نابلس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض صہیونی حکام نے جمعرات کے روز نابلس کے العین کیمپ سے تعلق رکھنے والے شہید اسیر مروان فتحی حرز الله کا جسدِ خاکی ان کے ورثا کے حوالے کر دیا، جنہیں چھ ماہ سے زائد عرصے تک روکے رکھا گیا تھا، جبکہ اسیران کے اداروں کے مطابق قابض فوج اب بھی 99 شہید اسیروں کے اجسادخاکی قید رکھے ہوئے ہے۔
قابض فوج نے حرز الله کو جنوری سنہ 2026ء میں ’اشتعال انگیزی‘ کے بہانے گرفتار کیا تھا۔ دوران حراست انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا جہاں ان کی گرفتاری کے تقریباً دو ماہ بعد اٹھائیس مارچ کو مجدو جیل کے اندر ان کی شہادت کا اعلان کیا گیا۔
اسیران سے متعلق اداروں نے قابض حکام اور زندانوں کی انتظامیہ کو ان کی شہادت کی مکمل ذمہ داری سونپی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ شہادت اسیروں کو درپیش منظم خلاف ورزیوں کے تناظر میں، علاج اور ضروری طبی دیکھ بھال سے محروم رکھنے کا براہ راست نتیجہ تھی۔
کلب برائے اسیران نے پانچ اکتوبر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں خبردار کیا کہ قابض ریاست اشتعال انگیزی کے الزام کے استعمال کو وسیع کر رہی ہے، جو کہ وہ بہانہ ہے جس کے تحت حرز الله کو گرفتار کیا گیا تھا، اور اسے کنٹرول، نگرانی اور تعاقب کا آلہ بنایا جا رہا ہے۔
ادارے نے واضح کیا کہ اس الزام کے تحت گرفتاریوں کا سلسلہ نسل کشی کے آغاز سے ہی تیز ہو گیا تھا، اور اس کی زد میں عام شہری، رہا ہونے والے اسیر، طلبہ، خواتین اور بچے آئے ہیں، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں جاری واقعات سے متعلق پوسٹس اور موقف کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔
اداروں نے وضاحت کی کہ حرز الله کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے قید شہید اسیروں کے اجساد خاکی کی تعداد کم ہو کر 99 رہ گئی ہے، جن میں وہ 88 اسیروں کے اجساد خاکی بھی شامل ہیں جو غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگِ نسل کشی کے آغاز سے شہید ہوئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار صرف ان اسیروں کے اجساد خاکی سے متعلق ہیں جو اب تک قید ہیں۔ یہ اسیر تحریک کے شہداء کی کل تعداد کی نمائندگی نہیں کرتے؛ کیونکہ یہ ایک وسیع تر مجموعے کا حصہ ہیں جس میں قابض حکام کی طرف سے روکے گئے فلسطینی شہداء کے اجساد خاکی شامل ہیں۔
اداروں کے مطابق اجساد خاکی کو روکے رکھنے کا یہ تسلسل غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے دجنوں حراست زدہ افراد کے انجام کے بارے میں لاعلمی کے ساتھ جاری ہے، جو ان خاندانوں کی تکلیف کو دوچار کرتا ہے جو اپنے بیٹوں کے بارے میں معلومات کے منتظر ہیں۔ وہ خاندان جو ان کے اجسامِ خاکی کے حصول اور تدفین کے آرزومند ہیں۔
اسیران کے اداروں نے اس بات پر زور دیا کہ اجساد خاکی کا قید رہنا خاندانوں کو ان کے بیٹوں کے آخری دیدار اور باعزت تدفین سے محروم کرتا ہے، یہ اس سفاکیت کا تسلسل ہے جو قابض ریاست کی طرف سے شہادت کے بعد بھی فلسطینیوں کے خلاف جاری ہے۔
حرز الله کے معاملے میں جسدِ خاکی کو روکے رکھنے کا دورانیہ مارچ کے آخر سے آٹھ اکتوبر تک پھیلا رہا، جس کے نتیجے میں ان کے خاندان کو جیل کے اندر شہادت کے اعلان کے بعد اپنے بیٹے کا جسدِ خاکی وصول کرنے سے پہلے چھ ماہ سے زائد عرصے تک انتظار کرنا پڑا۔
اداروں نے عالمی برادری سے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ وہ اجسامِ خاکی کو روکے رکھنے کی پالیسی کو ختم کرنے، لاپتہ اور قید افراد کے انجام کا پردہ چاک کرنے، اور شہداء کے اجسامِ خاکی ان کے خاندانوں کو بغیر کسی شرط یا پابندی کے سونپنے کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدام کرے۔
حرز الله کے خاندان کے اپنے بیٹے کا جسدِ خاکی وصول کرنے کے انتظار کے اختتام کے ساتھ ہی 99 شہید اسیروں کے خاندان اب بھی آخری دیدار اور تدفین سے محروم ہیں، اس کے علاوہ غزہ کے ان حراست زدہ افراد کے خاندان بھی شامل ہیں جن کے انجام کا اب تک کوئی پتہ نہیں چل سکا۔
