غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے نمائندخصوصی فرانسسکا البانیز کہنا ہے کہ قابض اسرائیل کی قتل و غارت کی مشین نے گذشتہ جولائی کے مہینے کے دوران غزہ پٹی میں 160 فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے، حالانکہ جنگ بندی کا اعلان ہوئے دس ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، جس سے زمین پر معاہدے کی حقیقت کے حوالے سے دوبارہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انہوں نےایک بیان میں واضح کیا کہ اکتوبر سنہ 2025ء میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے شہداء کی تعداد 1200 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ قابض اسرائیل کی افواج نے المواصی سمیت آبادی اور بے گھر افراد سے بھرے علاقوں پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے نشاندہی کی کہ حالیہ اموات کا زیادہ تر حصہ نام نہاد ’یلو لائن‘ کے تعین کردہ علاقے سے دور ہوا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان حملوں میں خواتین، بچوں اور معمر افراد کو بھی نہیں بخشا گیا، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے خیموں اور ان علاقوں میں پناہ لے رکھی تھی جنہیں وہ نسبتاً محفوظ سمجھتے تھے۔
نمائندگان نے زور دیا کہ غزہ پٹی میں اب کوئی جگہ محفوظ نہیں رہی، کیونکہ اسرائیل کے وہ حملے مسلسل جاری ہیں جو شہریوں، پناہ گاہوں اور گنجان آباد علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے زمین پر ہونے والی مسلسل تبدیلیوں سے خبردار کیا ہے، جن میں نام نہاد یلو لائن کا مغرب کی جانب حرکت کرنا، اس کے ساتھ 23 کلومیٹر طویل رکاوٹ کی تعمیر اور گھروں کی مسلسل مسماری شامل ہے۔
نمائندگان کی رائے میں یہ اقدامات طاقت اور بے دخلی کے ذریعے غزہ پٹی کے جغرافیے کو دوبارہ تشکیل دینے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں، جبکہ یہاں کے مکین پہلے ہی تباہی، نقل مکانی اور بنیادی ضروریات کی کمی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
ماہرین نے ان حملوں کی مذمت کی جو ہسپتالوں، بے گھر افراد کی پناہ گاہوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں تک پہنچے، اس بات کی تصدیق کی کہ یہ نسل کشی بلا روک ٹوک جاری ہے۔
نمائندگان نے اس بات سے بھی خبردار کیا کہ غذائی امداد آزادانہ طور پر پٹی میں داخل نہیں ہو پا رہی ہے، جبکہ تجارتی راستوں سے پہنچنے والی کچھ مصنوعات غذائی افادیت سے محروم ہیں۔
ماہرین نے نشاندہی کی کہ بین الاقوامی عدالت انصاف نے 19 جولائی سنہ 2024ء کو جاری کردہ اپنی مشاورتی رائے میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کا مسلسل وجود غیر قانونی ہے، اسے جلد از جلد ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل کی یہودی آباد کاری کی پالیسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے، ان کے نزدیک اسرائیل کو تعمیل پر مجبور کرنے کے بجائے، دو سال بعد اسے انہی پالیسیوں کی رفتار تیز کرنے کی اجازت دی گئی جنہیں عدالت نے غیر قانونی قرار دیا تھا۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں، ماہرین نے یہودی آباد کاروں کے تشدد اور فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے کو افسوسناک قرار دیا، خاص طور پر شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملوں میں تیزی کے تناظر میں۔
آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء سے اسرائیل، امریکہ کی حمایت سے، غزہ پٹی پر اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 74 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔
فلسطینی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس جارحیت کے نتیجے میں غزہ پٹی میں انفراسٹرکچر کا تقریباً 90 فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے۔
بیان میں اقوام متحدہ کے متعدد نمائندگان اور ماہرین شامل تھے، جن میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز، خوراک کے حق سے متعلق خصوصی نمائندہ صوفیہ مون سالوی سواریز، صحت کے حق سے متعلق خصوصی نمائندہ ماریان گیلا سیماؤ، رائے اور اظہار کی آزادی سے متعلق خصوصی نمائندہ لیوپولڈو مالڈوناڈو گوٹیرز، اور ماورائے عدالت قتل کے کیسز سے متعلق خصوصی نمائندہ مورس ٹڈبال بنز شامل ہیں۔
