دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد بن محمد الأنصاري نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد میں “اسرائیلی تاخیر اور لیت و لعل” پائی جاتی ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی جانب سے پیشرفت کیے جانے کے بعد اب ساری ذمہ داری اسرائیلی فریق پر عائد ہوتی ہے۔
ڈاکٹر ماجد الأنصاری نے منگل کے روز پریس بیانات میں کہا کہ قطر غزہ کے معاہدے کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ اور اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، اور انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عالمی برادری ’اسرائیل‘ پر دباؤ ڈالے گی تاکہ وہ اپنے وعدے پورے کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زمینی سطح پر کشیدگی بالکل واضح ہے، خواہ وہ غزہ پٹی میں ہو یا مغربی کنارے میں، کیونکہ شہداء کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور انہوں نے جاری پیش رفت کے خلاف عالمی برادری کی طرف سے موثر مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ دوحہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ “اسرائیلی رویے” کے مطابق ایک ایسا بین الاقوامی ردعمل سامنے آئے جو کشیدگی کے تسلسل اور معاہدے کی شقوں پر مکمل عمل نہ کرنے کے تناظر میں ہو۔
