Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ کی تین سالہ مسک ابو معزہ، جنگ کی ہولناکیوں کی جیتی جاگتی داستان

غزہ -(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) تین برس کی عمر میں فلسطینی بچی مسک ابو معزہ کی زندگی کھیل کود، قہقہوں اور ابتدائی بول چال سے بھرپور ہونی چاہیے تھی اور اسے اپنی عمر کے دیگر بچوں کی طرح اپنے چھوٹے چھوٹے کھلونوں میں مشغول ہونا چاہیے تھا لیکن دسمبر سنہ 2025ء میں غزہ میں اس کے گھر کے قریب قابض اسرائیلی بمباری نے اس کی زندگی کی تمام خوشیاں چھین لیں اور اس کے جسم پر گہرے جلنے کے نشانات چھوڑ دیے اور اس کے بچپن پر ایسا زخم لگایا جو جسمانی تکلیف سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔

مسک آج اپنی تکلیف کے اثرات کے ساتھ انتہائی کٹھن حالات میں جی رہی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے نے اس کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے جبکہ اس کا خاندان ادویات، مرہم اور ضروری علاج فراہم کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہے۔ یہ بچی اب غزہ پٹی سے باہر نکلنے اور بیرون ملک اپنے مطلوبہ علاج اور آپریشنز کروانے کے ایک موقع کی منتظر ہے۔

اس کی والدہ ثمر ابو معزہ اپنی بچی کی زندگی میں آنے والی اس سفاک تبدیلی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ مسک اپنی تکلیف سے قبل ایک نارمل زندگی گزار رہی تھی، باقی بچوں کی طرح کھیلتی تھی، بولتی تھی اور ہر بات سنتی تھی، لیکن بمباری نے اس کی زندگی میں سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔

والدہ کا کہنا ہے کہ اس زخم نے ان کی بیٹی کی بولنے اور سننے کی صلاحیت پر گہرا اثر ڈالا ہے ، اسے مزید چڑچڑا بنا دیا ہے۔ وہ بچی جو پہلے نارمل انداز میں بات چیت کر سکتی تھی، اب اپنی ضروریات اور جذبات کا اظہار چیخ و پکار اور رونے سے کرتی ہے۔

ثمر مزید کہتی ہیں کہ ان کی بیٹی کی حالت کو پٹی سے باہر آپریشنز اور علاج کی ضرورت ہے۔ وہ اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ڈاکٹر اس کے علاج کے لیے تیار ہیں، لیکن خاندان اب سفر کی اجازت کا منتظر ہے کیونکہ غزہ کے اندر ضروری سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔

والدہ کہتی ہیں کہ یہاں حالات بہت مشکل ہیں۔ مرہم ہیں، نہ علاج اور نہ ہی پلاسٹک سرجری کی سہولیات موجود ہیں، میری بیٹی کو جن تمام آپریشنز کی ضرورت ہے وہ پٹی سے باہر ہی ہونے چاہییں۔

مسک کی مشکلات صرف جلنے سے پیدا ہونے والی تکلیف تک محدود نہیں ہیں۔ اس کا خاندان قیمتوں میں ہوشربا اضافے، ادویات اور مرہم کی قلت کے سائے میں علاج کا سامان مہیا کرنے کے لیے روزانہ ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے، یہاں تک کہ کچھ بنیادی طبی لوازمات تو طویل عرصے سے پٹی میں دستیاب ہی نہیں ہیں۔

ثمر بتاتی ہیں کہ ان کی بچی بہت زیادہ تکلیف میں ہے اور ایک ماں کے طور پر وہ روزانہ اس کے ساتھ یہ درد محسوس کرتی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ درجہ حرارت میں اضافہ اس کی اذیت میں مزید اضافہ کر دیتا ہے، خاندان کے پاس اکثر اوقات اسے ٹھنڈے پانی سے نہلا کر درد کم کرنے کی کوشش کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

وہ کہتی ہیں، میری بیٹی روزانہ تڑپتی ہے، میری بیٹی رات کو ان زخموں کی وجہ سے سو نہیں پاتی جو بہت زیادہ متاثر ہو چکے ہیں۔ ہم بس ٹھنڈے پانی سے اس کے درد کو کم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

والدہ طبی سامان کی مہنگی قیمتوں اور مارکیٹ سے ان کی غیر موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ چیزیں ان کی بیٹی کی دیکھ بھال کو مزید مشکل بنا رہی ہیں۔ وہ سوال کرتی ہیں کہ وہ اپنی بیٹی کا علاج کیسے کر سکتی ہیں جبکہ خود صحت کے ادارے شدید قلت کا شکار ہیں۔

ثمر اپنی بیٹی پر ڈھائے گئے مظالم کا ذمہ دار قابض اسرائیل کو ٹھہراتی ہیں اور کہتی ہیں کہ قابض دشمن نے ہی اسے زخمی کیا اور اس کا جسم جلایا۔ انہوں نے دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ اسے غزہ سے باہر علاج کا موقع دینے کے لیے حرکت میں آئے۔

والدہ کہتی ہیں کہ میں پوری دنیا سے اپیل کرتی ہوں، میں پوری دنیا سے التجا کرتی ہوں کہ میری بیٹی کو علاج کے لیے باہر جانے دیا جائے، کیونکہ یہ اس کا فطری حق ہے۔

وہ اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ان کی بیٹی طبی طور پر علاج کے لیے تیار ہے، لیکن غزہ پٹی میں اس کی مسلسل موجودگی اسے علاج کے اس موقع سے محروم کر رہی ہے جس کی اسے ضرورت ہے، اور یہ سب انتہائی سفاک اور انسانیت سوز طبی اور انسانی حالات میں ہو رہا ہے۔

ثمر کہتی ہیں کہ غزہ اب بچوں کو وہ علاج اور دیکھ بھال فراہم کرنے کے قابل نہیں رہا جس کی انہیں ضرورت ہے۔ تباہی اور جنگ نے بچوں کی نفسیات اور ان کی روزمرہ کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ مسک کی تکلیف کوئی انفرادی معاملہ نہیں ہے، بلکہ پٹی کے ہزاروں بچوں کی تکلیف کا حصہ ہے۔

والدہ بیمار اور زخمی بچوں کو علاج کے لیے غزہ سے باہر نکالنے کی اپیل کرتی ہوئی کہتی ہیں، میں غزہ کے تمام بچوں سے کہتی ہوں کہ باہر نکلیں، سفر کریں اور علاج کروائیں۔ سچ میں، غزہ کے بچوں نے جو کچھ دیکھا ہے وہ بہت ہے۔ سچ میں، یہ بہت تھکا دینے والا معاملہ ہے۔

جنگ کے بوجھ تلے دبا بچپن

مسک کی کہانی غزہ پٹی کے ان بچوں کی وسیع تر مشکلات کے تناظر میں ہے جو جنگ کے برسوں کے دوران شدید زخموں، والدین سے محرومی، مسلسل نقل مکانی اور کٹھن طبی و انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

سنہ 2026ء کی صحت اور اقوام متحدہ کی رپورٹس پر مبنی اعداد و شمار کے مطابق اب تک 21 ہزار سے زائد بچے شہید اور 45 ہزار سے زائد بچے مختلف نوعیت کے شدید زخموں کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ بمباری کے نتیجے میں تقریباً ایک ہزار بچے اعضاء کٹ جانے (معذوری) کا شکار ہیں۔

تخمینہ لگایا گیا ہے کہ تقریباً 60 ہزار بچے اپنے والدین میں سے کسی ایک یا دونوں سے محروم ہو چکے ہیں، جبکہ پٹی کے زیادہ تر بچوں کو بگڑتے ہوئے ماحولیاتی اور صحت کے حالات کے درمیان جبری نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

غزہ پٹی میں 10 لاکھ سے زائد بچوں کو فوری نفسیاتی اور سماجی مدد کی خدمات کی ضرورت ہے، ایسے وقت میں جب پانی، نکاسی آب اور خوراک کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، اور خراب صحت کے حالات اور انفراسٹرکچر کی تباہی کے باعث بچوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

ان بڑے اعداد و شمار کے درمیان، مسک تین سال کی وہ بچی ہے جو علاج کے اس سفر میں اپنی باری کی منتظر ہے جو شاید اسے اس کا وہ بچپن واپس لوٹا سکے جسے بمباری نے چرا لیا تھا۔

مسک غزہ سے باہر نکلنے کے لیے ایک کھڑکی کھلنے کی منتظر ہے، کسی دوسری زندگی کی تلاش میں نہیں، بلکہ علاج کے ایک موقع کی تلاش میں۔ ایک ایسا موقع جواسے اپنے مطلوبہ آپریشنز اور دیکھ بھال فراہم کرسکے، وہ اپنی بولنے، سننے اور کھیلنے کی کچھ صلاحیت دوبارہ حاصل کر سکے۔

جہاں تک اس کی والدہ کا تعلق ہے تو اس لمحے وہ صرف ایک ہی خواہش رکھتی ہیں کہ دنیا ایک ایسی ماں کی آواز سنے جو اپنی بچی کو ہر روز تڑپتا دیکھ رہی ہے، اور یہ کہ مسک کو علاج کا اس کا فطری حق مل جائے، اس سے پہلے کہ اس کا انتظار بہت طویل ہو جائے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan