Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مسجد اقصیٰ میں قابض فوج کی مشقوں پر القدس فاؤنڈیشن کا سخت ردعمل

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیلی پولیس نے کی صبح مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کرتے ہوئے دو گھنٹے سے زائد عرصے تک عسکری مشقیں کی ہیں۔ فاؤنڈیشن نے اسے قابض فوج کی جانب سے اپنی نفری بڑھانے، مسجد کے انتظام پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے اور اردن کے زیر انتظام اسلامی اوقاف کے محکمہ کے اختیارات چھیننے کی کوشش قرار دیا ہے۔

فاؤنڈیشن نے ایک پریس بیان میں وضاحت کی کہ ان مشقوں میں مسجد اقصیٰ کے دروازوں کو باری باری 15 منٹ یا اس سے زائد وقت کے لیے بند کرنا، جامع القبلی کو خالی کرانا، نمازیوں کو وہاں سے نکالنا، اور مسجد کے دیگر حصوں تک کارروائی کو وسیع کرنا شامل تھا۔

بیان میں نشاندہی کی گئی کہ قابض پولیس اب سکیورٹی کے بہانے دروازے بند کرنے سے آگے بڑھ کر مسجد اقصیٰ کو ایک “میدانی تربیتی میدان” کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جس کا مقصد مسجد اور اس کے مقامات پر اپنی نام نہاد خودمختاری کو مسلط کرنا ہے۔

فاؤنڈیشن نے بتایا کہ قابض پولیس نے 15 مئی سے انتہا پسند “ٹیمپل آرگنائزیشنز” کے پلیٹ فارمز کے ذریعے نئے اہلکاروں کو بھرتی کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے، جس میں نامور یہودی مذہبی رہنماؤں (ر بّیوں) کی حمایت بھی شامل ہے جو اپنے پیروکاروں کو پولیس میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ موجودہ مشقیں اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔

القدس فاؤنڈیشن کے مطابق، اس بھرتی مہم کا مقصد قابض پولیس کی “ٹیمپل ماؤنٹ فورس” کو وسیع کرنا ہے، جس کی تعداد 500 کل وقتی اہلکاروں سے تجاوز کر جانے کی توقع ہے۔ اس سے مسجد کے اندر موجود مستقل پولیس اہلکاروں کی تعداد اسلامی اوقاف کے محافظوں کی تعداد سے کئی گنا بڑھ جائے گی، اور بڑے دھاووں کے دوران یہ تعداد مزید بڑھ جائے گی۔

فاؤنڈیشن کا ماننا ہے کہ پولیس کی تعداد میں اضافہ، انتہا پسند تنظیموں کے ارکان کو شامل کرنا اور مسجد اقصیٰ کے اندر میدانی مشقیں کرنا قابض پولیس کے اس ارادے کو تقویت دیتا ہے کہ وہ یروشلم میں اسلامی اوقاف کے محکمے کی قیمت پر خود کو “ڈی فیکٹو ایڈمنسٹریٹر” (حکمرانِ وقت) کے طور پر مسلط کر سکے۔

فاؤنڈیشن نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ ایک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہی ہے کیونکہ قابض طاقت مسلسل اس پر اسرائیلی انتظامیہ مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ فاؤنڈیشن نے اردن سے مطالبہ کیا کہ وہ مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر اسلامی اوقاف کے اختیارات کے تحفظ اور اپنے عملے کو بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ ساتھ ہی، عرب اور اسلامی دنیا پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر مسجد اقصیٰ کی شناخت اور اس کے انتظام میں امتِ مسلمہ کے خصوصی حق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائے۔

فاؤنڈیشن نے عرب اور اسلامی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کے دفاع کو اپنی اولین ترجیح بنائیں اور فلسطینیوں کی ثابت قدمی کی حمایت کریں۔ فاؤنڈیشن نے آخر میں بیت المقدس، مقبوضہ فلسطین کے اندرون اور مغربی کنارے کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مسجد اقصیٰ کا رخ کریں اور وہاں رباط (پہرہ) دیں، کیونکہ ان کی ثابت قدمی ہی یہودیت کے منصوبوں اور مقدس مقامات کے دفاع میں بنیادی ستون ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan