعد طے پایا تھا جو قابض اسرائیل نے امریکہ کی سرپرستی میں آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع کی تھی، جس کے نتیجے میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 72 ہزار سے زائد زخمی ہوئے، اس کے علاوہ شہری انفراسٹرکچر کا 90 فیصد حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا جس کی تعمیر نو کی لاگت کا تخمینہ اقوام متحدہ نے تقریباً 70 ارب ڈالر لگایا ہے۔
