Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

مصری فوج کی مشقوں پر اسرائیلی سرکاری رابطے، میڈیا میں تشویش

تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مصری فوج نے جزیرہ نما سینا میں قابض اسرائیل کی سرحد کے قریب لائیو ایمونیشن کے ساتھ فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے، اس اقدام نے قابض اسرائیل کے سیاسی اور میڈیا حلقوں میں وسیع تر ارتعاش پیدا کر دیا ہے، اگرچہ سرکاری طور پر دونوں جانب سے سکیورٹی رابطے کی تصدیق کی گئی ہے۔

قابض اسرائیل کے میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ مشقیں سرحدی باڑ سے محض 100 سے 200 میٹر کے فاصلے پر کی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے تل ابیب میں سیاسی اور سکیورٹی حکام نے اس معاملے کو بحث کے لیے پیش کر دیا ہے، جبکہ سرحدی علاقوں میں مقیم صہیونی آباد کاروں نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، دوسری جانب قابض اسرائیل کی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ یہ سرگرمیاں قاہرہ کے ساتھ کوآرڈینیشن کے تحت انجام پا رہی ہیں۔

یہ بحث ایک ایسے وسیع تناظر میں سامنے آئی ہے جہاں غزہ کی پٹی پر مسلط کی جانے والی نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے دونوں فریقین کے درمیان تناؤ کی لہریں اٹھ رہی ہیں، اس سے قبل بھی کئی رپورٹس میں محورِ فیلاڈیلفیا (صلاح الدین راہداری) پر کسی بھی اسرائیلی کنٹرول کے نتائج سے خبردار کیا گیا تھا اور اسے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے تحت سکیورٹی انتظامات کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔

سینا میں پیچیدہ سکیورٹی صورتحال

تاریخی طور پر جزیرہ نما سینا میں فوجی تعیناتی امن معاہدے کے سکیورٹی ضمیمہ کے تحت سخت پابندیوں کی حامل ہے، جو اس خطے کو فوج کی تعداد اور معیار کے لحاظ سے مخصوص زونز میں تقسیم کرتا ہے، تاہم گذشتہ برسوں کے دوران سینا میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے پیش نظر ان انتظامات میں غیر رسمی ترامیم دیکھی گئی ہیں۔

رپورٹس بتاتی ہیں کہ سنہ 2014ء سے قابض اسرائیل کی مقتدرہ نے مسلح تنظیموں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے فریم ورک کے تحت بعض علاقوں میں مصری فوج کی موجودگی میں اضافے کی اجازت دی تھی، جسے منسوبہ خلاف ورزیوں کا نام دیا گیا تھا، اس میں اضافی فوج کی شمولیت اور ان علاقوں میں فضائیہ کا استعمال بھی شامل تھا جہاں پہلے پابندی تھی۔

دیگر رپورٹس حالیہ برسوں کے دوران سینا میں مصری افواج کی تعیناتی میں نمایاں توسیع کی نشاندہی کرتی ہیں، جو قابض اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ مسلسل سکیورٹی رابطے کے نتیجے میں دسیوں ہزار فوجیوں تک پہنچ چکی ہے، اگرچہ اس بات پر بحث جاری ہے کہ یہ اقدامات اصل معاہدے کی شقوں سے کس حد تک ہم آہنگ ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی حلقے وقتاً فوقتاً قاہرہ پر فوجی پابندیوں سے تجاوز کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں، وہ ان رپورٹس کا حوالہ دیتے ہیں جن میں بکتر بند گاڑیوں کی موجودگی اور سینا میں مکمل رابطے کے بغیر فوجی انفراسٹرکچر کی توسیع کا ذکر کیا گیا ہے، جسے قابض اسرائیل کی فوج معاہدے کی خلاف ورزی سمجھتی ہے، جبکہ قاہرہ ان دعوؤں کی تردید کرتا ہے یا یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ یہ سب کچھ موجودہ سکیورٹی تفہیم کے تحت ہو رہا ہے۔

تاہم یہ بیانیہ ایک پیچیدہ میدانی حقیقت سے جڑا ہوا ہے جہاں دونوں جانب سے سکیورٹی رابطے کے ذرائع برقرار ہیں، بشمول سرحدی علاقوں میں فوجی تعیناتی اور آپریشنز کے حوالے سے کوآرڈینیشن، جو اس تعلق میں ایک خاص قسم کی دوغلی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے: ایک طرف قائم سکیورٹی تعاون ہے تو دوسری طرف بڑھتا ہوا سیاسی اور میڈیا تناؤ۔

سیاسی خوردبین کے نیچے فوجی مشقیں

اس تناظر میں مصری فوجی مشقیں کوئی الگ تلگ واقعہ نظر نہیں آتیں بلکہ یہ اس وسیع تر منظر نامے کا حصہ ہیں جو مصری فوجی نقل و حرکت کے حوالے سے قابض اسرائیل کی بڑھتی ہوئی حساسیت کو ظاہر کرتی ہے، خاص طور پر سات اکتوبر سنہ 2023ء کے حملے کے بعد پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات کے سائے میں۔

جبکہ قابض اسرائیل کی سرکاری سطح پر یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ یہ مشقیں معمول کی کارروائی اور منسوبہ ہیں، سیاسی اور میڈیا بیانیہ انہیں ایک تشویشناک اشارے کے طور پر پیش کر رہا ہے، جس سے سینا میں سکیورٹی انتظامات کے مستقبل اور امن معاہدے کی حدود پر نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

یہ پیش رفت قائم سکیورٹی تعاون اور باہمی شکوک و نبہات کے درمیان ایک نازک توازن کو بے نقاب کرتی ہے، ایک ایسے کشیدہ علاقائی ماحول میں جہاں کسی بھی فوجی حرکت کو، خواہ وہ منسوبہ ہی کیوں نہ ہو، ایسے سیاسی اور سکیورٹی پیمانے پر پرکھا جاتا ہے جو اس کی فوری نوعیت سے کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan