مقبوضہ بیت المقدس(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے پوری غزہ پٹی پر اسرائیلی قبضے اور فلسطینی آبادی کی نقل مکانی کی حمایت کرتے ہوئے غزہ کے مستقبل سے متعلق اپنے سخت گیر مؤقف کا ایک بار پھر اظہار کیا ہے۔
اسرائیلی انتخابی مہم کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بن گویر نے کہا کہ ان کی خواہش صرف غزہ میں سابق اسرائیلی بستیوں کی بحالی تک محدود نہیں بلکہ وہ پوری غزہ پٹی پر اسرائیلی کنٹرول چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کا خواب غزہ کو فتح کرنا یا ان کے الفاظ میں اسے آزاد کرانا ہے، کیونکہ وہ پورے علاقے کو اسرائیل کی ملکیت سمجھتے ہیں۔ ہسپانوی خبر رساں ادارے یوروپا پریس نے بھی 12 اکتوبر کو ان کے بیان کی تفصیلات شائع کی ہیں۔
بن گویر نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم فلسطینی اتھارٹی کے خاتمے کی خواہش بھی ظاہر کی اور اسے دہشت گردی کی حمایت کرنے والا ادارہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں دوبارہ بھرپور فوجی کارروائی ہونی چاہیے جبکہ علاقے پر مکمل اسرائیلی کنٹرول کے ساتھ فلسطینیوں کی نقل مکانی کی حوصلہ افزائی بھی کی جانی چاہیے۔
18 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی منتقلی کا منصوبہ
بن گویر کے تازہ مؤقف کو ان کے پہلے پیش کردہ منصوبے کا تسلسل سمجھا جارہا ہے۔ 3 ستمبر کو انہوں نے تقریباً سات سال کے عرصے میں 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزہ سے منتقل کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔
اس منصوبے کے مطابق پہلے سال ڈھائی لاکھ، تین سال میں 11 لاکھ 10 ہزار جبکہ سات سال میں مجموعی طور پر 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کی منتقلی کا ہدف تجویز کیا گیا تھا۔ بن گویر نے اس عمل کو ’’رضاکارانہ ہجرت‘‘ کا نام دیا، تاہم انسانی حقوق کے مبصرین نے جنگ، تباہی، بنیادی سہولتوں کی کمی اور بڑے پیمانے پر بے گھری کے ماحول میں ایسی نقل مکانی کو حقیقی معنوں میں رضاکارانہ قرار دینے پر سوالات اٹھائے ہیں۔
تجویز میں فلسطینیوں کو قبول کرنے والے ممالک کے ساتھ ممکنہ معاہدوں، مالی مراعات اور نقل مکانی کے لیے ایک الگ سرکاری ادارے کے قیام کی بات بھی شامل تھی۔
غزہ میں سابق اسرائیلی بستیوں کی بحالی
اسرائیلی وزیر نے غزہ میں سابق اسرائیلی بستیوں، خصوصاً گوش قطیف، کو دوبارہ آباد کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔ اسرائیل نے 2005 میں غزہ سے اپنی آبادیاں اور فوجی تنصیبات واپس لے لی تھیں، تاہم اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے بعض سیاست دان ان بستیوں کی بحالی کی حمایت کرتے رہے ہیں۔
بن گویر کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا سیاسی مطالبہ صرف سابق اسرائیلی بستیوں کی بحالی تک محدود نہیں بلکہ پوری غزہ پٹی پر اسرائیلی کنٹرول اور فلسطینی آبادی کی منتقلی تک پھیلا ہوا ہے۔
فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا قانونی پہلو
بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت مقبوضہ علاقے سے شہری آبادی کی جبری منتقلی یا بے دخلی ممنوع ہے، البتہ محدود حالات میں شہریوں کی حفاظت یا ناگزیر فوجی ضرورت کے تحت عارضی انخلا کی اجازت ہوسکتی ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے غزہ سے فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر منتقلی کی تجاویز پر پہلے ہی تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر جنگ، بنیادی سہولتوں کی تباہی یا دیگر حالات کے نتیجے میں شہریوں کے پاس علاقہ چھوڑنے کے سوا کوئی حقیقی راستہ باقی نہ رہے تو ایسی نقل مکانی کو محض ’’رضاکارانہ‘‘ قرار دینا قانونی حیثیت کے سوال کو ختم نہیں کرتا۔
اسرائیلی انتخابات سے قبل سخت گیر بیانیہ
بن گویر کا تازہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں 27 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان کی جماعت یہودی طاقت غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے سے متعلق سخت گیر پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے۔
تاہم بن گویر کے بیانات کو اسرائیلی حکومت کے کسی نئے باضابطہ اور منظور شدہ منصوبے کے برابر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسرائیل کے اندر بھی فلسطینیوں کی نقل مکانی اور غزہ میں دوبارہ اسرائیلی آبادکاری کی تجاویز پر سیاسی اختلاف موجود ہے۔
بن گویر کے تازہ مؤقف نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اسرائیلی سیاست کے انتہائی دائیں بازو کے ایک اہم حصے میں غزہ کے مستقبل کو فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کے بجائے مکمل اسرائیلی کنٹرول اور آبادی کی منتقلی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے، جبکہ ایسے کسی منصوبے پر عمل درآمد بین الاقوامی قانون، شہریوں کے تحفظ اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق سے متعلق سنگین سوالات پیدا کرے گا۔