Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

غزہ کے لیے امدادی فلوٹیلا روانہ، اقوام متحدہ کا مؤقف سامنے آگیا

نیویارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے ترجمان ثمین الخیطان نے گلوبل صمود فلوٹیلا کی روانگی کے موقع پر قابض اسرائیلی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ زندگی کی بنیادی ضروریات پر عائد تمام پابندیاں ختم کریں اور غزہ کی پٹی تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی رسائی کی اجازت دیں۔

ثمین الخیطان کے یہ بیانات جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں منعقدہ ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران سامنے آئے۔

غزہ کی پٹی تک امداد پہنچانے کے لیے اٹلی سے فلوٹیلا کی دوبارہ روانگی اور گذشتہ برس بحری جہازوں کو روکے جانے اور کارکنوں پر ہونے والے حملوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ قابض اسرائیل ایک غاصب قوت ہونے کے ناطے اس بات کا پابند ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی بنیادی ضروریات پوری کرے اور انسانی امداد کے داخلے اور اس کے بہاؤ پر عائد پابندیوں کے خاتمے کو یقینی بنائے۔

انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ غزہ کی پٹی میں صورتحال اب بھی انتہائی سنگین ہے جہاں پینے کے صاف پانی، خوراک اور کھانا پکانے والی گیس سمیت دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت برقرار ہے۔

اسی تناظر میں اتوار کے روز اٹلی کے جزیرے صقلیہ سے گلوبل صمود فلوٹیلا کے مشن ربیع سنہ 2026ء کے جہاز تمام تر تیاریوں کی تکمیل کے بعد روانہ ہوئے، جن کا مقصد غزہ کی پٹی پر مسلط ظالمانہ محاصرے کو توڑنا اور انسانی امداد پہنچانا ہے۔

گلوبل صمود فلوٹیلا ایک شہری اقدام ہے جس کا آغاز سنہ 2025ء میں مختلف ممالک کی سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندوں، سماجی کارکنوں اور رضاکاروں نے غزہ کی پٹی تک انسانی امداد پہنچانے کے لیے کیا تھا۔

فلوٹیلا کے جہاز 12 اپریل سنہ 2026ء کو ہسپانوی شہر بارسلونا سے روانہ ہوئے تھے اور اسی ماہ کی 23 تاریخ کو صقلیہ پہنچے جہاں بعد ازاں اطالوی شہروں سیراکوزا اور اوگوستا سے مزید جہاز اور کارکن ان میں شامل ہو گئے۔

یہ اقدام ستمبر سنہ 2025ء کے تجربے کے بعد اپنی نوعیت کی دوسری کوشش ہے، جس کا اختتام اکتوبر سنہ 2025ء میں اس وقت ہوا تھا جب قابض اسرائیل نے بین الاقوامی پانیوں میں بحری جہازوں پر حملہ کر کے سینکڑوں بین الاقوامی کارکنوں کو گرفتار کرنے کے بعد ملک بدر کر دیا تھا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan