غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں جہاں موت اب دروازوں پر دستک نہیں دیتی بلکہ گلیوں، گھروں اور کام کے مراکز میں لوگوں کا پیچھا کرتی ہے، پولیس اہلکار ہر روز اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے نکلتے ہیں۔ وہ ایک ایسی کمیونٹی کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں جو جنگ سے تھک چکی ہے، اور یہ جانتے ہوئے کہ کام پر جانے کا راستہ ایسا راستہ ہو سکتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔
منگل کو ظہر کے وقت غزہ شہر میں پولیس کا ایک ہیڈکوارٹر قابض اسرائیل کی بمباری کا نشانہ بنا، جس کے نتیجے میں پولیس کے کئی افسران اور اہلکار شہید ہوگئے، ان کے ساتھ ایک بے گھر بچی بھی شہید ہوئی جو اس مقام کے قریب موجود تھی۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو اس بھاری قیمت کو سامنے لاتا ہے جسے پولیس فورس کے کارکنان اس وقت ادا کر رہے ہیں جب وہ غزہ میں سکیورٹی برقرار رکھنے اور انتشار کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فرض کی راہ میں شہید ہونے والے
وزارت داخلہ اور نیشنل سکیورٹی نے غزہ میں پولیس افسران کے ایک گروہ کی شہادت کا سوگ منایا جو بمباری میں شہید ہوئے۔ شہداء کی فہرست میں غزہ گورنری کے قائم مقام پولیس چیف بریگیڈیئر ایمن محمود جندیہ، غزہ گورنری میں پولیس آپریشنز کے ڈائریکٹر کرنل اسامہ ہاشم الہجین اور غزہ گورنری میں ویمن پولیس ایڈمنسٹریشن کی ڈائریکٹر کرنل فاتنہ عبد الجبار السحار شامل ہیں۔
شہداء کی فہرست میں کرنل ابراہیم عبد الرحمن تمراز، کرنل علاء علی علیان، لیفٹیننٹ کرنل حازم جبر خلف، میجر عثمان شحتہ ابو سمعان، اور لیفٹیننٹ سماہر مصباح حمادہ بھی شامل ہیں، اس کے ساتھ 13 سالہ بچی دانا ہیثم الجماصی بھی شہید ہوئی جو ہدف بننے والے ہیڈکوارٹر کے قریب بے گھر لوگوں میں شامل تھی۔
وزارت داخلہ نے اس واقعے کو ایک وحشیانہ قتل عام قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ پولیس افسران اور اہلکاروں کو نشانہ بنانا ان ٹارگٹ کلنگز کا حصہ ہے جو سول پولیس کے کیڈروں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ وزارت نے واضح کیا کہ اس ادارے کا خاتمہ غزہ کی پٹی میں انتشار پھیلانے اور معاشرتی استحکام کے عناصر کو تباہ کرنے کی سازشوں کو تقویت دیتا ہے۔
فائرنگ کے نیچے پولیس
غزہ میں پولیس جنگ کے دوران محض عام حالات میں سکیورٹی کے فرائض سرانجام دینے والا ادارہ نہیں رہی؛ اس کے اہلکاروں نے خود کو ایک دوہری ذمہ داری کے سامنے پایا ہے۔ ایک ایسے معاشرے کے ساتھ نمٹنا جو بمباری، نقل مکانی اور محاصرے میں جی رہا ہو، اور ان گلیوں میں نظام کو کم از کم سطح پر برقرار رکھنے کی کوشش کرنا جن کے بڑے حصے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔
پولیس اہلکار جو اپنے کام کی جگہوں پر جاتے ہیں وہ نہ صرف قانون کے نفاذ اور سکیورٹی برقرار رکھنے کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں، بلکہ وہ ایک ایسے ماحول میں کام کر رہے ہیں جو محفوظ کام کے بنیادی تقاضوں سے بھی محروم ہے، جہاں مسلسل بمباری اور مستقل خطرہ ان کی اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں کو درپیش ہے۔
اس تناظر میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے کہا کہ پولیس ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانا اور اتنی بڑی تعداد میں شہادتیں، ان کے اندازے کے مطابق ایک اسرائیلی پیغام ہے کہ قابض دشمن قانون سے بالاتر ہو کر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ جارحانہ پیغام جنگ بندی معاہدے سے متعلق بین الاقوامی فریقوں اور ثالثوں کے لیے بھی ہے۔
استحکام کو نشانہ بنانا
غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل اسماعیل الثوابتہ نے خبردار کیا کہ زمینی اشارے جنگ بندی کے منصوبے کے ٹوٹنے کا خطرہ ظاہر کر رہے ہیں۔ انہوں نے قابض دشمن پر روزانہ کی بنیاد پر معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔
الثوابتہ نے ان خلاف ورزیوں کے جاری رہنے کے سائے میں ثالثوں، سرپرست فریقوں، سلامتی کونسل اور کونسل برائے امن کے کردار پر سوال اٹھایا، اور زور دیا کہ علاقائی استحکام ان معاہدوں پر قائم نہیں رہ سکتا جن کی شقوں کی خلاف ورزی بلا روک ٹوک جاری ہو۔
صحافی ابراہیم المدهون کا ماننا ہے کہ فلسطینی پولیس کی قیادت کو نشانہ بنانا سیاسی عمل کو ناکام بنانے اور طاقت کے زور پر نئے حقائق مسلط کرنے کی کوشش کے تناظر میں ہے، اور ان کے نزدیک عوامی سکیورٹی کی حفاظت اور شہریوں کی زندگیوں کو منظم کرنے والے اداروں کو ضرب لگانا استحکام کے اہم ترین ستونوں کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔
المدهون نے خبردار کیا کہ پولیس کو کمزور کرنا اور انتشار، افراتفری اور خانہ جنگی کے لیے راستہ ہموار کرنا قابض دشمن کے مفاد میں ہے، اور انہوں نے سکیورٹی اداروں کے کردار کے لیے عوامی حمایت کو مضبوط کرنے اور قانون و نظام کا احترام کرنے پر زور دیا، اس کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کے تحفظ کے اقدامات کو بہتر بنانے اور ان کی فرائض کی انجام دہی کی صلاحیت کو برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
تنخواہ سو دن بعد۔۔ اور تنخواہ سے پہلے شہادت
فوجی عہدوں اور ناموں کے پیچھے انسانی کہانیاں ہیں جو سرکاری بیانات میں نظر نہیں آتیں۔
فاطمہ یوسف نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ان پولیس اہلکاروں کے بارے میں لکھا جو انتہائی مشکل حالات میں اپنا کام سرانجام دے رہے ہیں اور وہ محدود اجرتوں کے منتظر ہیں جو شاید انہیں ہفتوں یا مہینوں بعد ملے، جبکہ ان کے پاس حفاظت کے انتظار کی عیاشی نہیں ہے۔
’’تنخواہ سو دن بعد۔۔ اور تنخواہ سے پہلے شہادت!‘‘؛ اس طرح فاطمہ یوسف نے اس تلخ تضاد کا احاطہ کیا جس میں یہ لوگ جی رہے ہیں، اور اس طرف اشارہ کیا کہ غزہ میں پولیس والا جنگ اور بمباری کے حالات میں طویل عرصہ کام کر سکتا ہے، اور سب سے بڑی چیز جس کا وہ انتظار کرتا ہے وہ کوئی انعام یا تنخواہ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ زندہ اپنے گھر واپس چلا جائے۔
جو صبح اپنے کام پر نکلتا ہے وہ شام کو واپس نہیں آ سکتا، اور اپنے پیچھے ایک ماں، ایک بیوی، بچے، قرضے اور ایک ایسی زندگی چھوڑ جاتا ہے جو ادھوری رہ گئی۔
اور یہاں سوال تنخواہ اور کام کے حالات سے کہیں بڑا اور سنگین ہو جاتا ہے: ایک انسان کا لوگوں کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھانے کا کیا مطلب ہے، جبکہ اسے خود اپنے خاندان تک واپسی کی کوئی ضمانت حاصل نہ ہو؟
سمندر بھی پناہ گاہ نہیں رہا
غزہ میں جنگ اب صرف کام کی جگہوں کو نشانہ نہیں بنا رہی، بلکہ ان مقامات تک پھیل گئی ہے جہاں باشندے موت کے دائرے سے باہر زندگی کا ایک لمحہ تلاش کرنے کے لیے پناہ لیتے تھے۔
صحافی محمد ہنیہ نے ان جگہوں کو نشانہ بنائے جانے پر روشنی ڈالی جو غزہ کے باشندوں کے لیے ایک سانس لینے کی جگہ کی حیثیت رکھتے تھے، اور سوال اٹھایا: ’’غزہ کے لوگ جنگ سے باہر ایک گھنٹہ جینے کے لیے کہاں جائیں؟‘‘
سمندر، جو غزہ کے لوگوں کے لیے آخری پناہ گاہ تھا، بمباری کی زد میں آ گیا، اور واحد پارک بھی محفوظ نہیں رہا، جبکہ خیمے گرمیوں کی تپش میں تھکا دینے والے بن چکے ہیں، گھر ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں، اور گلیاں موت کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔
ہنیہ کے بقول، اب سوال یہ نہیں کہ غزہ کے لوگ موت سے بچنے کے لیے کہاں بھاگ سکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اصل میں جا کہاں سکتے ہیں؟
جنگی جرم اور ثالثوں کے لیے پیغام
اپنے ایک بیان میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا کہ غزہ شہر میں پولیس ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانا، جس کے نتیجے میں 9 افراد شہید ہوئے جن میں اکثریت پولیس افسران اور اہلکاروں کی تھی، اور کئی شہری زخمی ہوئے، ایک نیا ’’جنگی جرم‘‘ ہے۔
تحریک نے مزاحمت کی قیادت کو نشانہ بنانے کے اسرائیلی دعووں کی تردید کی، اور انہیں ایسے الزامات قرار دیا جن کا مقصد غزہ کی پٹی میں سول پولیس اور شہریوں کو نشانہ بنانے کا جواز پیدا کرنا ہے۔
نشانہ بننے والے ہیڈکوارٹر کے ملبے، وزارت داخلہ کی طرف سے شہداء کے ناموں اور ایک بے گھر بچی کے درمیان، جو اس بمباری کی شکار ہوئی، ایک ایسے ادارے کی کہانی سمٹ آئی ہے جو زمین پر موجود انتہائی سفاک ماحول میں کام کر رہا ہے۔
مرد اور خواتین ایک ایسے معاشرے میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں جو زندگی اور نظام کے باقی ماندہ آثار کو تھامے رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ وہ ہر لمحے موت کے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔
فرض کے شہداء۔۔ جب سکیورٹی کی حفاظت بقا کی جنگ بن جائے
اداروں کی کارکردگی یا سیاسی مرحلے کی نوعیت کے بارے میں آراء مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن انسانی حقیقت واضح رہتی ہے: جب ایک پولیس اہلکار جنگ میں ڈوبے ہوئے معاشرے میں سکیورٹی برقرار رکھنے کا فرض ادا کرتے ہوئے مارا جاتا ہے، تو اس کا خاندان صرف ایک ملازم کو نہیں کھوتا، بلکہ ایک باپ، بیٹے یا شوہر کو کھوتا ہے جو گھر واپس آنے کا منتظر تھا۔
غزہ میں، جہاں قابض دشمن کی سفاکیت اور جارحیت کی وجہ سے تباہی کا دائرہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، سکیورٹی برقرار رکھنا اور انتشار کو روکنا بقا کی جنگ کا حصہ بن گیا ہے۔
اسی لیے، وہ پولیس شہداء جو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہوئے، اپنے پیچھے ایک ایسا سوال چھوڑ گئے ہیں جو صرف ان کے ناموں اور عہدوں سے متعلق نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کے انجام سے متعلق ہے جو ایک ایسی جنگ کے سامنے اپنی باقی ماندہ ہم آہنگی کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے جس نے گھروں، گلیوں اور زندگی کے سانس لینے کے مقامات کو کھا لیا ہے، اور اب یہ ان لوگوں تک بھی پہنچ چکی ہے جو لوگوں اور نظام کی حفاظت کے لیے پہلی صف میں کھڑے ہیں۔
