غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنوبی غزہ کی پٹی میں طبی ریلیف کے ڈائریکٹر بسام زقوت نے نظامِ صحت کی غیر معمولی ابتری پر خبردار کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یہ نظام اب محض ایک ظاہری ڈھانچے کی صورت میں کام کر رہا ہے جس میں روح نام کی کوئی چیز باقی نہیں بچی۔ وسیع پیمانے پر تشخیصی عمل کی معطلی اور عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے بنیادی طبی خدمات کی فراہمی میں شدید رکاوٹیں حائل ہیں۔
بسام زقوت نے صحافتی بیانات میں واضح کیا کہ قابض اسرائیل کی حکام کی جانب سے طبی سامان کی فراہمی پر عائد کردہ پابندیوں نے شعبہ صحت کو کم ترین سطح کے ایک ایسے نظام میں بدل دیا ہے جو صرف ہنگامی اور عارضی حل پر انحصار کر رہا ہے۔ ایک طرف معمولی نوعیت کے اوزار لانے کی اجازت دی جاتی ہے تو دوسری طرف انتہائی اہم اور خصوصی آلات پر سخت پابندی ہے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ اس تلخ حقیقت کی وجہ سے بیماریوں کی تشخیص کی صلاحیت تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے کیونکہ دل کی دھڑکن چیک کرنے والی مشینیں (ای سی جی)، ہارمونز کے ٹیسٹ اور کینسر کی جلد تشخیص کرنے والے بنیادی آلات غائب ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ادویات کا بھی شدید بحران ہے جس میں دائمی امراض کی ادویات کی عدم دستیابی اور اینٹی بائیوٹکس سمیت کینسر کی ادویات کی بھاری قلت شامل ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ طبی عملہ انتہائی محدود اختیارات کے ساتھ مریضوں کا علاج کرنے پر مجبور ہے کیونکہ علاج کے مکمل مراحل کی کڑیاں غائب ہو چکی ہیں جس کا براہ راست اثر فراہم کی جانے والی طبی خدمات کے معیار پر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے بگڑتے ہوئے معاشی و سماجی حالات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین ماحولیاتی اور صحت کے خطرات سے بھی آگاہ کیا۔ صاف پانی کی قلت، کچرے کے ڈھیر اور پناہ گزین مراکز میں حد سے زیادہ ازدحام وہ عوامل ہیں جو بیماریوں اور وباؤں کے پھیلاؤ کا پیش خیمہ ثابت ہو رہے ہیں جن پر قابو پانا موجودہ کمزور طبی وسائل کے باعث انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
اسی تناظر میں غزہ کی وزارت صحت کے انڈر سیکرٹری ماہر شامیہ نے بھی طبی مراکز کی تباہی اور بنیادی خدمات کی کمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطرات مقامی آبادی کی زندگیوں کو بری طرح گھیرے ہوئے ہیں۔
وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق نسل کشی کی اس جنگ کے آغاز سے اب تک 1800 سے زائد طبی مراکز کو تباہ کیا جا چکا ہے جبکہ شعبہ صحت کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ تقریباً 1.4 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
یہ انتباہات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ حصار اور فوجی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ اگرچہ اکتوبر سنہ 2025ء میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود بمباری اور روزانہ کی بنیاد پر فلسطینیوں کی شہادتوں کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔
