(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایمنسٹی انٹرنیشنل میں یورپی اداروں کے دفتر کی ڈائریکٹر ایو گیڈی نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل کے ساتھ اپنی شراکت داری فوری طور پر ختم کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین اور لبنان میں تل ابیب کی حالیہ پالیسیوں نے یورپی یونین کی جانب سے مقرر کردہ تمام سرخ لکیریں عبور کر لی ہیں۔
منگل کے روز یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل، جس میں قابض اسرائیل پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے غور کیا جانا ہے، ایو گیڈی نے اناطولیہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین پہلے ہی اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ قابض اسرائیل نے دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے شراکت داری کے معاہدے کی دوسری شق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے، جو انسانی حقوق کے احترام سے متعلق ہے۔
قابض اسرائیل اور یورپی یونین کے درمیان شراکت داری کا یہ معاہدہ دونوں فریقین کے تعلقات کا بنیادی قانونی فریم ورک ہے۔ اس پر 20 نومبر سنہ 1995ء کو برسلز میں دستخط ہوئے تھے اور یہ یکم جون سنہ 2000ء کو نافذ العمل ہوا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد آزاد تجارت کا فروغ اور معاشی و سائنسی تعاون تھا، تاہم اس کی شق نمبر دو واضح کرتی ہے کہ یہ تمام تعلقات انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کے احترام پر مبنی ہوں گے، جو اس معاہدے کا لازمی جزو ہیں۔
ایو گیڈی نے اشارہ کیا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت کے قانون کی منظوری اور لبنان پر حملوں میں تیزی دراصل اس کی سفاکیت کے وسیع تر تناظر کا حصہ ہے۔ ان جرائم میں غزہ کی پٹی میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری مسلسل غاصبانہ قبضہ شامل ہیں۔ انہوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض یورپی رہنماؤں کی جانب سے بنجمن نیتن یاھو کی حمایت، جو کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو مطلوب ہے، دراصل مجرموں کو سزا سے بچانے کی پالیسی کا عکاس ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یورپی یونین کو صہیونی مظالم کے شکار مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ 30 مارچ سنہ 2026ء کو اسرائیلی کنیسٹ نے ایک ایسا ظالمانہ قانون منظور کیا جس کے تحت فلسطینی اسیران کو سزائے موت دی جا سکے گی۔ اس وقت قابض صہیونی عقوبت خانوں میں 9600 سے زائد فلسطینی اسیران قید ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ انسانی حقوق کی رپورٹوں کے مطابق ان اسیران کو بدترین تشدد، بھوک اور طبی غفلت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے باعث اب تک درجنوں اسیران جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔
غزہ کی پٹی میں دو سال تک جاری رہنے والی نسل کشی کی جنگ کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا ہے۔ قابض اسرائیل نے امریکہ کی بھرپور حمایت کے ساتھ 8 اکتوبر سنہ 2023ء کو یہ خونی کھیل شروع کیا تھا، جس میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 172 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ اس وحشیانہ جارحیت میں غزہ کا 90 فیصد بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی قابض فوج اور انتہا پسند آباد کاروں کی سفاکیت جاری ہے، جہاں اب تک 1150 فلسطینی شہید اور 22 ہزار کے قریب گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
ایو گیڈی کے مطابق یورپی رائے عامہ اب قابض اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یورپی شہریوں نے اب بس کہہ دی ہے اور وہ انصاف اور احتساب کے خواہاں ہیں۔ یورپی شہریوں کی ایک مہم کے تحت محض تین ماہ میں دس لاکھ سے زائد دستخط جمع کیے جا چکے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اب جرمنی اور اٹلی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے تاکہ ان کے موقف میں تبدیلی لائی جا سکے، کیونکہ شراکت داری معاہدے کی معطلی کے لیے ان ممالک کا ووٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان پر حالیہ حملوں کے بعد بعض یورپی ممالک کے رویے بدلے ہیں اور فرانس اب معاہدے پر نظرثانی کے لیے زیادہ آمادہ نظر آتا ہے۔ اسی طرح جرمنی میں بھی سول سوسائٹی کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اٹلی نے بھی قابض اسرائیل کے ساتھ سنہ 2003ء سے جاری دفاعی تعاون کے معاہدے کی خودکار تجدید معطل کر کے ایک اہم اشارہ دیا ہے۔
ایو گیڈی نے خبردار کیا کہ اگر یورپی یونین نے قابض اسرائیل کے خلاف کارروائی نہ کی تو اس سے بین الاقوامی قانون کی ساکھ اور خود یورپی یونین کے اپنے اصولوں کو شدید نقصان پہنچے گا، جس کا اثر یوکرین جیسے دیگر عالمی معاملات پر بھی پڑے گا۔
