Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

غزہ محاصرہ توڑنے کے لیئے فلوٹیلا 2026 کا آغاز

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی پر مسلط ظالمانہ اسرائیلی حصار کو پاش پاش کرنے اور محصور و مظلوم فلسطینی بہن بھائیوں تک انسانی امداد پہنچانے کے عظیم مقصد کے لیے گلوبل صمود فلوٹیلا کے مشن ربیع سنہ 2026ء نے اتوار کے روز اٹلی کے جزیرے صقلیہ سے اپنے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔

فلوٹیلا کے ذرائع کے مطابق یہ بحری جہاز 23 اپریل سنہ 2026ء کو صقلیہ پہنچے تھے جہاں بعد ازاں اٹلی کے شہروں سیراکوزا اور اوغوستا سے مزید جہاز اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ان کے ہمراہی بنے۔ اس سے قبل یہ قافلہ 12 اپریل سنہ 2026ء کو ہسپانیہ کے شہر بارسلونا سے روانہ ہوا تھا۔

اوغوستا کی بندرگاہ پر فلوٹیلا میں شامل کشتیوں کی تعداد 65 تک پہنچ گئی، جس کے بعد بندرگاہ سے روانگی کے تمام ضروری طریقہ کار مکمل کیے گئے اور شرکاء ایک طے شدہ نظام کے تحت سہ پہر کے وقت بحیرہ روم کی لہروں کو چیرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب گامزن ہو گئے۔

سمندر کے بیچوں بیچ ان بحری جہازوں کا استقبال اس مہم کی حامی تنظیم گرین پیس کے ایک جہاز نے کیا جس نے اس انسانی مشن کو خوش آمدید کہا۔

بندرگاہ سے روانگی کے وقت کارکنوں نے فلسطین کی آزادی کے حق میں پرجوش نعرے بلند کیے اور مشعلیں روشن کیں، جبکہ ایک دوسرے کو الوداع کہتے ہوئے سب کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا کہ اب غزہ میں ملاقات ہو گی۔

بارسلونا سے اس مہم کا حصہ بننے والے ترک کارکن علی دنيز نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ ہم اس وقت اٹلی پہنچ چکے ہیں، یہاں بھی وہی جوش و خروش ہے جو ہم نے ہسپانیہ میں دیکھا تھا۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ قافلہ غزہ کی بندرگاہ تک پہنچنے میں ضرور کامیاب ہو گا اور وہاں کے معصوم بچوں سے ملاقات کرے گا۔

اطالوی سماجی کارکن مارٹینا نے اس موقع پر کہا کہ فلسطینی عوام غیر معمولی مزاحمت کی مثال قائم کر رہے ہیں اور اس بیڑے میں شامل شرکاء کا کردار صرف اس عظیم قوم کی خدمت کرنا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومتیں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہیں، اسی لیے کارکنوں نے اتنی بڑی تعداد میں بحری جہازوں کے ساتھ خود حرکت میں آنے کا فیصلہ کیا۔

جرمنی سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ نوجوان کارکن ٹوم نے بتایا کہ وہ اس مشن کے سب سے کم عمر شرکاء میں سے ایک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس مہم میں شامل ہونے پر ان کے اپنے ملک کے اس موقف نے مجبور کیا جو فلسطین میں جاری مظالم میں برابر کا شریک دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ناانصافی اور انسانی حقوق کی پامالی کسی صورت قابل قبول نہیں، آج دنیا کی آنکھوں کے سامنے ایک پوری قوم کی نسل کشی کی جا رہی ہے جسے دیکھ کر اب مزید خاموش رہنا ممکن نہیں تھا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan