Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں پینے کے پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں آبی بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر پانی کی معمولی مقدار حاصل کرنے کے لیے فلسطینیوں کو اذیت ناک جدوجہد کا سامنا ہے اور فی کس دستیاب پانی کی مقدار خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔

العربی الجدید اخبار کے مطابق غزہ شہر کے وسط میں قائم بے گھر افراد کے کیمپوں میں سینکڑوں فلسطینی روزانہ پانی کے ٹرکوں کے سامنے قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنے چھوٹے گیلن بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی تھکا دینے والا عمل ہے جو انہیں اپنی کم از کم ضروریات پوری کرنے کے لیے دن میں کئی بار دہرانا پڑتا ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایک ٹرک میں صرف 10 ہزار لیٹر پانی ہوتا ہے جو دو ایسے کیمپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں سے ہر ایک میں 800 سے زائد بے گھر افراد مقیم ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ فی کس مقدار 10 لیٹر سے بھی کم ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی سفارش کردہ مقدار 50 سے 100 لیٹر فی کس ہے۔ یہ معمولی مقدار حاصل کرنے کے لیے بھی شدید گرمی میں گھنٹوں طویل قطاروں میں انتظار کرنا پڑتا ہے اور پھر اسے دور دراز علاقوں تک لے جانے کی صعوبت برداشت کرنی پڑتی ہے۔

سپلائی میں کمی اور میدانی خطرات

غزہ شہر میں پانی کے بیشتر کنوؤں کی تباہی کے بعد پانی کی دستیابی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ غزہ میونسپلٹی نے شہریوں کو تقریباً 1300 پمپس استعمال کرنے کی ترغیب دی ہے، تاہم صرف 35 کنویں ہی فعال ہو سکے ہیں۔ جنگ سے قبل واٹر نیٹ ورک روزانہ ایک لاکھ مکعب میٹر پانی فراہم کرتا تھا، جس میں 70 ہزار کنوؤں سے، 20 ہزار قابض اسرائیل کی واٹر کمپنی مکروت سے اور 10 ہزار شمالی غزہ میں واقع ڈی سیلینیشن پلانٹ سے حاصل ہوتے تھے، جو اب تباہ ہو چکا ہے۔

غزہ میونسپلٹی کے ڈائریکٹر برائے منصوبہ بندی و سرمایہ کاری ماہر سالم کے مطابق اب یومیہ دستیابی 35 ہزار مکعب میٹر سے زیادہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فی کس مقدار جنگ سے قبل 80 لیٹر تھی جو اب 10 لیٹر سے بھی کم رہ گئی ہے اور بعض اوقات تو صرف 2 لیٹر تک گر جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حی النصر الغربی، شمالی کیمپ الشاطئ اور تل الہویٰ سمیت کئی علاقے پانی کی مکمل بندش کا شکار ہیں، جبکہ شہر کے وسطی علاقے بھی مکروت کی سپلائی بند ہونے اور آبادی کے شدید دباؤ کے باعث متاثر ہیں۔

متاثرین کی گواہیاں

اسماعیل ابو عودہ نامی رہائشی کا کہنا ہے کہ کیمپ میں پانی کا ٹرک ہی واحد ذریعہ ہے، لیکن اس سے ملنے والی مقدار اس کے سات رکنی خاندان کے لیے ایک دن کے لیے بھی کافی نہیں ہوتی۔ ٹرک ڈرائیور اشرف الکفارنہ کے مطابق پانی کی فراہمی کا عمل انتہائی خطرناک ہے کیونکہ یہ قابض فوج کے ٹھکانوں کے قریب ہوتا ہے، جہاں ڈرائیوروں پر کسی بھی وقت فائرنگ یا بمباری ہو سکتی ہے۔

ام زیاد عابد نامی 63 سالہ خاتون اپنے پوتوں کے لیے پانی لانے کی مشکلات بیان کرتی ہیں کہ پانی فلٹر شدہ نہیں اور بچوں میں بیماریوں کا سبب بن رہا ہے، لیکن یہ واحد دستیاب آپشن ہے۔ رپورٹ میں پانی کے ٹرکوں پر حملوں کا بھی ذکر ہے، جس میں ایک ہفتہ قبل پانی بھرتے ہوئے ایک ڈرائیور اور اس کے بھائی کو شہید کر دیا گیا، جس سے کیمپوں میں پیاس کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔

طویل بحران

تل الہویٰ اور سٹریٹ 8 جیسے علاقوں میں بھی پانی کی شدید قلت اور کھارے پن کا سامنا ہے۔ مواصی خانیونس میں، جہاں واٹر نیٹ ورک موجود ہی نہیں، بے گھر افراد محدود پمپس پر انحصار کرتے ہیں جو روزانہ صرف ایک گھنٹہ چلتے ہیں تاکہ 2500 لوگوں کے کیمپ کی ضروریات پوری ہو سکیں، جس سے ہر خاندان کو ملنے والا حصہ محدود ہو جاتا ہے۔ القاصدیہ کیمپ کے ایک منتظم کے مطابق ایک خاندان کو مختلف ضروریات کے لیے صرف 60 لیٹر پانی ملتا ہے، جبکہ پینے کا پانی ہفتے میں صرف دو بار ٹرکوں کے ذریعے آتا ہے۔

ان حالات میں بے گھر فلسطینی پانی کے استعمال کو انتہائی حد تک محدود کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس بحران کے جاری رہنے سے سنگین طبی و انسانی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan