Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں ماہی گیروں پر اسرائیلی کریک ڈاؤن، فائرنگ اور گرفتاریوں کا سلسلہ تیز

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی ماہی گیروں کے خلاف اپنی سفاکیت میں اضافہ کر دیا ہے اور جمعرات کی صبح غزہ کی بندرگاہ کے قریب ایک ماہی گیری کشتی پر موجود دو ماہی گیروں کو گرفتار کر لیا۔

مرکز المیزان برائے انسانی حقوق نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ قابض فوج مسلسل تیسرے سال ماہی گیروں کو ان کا پیشہ اپنانے کے لیے سمندر میں داخل ہونے سے روک رہی ہے۔ یہ ایک سنگین خلاف ورزی ہے جس کے ذریعے ماہی گیروں کو ان کے ذریعہ معاش تک رسائی کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے، جس سے ان کی معاشی حالت مزید بگڑ رہی ہے اور وہ اپنے خاندانوں کی کفالت کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔ یہ سلسلہ غزہ کی پٹی پر جاری نسل کشی کی جنگ کے دوران قابض فوج کی طرف سے کی جانے والی خلاف ورزیوں اور سفاکانہ جرائم کا ہی ایک حصہ ہے۔

بیان کے مطابق جمعرات کی صبح اسرائیلی جنگی کشتیوں نے ایک کشتی، جس پر 4 ماہی گیر سوار تھے، پر حملہ کیا، اس پر فائرنگ کی، اسے روکا اور دو ماہی گیروں کو کپڑے اتار کر سمندر میں اترنے پر مجبور کیا۔ اس کے بعد قابض فوج نے انہیں گرفتار کر لیا، جن کی شناخت یوسف زاہر ابو ریالہ (عمر22 سال) اور محمد سعید الزہار (عمر 32 سال) کے طور پر ہوئی ہے، جو غزہ کے مغرب میں واقع الشاطئ کیمپ کے رہائشی ہیں۔ ان دونوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس تناظر میں قابض فوج اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر مکمل بحری محاصرہ مسلط کیے ہوئے ہے، جس میں ماہی گیروں کا سمندر میں داخلہ بھی شامل ہے۔ اس وجہ سے ماہی گیر ساحل سے صرف ایک کلومیٹر کے تنگ دائرے میں نہایت مشکل سے کشتیوں کے ذریعے مچھلی پکڑنے پر مجبور ہیں، لیکن اس چھوٹی سی جگہ پر بھی انہیں فائرنگ، تعاقب، گرفتاری اور بعض اوقات قتل و زخمی کیے جانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

غزہ کی پٹی پر جاری نسل کشی کی جنگ کے دوران، قابض فوج نے ماہی گیری کے شعبے کا تقریباً 95 فیصد حصہ تباہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ کی بندرگاہ مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جس میں وہاں لنگر انداز کشتیاں، ماہی گیروں کے کمرے، ان کے آلات اور بنیادی ڈھانچہ شامل تھا۔ اسی طرح انہوں نے خان یونس گورنری کی بندرگاہ اور رفح اور شمالی غزہ گورنریوں کے لنگر گاہوں کو بھی تباہ کر دیا، جبکہ الزوایدہ اور دیر البلح کے لنگر گاہوں کو جزوی طور پر نقصان پہنچایا۔

ماہی گیری اور سمندری پیداوار کے ورکرز کی جنرل یونین کے سربراہ، زکریا بکر نے اطلاع دی ہے کہ قابض حکام نے نسل کشی کی جنگ کے دوران 233 فلسطینی ماہی گیروں کو شہید کیا ہے، چاہے وہ سمندر میں مچھلی پکڑنے کی کوشش کر رہے ہوں یا اپنے گھروں اور دیگر مقامات پر موجود ہوں۔ اس کے علاوہ 140 ماہی گیروں کو مختلف نوعیت کے زخم آئے، جبکہ 130 کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے اکثریت کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔

مرکز المیزان نے ماہی گیروں اور ماہی گیری کے شعبے کے خلاف اسرائیلی خلاف ورزیوں اور سفاکانہ جرائم کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ مرکز کا کہنا ہے کہ ماہی گیروں کو سمندر میں داخلے سے روکنا اجتماعی سزا کی ایک شکل ہے جو بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے۔ مرکز نے اس بات پر زور دیا کہ قتل، غیر انسانی سلوک اور غیر قانونی حراست، یہ سب غزہ کی پٹی میں مسلسل تیسرے سال جاری نسل کشی کے ہتھیار ہیں۔

مرکز نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ دہرایا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے باشندوں کے تئیں اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے۔ مرکز نے بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے نفاذ کے لیے موثر اقدامات کریں، نسل کشی اور اسرائیلی سفاکانہ جرائم کو روکیں، عام شہریوں کو تحفظ فراہم کریں، خلاف ورزی کرنے والوں اور انہیں حکم دینے والوں کا احتساب یقینی بنائیں، اور متاثرین کو انصاف فراہم کر کے ان کے نقصانات کا ازالہ کریں، جن میں جان و مال، جغرافیہ، سمندری، ماحولیاتی، زرعی، صحت اور ثقافتی و صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہی گیروں کی غیر قانونی گرفتاری
قابض صہیونی بحری فوج کی جارحیت
غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan