نیویارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکہ کی سابق نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین نے قابض اسرائیلی حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کی پالیسیوں کو غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے امریکہ پر اس سنگین جرم میں برابر کا شریک ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
وینڈی شرمین نے بلومبرگ نیٹ ورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں واشگاف الفاظ میں کہا کہ بنجمن نیتن یاھو کی پالیسیاں غزہ کی پٹی میں نسل کشی اور مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا باعث بنی ہیں اور امریکہ اس پورے عمل کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی پالیسی کئی پہلوؤں سے قابض اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں جکڑی ہوئی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ان تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔
شرمین کے ان بیانات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وہ ایک تجربہ کار سفارت کار رہی ہیں اور سابق صدر براک اوباما کے دور میں نائب وزیر خارجہ کے منصب پر فائز تھیں۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب موجودہ امریکی انتظامیہ کو غزہ کی پٹی میں انسانی جانوں کے بھاری زیاں اور وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی کے باوجود قابض اسرائیل کی مسلسل فوجی اور سیاسی حمایت پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی سطح پر یہ مطالبات زور پکڑ رہے ہیں کہ تل ابیب کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کی جائے اور اسے بین الاقوامی قوانین کے احترام سے مشروط کیا جائے۔
وزارت صحت کے ایک بیان کے مطابق قابض اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کے نفاذ کی تاریخ سے اب تک 817 فلسطینیوں کو شہید اور 2296 کو زخمی کر دیا ہے۔
یہ معاہدہ نسل کشی کی اس دو سالہ طویل جنگ کے بعد طے پایا تھا جس کا آغاز قابض اسرائیل نے امریکی سرپرستی میں 8 اکتوبر سنہ 2023ء کو کیا تھا۔ یہ وحشیانہ جنگ بعد ازاں مختلف شکلوں میں جاری رہی جس کے نتیجے میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ 1 لاکھ 72 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس سفاکیت نے غزہ کی پٹی کے 90 فیصد سویلین بنیادی ڈھانچے کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔
