غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج نے منگل کے روز بھی غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں بمباری، فائرنگ اور عمارتوں کو بارود سے اڑانے کے واقعات کے ذریعے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھی۔
ایک مقامی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں رفح کے علاقے مواصی میں قابض فوج کی فائرنگ سے معتز ابو شعر نامی بچہ شہید ہو گیا۔
طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ خان یونس کیمپ کے مغرب میں اسرائیلی ڈرون حملے میں متعدد شہری زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔
ایک اور مقامی ذریعے نے بتایا ہے کہ باسم مسعد ارمیلات منگل کی صبح شہید ہو گئے۔ وہ دو روز قبل خان یونس کے مغرب میں واقع القادسیہ کیمپ پر اسرائیلی بمباری میں شدید زخمی ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ، غزہ کی پٹی کے جنوب میں خان یونس شہر کے مواصی کے علاقے میں قابض فوج کی فائرنگ سے ایک بچہ زخمی ہوا۔
مقامی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی ’کواڈ کاپٹر‘ ڈرونز نے غزہ شہر کے شمال مشرق میں محلہ التفاح میں المحطہ مسجد کے نواح میں شہریوں کے گھروں اور بے گھر افراد کے خیموں پر شدید فائرنگ کی۔
قابض افواج نے خان یونس شہر کے جنوب میں تباہی کی کارروائیوں کے دوران عمارتوں کو بارود سے اڑایا، جبکہ شہر کے شمال میں اسرائیلی ڈرون طیارے نچلی پروازیں کرتے رہے۔
اسرائیلی توپ خانے نے رفح شہر کے مغرب میں گولہ باری کی اور خان یونس شہر کے جنوب میں روشنی کے بم (لائٹ بم) پھینکے۔
قابض اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہیں، جس میں بے گھر افراد کے ٹھکانوں پر فضائی اور توپ خانے سے بمباری، ’یلو لائن‘ کے اندر تباہی و بربادی کی کارروائیاں اور سامانِ تجارت، امداد اور نقل و حمل پر مسلسل پابندیاں شامل ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 1109 ہو گئی ہے، جبکہ 3578 افراد زخمی ہوئے ہیں، اس کے علاوہ 800 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری جارحیت کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر شہداء کی تعداد 73,232 اور زخمیوں کی تعداد 173,686 ہو چکی ہے، جو غزہ کی پٹی پر قابض دشمن کی جاری جارحیت کی بھاری انسانی قیمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
