نابلس (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس کے قصبے برقا میں اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں نے مشترکہ طور پر زیتون کی فصل کاٹنے والے فلسطینی کسانوں پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید اور 16 دیگر زخمی ہوگئے۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 44 سالہ علی البزاری حملے کے دوران لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ یہ حملہ اسرائیلی فوجیوں اور یہودی آبادکاروں نے برقا کے کسانوں پر اس وقت کیا جب وہ اپنی زیتون کی فصل کی کٹائی میں مصروف تھے۔
فلسطینی ہلال احمر نے بتایا کہ اس کے امدادی عملے نے حملے میں زخمی ہونے والے آٹھ افراد کو طبی امداد فراہم کی، جن میں تین افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔
گولی لگنے والے زخمیوں میں سے ایک کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی گئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق انتہا پسند یہودی آبادکاروں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی فوجیوں کے ہمراہ رامین کے میدان میں زیتون کے باغات میں فصل کی کٹائی کرنے والے برقا کے کسانوں پر حملہ آور ہوئی۔
متعدد کسان آبادکاروں کے جسمانی حملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے۔
آبادکاروں نے امدادی کارکنوں کا راستہ بھی روک دیا اور دھمکی دی کہ زخمیوں کی جانب آنے والے کسی بھی شخص پر فائرنگ کی جائے گی، جس کے باعث زخمیوں کو بروقت طبی امداد اور اسپتال منتقل کرنے میں تاخیر ہوئی۔
دریں اثنا، اسرائیلی فوجیوں نے زخمیوں تک پہنچنے اور انہیں علاقے سے منتقل کرنے کی کوشش کرنے والے طبی امدادی کارکنوں اور مقامی رضاکاروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔
فوجیوں نے تین طبی امدادی کارکنوں اور ایک رضاکار کو حراست میں لے لیا، جبکہ ایمبولینسوں کی چابیاں بھی ضبط کرلیں۔ بعد ازاں انہیں رہا کر کے علاقے سے چلے جانے کا حکم دیا گیا۔