غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر جنگ یسرائیل کاٹز کا شمالی غزہ کی پٹی میں تین فوجی نوعیت کی بستیاں قائم کرنے کے ارادے کا اعلان بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی توہین ہے۔ تحریک نے اسے زمین پر نئے حقائق مسلط کرنے کے لیے قابض دشمن کے مسلسل منصوبوں کا عکاس قرار دیا۔
حماس نے ایک پریس بیان میں تصدیق کی کہ یہ اعلان اسرائیلی حکومت کی جانب سے اپنائی گئی بے دخلی اور نسلی تطہیر (Ethnic Cleansing) کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے، اور اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں کے خلاف اپنے مذموم منصوبوں پر گامزن ہے۔
حماس نے جنگ بندی معاہدے کے ضامن ثالثوں، بشمول امریکی انتظامیہ، پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور ان توسیع پسندانہ اسرائیلی پالیسیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں اور انہیں طاقت کے بل پر مسلط ہونے سے روکیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یسرائیل کاٹز کے وہ بیانات، جن میں انہوں نے غزہ کی پٹی میں تباہی کے مناظر پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا، حماس کے نزدیک اس بات کا ثبوت ہیں کہ نسل کشی کا ارتکاب کرنے کی نیت پہلے سے موجود تھی۔ حماس نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (بین الاقوامی فوجداری عدالت) اور متعلقہ عدالتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ کاٹز اور دیگر اسرائیلی عہدیداروں کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔
