Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

خلیل الحیہ کو دھمکیاں، خطے میں کشیدگی بڑھانے کے پیچھے نیتن یاہو کے سیاسی مفادات

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جیسے جیسے رواں ماہ کی 27 اکتوبر کو ہونے والے صیہونی انتخابات قریب آ رہے ہیں، اس بات کے شدید خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ بنیامن نتن یاھو کی حکومت عسکری دھمکیوں اور ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں کو اپنے اندرونی سیاسی حساب کتاب اور انتخابی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اس دوران یہ سنگین تنبیہات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ ترکیہ میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے سربراہ ڈاکٹر خلیل الحیہ کو نشانہ بنانے سے پورا خطہ ایک ایسی علاقائی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس کے ہولناک نتائج پر قابو پانا ناممکن ہو جائے گا۔

قابض صیہونی ریاست کے وزیر جنگ یسرائیل کاٹز کی طرف سے ڈاکٹر خلیل الحیہ کو قتل کرنے کی دھمکیوں پر فلسطینی اور ترکیہ کے سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دھمکیاں بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کی شدید بوکھلاہٹ اور اس کے سیاسی اختیارات کے دیوالیہ پن کی عکاسی کرتی ہیں، جبکہ ’حماس‘ اور انصارِ مزاحمت کی کمیٹیوں نے عالمی خاموشی اور امریکی چھتری تلے اسے قابض حکام کی جارحانہ دھمکیوں اور ٹارگٹ کلنگ کی پرانی ڈگر کا تسلسل قرار دیا ہے۔

کیا نتن یاھو انتخابات سے قبل پوری خطے کو داؤ پر لگا دیں گے؟

ڈاکٹر ایاد القرا کا ماننا ہے کہ یسرائیل کاٹز کی ان دھمکیوں کو سرسری یا عام بیانات کے طور پر نہیں لیا جا سکتا، بالخصوص جبکہ ان میں نیٹو کے ایک اہم اور بڑی علاقائی طاقت ترکیہ کو بھی براہِ راست دھمکی دی گئی ہے، جس سے کشیدگی کے ایسے راستے کھل سکتے ہیں جو صرف فلسطینی میدان تک محدود نہیں رہیں گے۔

القرا نے قطری دارالحکومت دوحہ میں ’حماس‘ کے مذاکراتی وفد کو نشانہ بنانے کی صیہونی کوشش کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کے دارالحکومتوں تک ان کارروائیوں کا پھیلنا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ صیہونی ریاست جنگ کے دائرے کو کس حد تک پھیلانا چاہتی ہے۔

القرا کے مطابق ایران کو صیہونی ریاست کی طرف سے مسلسل دی جانے والی دھمکیوں اور اس کے ساتھ عسکری تصادم کو وسعت دینے کے امکانات کے سائے میں یہ خدشات مزید خطرناک ہو جاتے ہیں۔ بنجمن نیتن یاھو کو درپیش شدید سیاسی و انتخابی دباؤ کے باعث یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا وہ اپنے اندرونی بحرانوں کو باہر منتقل کرنے اور سکیورٹی و جنگ کا سہارا لے کر انتخابی فضا کو اپنے حق میں موڑنے کے لیے کسی نئی عسکری حماقت کا سہارا لے سکتے ہیں۔

القرا نے ان تمام تر امکانات کو پوری سنجیدگی سے لینے کی ضرورت پر زور دیا اور متنبہ کیا کہ اگر ان دھمکیوں کو عملی شکل دی گئی تو خطہ ایک تباہ کن تصادم میں دھکیل دیا جائے گا بالخصوص جبکہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ میں صیہونی فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور فلسطینی قیادت کو بیرونِ ملک نشانہ بنانے کا صیہونی سوابق موجود ہیں۔

انہوں نے صیہونی ریاست کو فراہم کی جانے والی مسلسل سیاسی و عسکری امداد اور اس کے مظالم کو روکنے کے لیے کسی بھی مؤثر دباؤ کی عدم موجودگی پر امریکی انتظامیہ کو اس تمام تر تعاون کا مکمل ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے زور دیا کی کہ ترکیہ میں کسی بھی قسم کی ٹارگٹ کلنگ یا ایران پر بڑا حملہ ایک ایسی ہمہ گیر جنگ کو جنم دے سکتا ہے جو تمام فریقوں کے کنٹرول سے باہر ہو جائے گی۔

انہوں نے بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ اصل خطرہ صیہونی انتخابی حساب کتاب کے ایک علاقائی جنگ کا شعلہ بن جانے میں ہے، اور انہوں نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا تاکہ اس خطرناک تصاعد کو روکا جا سکے جس کے آغاز کا تو علم ہے لیکن انجام کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا۔

سیاسی بازار میں ٹارگٹ کلنگ کو بطور آلہ استعمال کرنا ایک جرم

دوسری طرف معروف مصنف اور سیاسی تجزیہ کار احمد الحیلہ کا کہنا ہے کہ یسرائیل کاٹز کی طرف سے خلیل الحیہ کو قتل کرنے کی دھمکی اس بات کی عکاس ہے کہ صیہونی سیاست کے بازار میں ٹارگٹ کلنگ کو کس طرح ایک سیاسی کارڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ شدید انتخابی مقابلے کی فضا نتن یاھو حکومت کو اس بات پر اکساتی ہے کہ وہ اپنے اندرونی معاملات کو سنبھالنے کے لیے اس قسم کے خطرات مول لے۔

الحیلہ نے واضح کیا کہ جب سیاسی آپشنز ختم ہو جاتے ہیں تو کشیدگی اور جنگ کو اقتدار میں رہنے کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ فلسطینی عوام اپنے خون سے ان سیاسی حساب کتاب کی قیمت چکاتے ہیں، جبکہ پورے خطے کا سیکیورٹی اور امن داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔

الحیلہ نے صیہونی تحرکات کو عالمی خاموشی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ صیہونی ریاست کو روکنے کے لیے عالمی موقف کی عدم موجودگی ہی تل ابیب کو اس بات کا موقع دیتی ہے کہ وہ اپنی ان مہم جوئیوں اور دھمکیوں کے سلسلے کو بے خوف ہو کر آگے بڑھائے۔

سیاسی دیوالیہ پن اور ریاستی دہشت گردی

ان دھمکیوں پر اپنا موقف دیتے ہوئے اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے یسرائیل کاٹز کے بیانات کو منظم ریاستی دہشت گردی سے تعبیر کیا، جو کہ تحریک کے بیان کے مطابق بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور صیہونی حکومت و اس کے انتہا پسند ارکان کے شدید سیاسی دیوالیہ پن کا کھلا ثبوت ہے۔

حماس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ دھمکیاں اس کے قومی موقف اور نظریے کو ہرگز تبدیل نہیں کر سکتیں، اور اس کی قیادت اپنے اصولی مطالبات پر اور زیادہ سختی سے قائم رہے گی۔ حماس نے سالثین سے مطالبہ کیا کہ وہ ان بیانات کی سخت اور فیصلہ کن مذمت کریں اور صیہونی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں طے پانے والے روڈ میپ کے التزامات پر عمل درآمد کرے، بالخصوص جارحیت کا فوری خاتمہ اور فلسطینی عوام پر مسلط کردہ ظالمانہ محاصرہ ختم کرے۔

اسی سیاق و سباق میں حماس کے سیاسی بیورو کے رکن ڈاکٹر باسم نعیم نے کہا کہ تحریک کاٹز کی ان دھمکیوں کو پوری سنجیدگی سے لے رہی ہے، لیکن وہ اسے صیہونی انتہا پسندوں کی اس دوڑ کا حصہ سمجھتی ہے جس کا مقصد ووٹ حاصل کرنے کے لیے ہر طرف موت کا کھیل پھیلانا ہے۔

باسم نعیم نے صیہونی دھمکیوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے کہاکہ ’’کیا تو ہمیں اس چیز کی دھمکی دے رہا ہے جس کے لیے ہم دن رات رب کے حضور دعائیں مانگتے ہیں؟ یعنی شہادت؟ تیری یہ کوشش ناکام و نامراد ہو چکی ہے، ہم نصرت اور آزادی کے حصول تک اپنے راستے پر ثابت قدمی سے گامزن رہیں گے‘‘۔

دوسری جانب فلسطین میں انصارِ مزاحمت کی کمیٹیوں نے اس بات پر زور دیا کہ خلیل الحیہ کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صیہونی قیادت کے درندہ صفت اور جارحانہ چہرے کو بے نقاب کرتی ہیں۔ کمیٹیوں نے واضح کیا کہ دھمکیاں اور ٹارگٹ کلنگ صیہونی دشمن کو نہ سیکیورٹی دے سکتی ہیں اور نہ ہی فتح، اور یہ مظلوم فلسطینی عوام، ان کی قیادت اور قومی طاقتوں کے عزم کو ہرگز توڑ نہیں سکتیں۔

کمیٹیوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور صیہونی رہنماؤں کو ان کے ہولناک جرائم پر کیفرِ کردار تک پہنچائے، اور دھمکیوں، ٹارگٹ کلنگ اور بلاوجہ کی جارحیت کی پالیسی کا خاتمہ کرے، نیز انہوں نے خبردار کیا کہ سزا کے خوف سے آزادی کے باعث خطے کو مسلسل ایک کھلے جنگی میدان کے طور پر استعمال کرنا تباہ کن ثابت ہوگا۔

یسرائیل کاٹز کی دھمکیاں شدید ترین سیاسی دیوالیہ پن

ترکیہ کے سرکاری سطح پر، صدارتی کمیونیکیشن ڈائریکٹر برہان الدین دوران نے کہا کہ یسرائیل کاٹز کی طرف سے جنگ بندی اور امن مذاکرات میں شامل شخصیات کو قتل کرنے کی دھمکیاں صیہونی حکومت کی اس سوچ کا ایک نیا ثبوت ہیں جو بین الاقوامی قوانین کو مکمل طور پر پاؤں تلے روندتی ہے اور عالمی برادری کی کھلم کھلا تذلیل کرتی ہے۔

دوران نے کہا کہ کاٹز کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی حکومت آنے والے انتخابات سے قبل کس قدر شدید سیاسی دیوالیہ پن کا شکار ہو چکی ہے، اور انہوں نے زور دے کر کہا کہ ترکیہ پر لگائے جانے والے من گھڑت الزامات غزہ میں صیہونی حکومت کے ہاتھوں ہونے والی نسل کشی کے ہولناک ریکارڈ کو ہرگز چھپا نہیں سکتے۔

ترک عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات میں شامل نمائندوں کو قتل کرنے کی کھلی دھمکی اس صیہونی ذہنیت کو ننگا کرتی ہے جو عالمی قوانین سے بالکل آزاد ہے، ایک ایسے وقت میں جب سیاسی کوششوں اور ثالثیوں کو جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور تصادم کے دائرے کو پھیلنے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan