Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

قابض صہیونی فوج نے مسجد ابراہیمی کے صحن میں قائم سائبان مسمار کر دیا، اسلامی اوقاف کی مذمت

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی اتھارٹی کی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے الخلیل شہر میں واقع حرم ابراہیمی شریف کے صحن میں موجود سائبان کو قابض اسرائیلی افواج کی طرف سے مسمار کیے جانے کے عمل کی شدید مذمت کی ہےاور اسے ایک ایسے منصوبے پر عمل درآمد کا پیش خیمہ قرار دیا ہے جس کا مقصد صحن کی چھت کو نشانہ بنانا ہے۔

وزارت اوقاف نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ یہ اقدام فلسطین کے نمایاں ترین اسلامی معالم (نشانات)میں سے ایک کو نشانہ بنانے والا یہودیانے کا ایک نیا جرم ہے، جو حرم ابراہیمی کے اندر مروجہ صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے تسلسل میں سامنے آیا ہے۔

انہوں نےزور دیا کہ یہ جارحیت مسجد ابراہیمی کے تقدس پر حملہ ہے اور اس کے اسلامی، تاریخی و تہذیبی معالم کو تبدیل کرنے اور طاقت کے بل بوتے پر نیا رخ مسلط کرنے کی مذموم کوشش ہے۔

وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ حرم ابراہیمی اپنے تمام صحنوں، راہ داریوں اور دیواروں سمیت خالص اسلامی وقف ہےاور قابض دشمن اس کے امور میں مداخلت کرنے یا اس کے تاریخی و تہذیبی ڈھانچے میں کوئی بھی تبدیلی کرنے کا کوئی حق یا اختیار نہیں رکھتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ حرم ابراہیمی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے اور اسے یہودی عبادت گاہ (کنيسہ) میں تبدیل کرنے کی اسرائیلی پالیسی کا حصہ ہے، وزارت نے ان تمام ناپاک منصوبوں کو یکسر مسترد کرنے کے اپنے مؤقف کو دہرایا ہے۔

اسی تناظر میں اسلامی اوقاف نےعالمی برادری، اقوامِ متحدہ کے تعلیمی، علمی اور ثقافتی ادارے ”یونسکو“ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس منصوبے کو روکا جا سکے اور قابض دشمن کو حرم کے اندر اپنے اقدامات آگے بڑھانے سے باز رکھا جائے۔

انہوں نے فلسطینی عوام بالخصوص الخلیل گورنری کے باسیوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ حرم ابراہیمی میں اپنی موجودگی اور مرابطین کے ثبات کو بڑھائیں تاکہ اس کا دفاع کیا جا سکے اور اس کی اسلامی شناخت کو مٹانے کے سازشی منصوبوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

یہ نئی پیش رفت الخلیل شہر کو نشانہ بنانے والے تیز ترین اسرائیلی اقدامات کے سائے میں سامنے آئی ہے، جن میں سب سے حالیہ اقدام رواں ماہ کے اوائل میں اسرائیلی وزیرِ خزانہ بزلئیل سموٹریچ کی جانب سے ”معاہدہ الخلیل“ کو منسوخ کرنے کا اعلان تھا۔

بزلئیل سموٹریچ نے واضح کیا تھا کہ الخلیل شہر اور مغربی کنارے کے مقدس مقامات میں منصوبہ بندی اور تعمیرات کے اختیارات اوسلو معاہدوں کے دور میں طے پانے والے انتظامات کے تحت دہائیوں تک محدود رہے تھے۔

انہوں نے اپنے اس اقدام کو ایک ”ڈرامائی فیصلہ“ قرار دیتے ہوئے اشارہ کیا کہ الخلیل اور مغربی کنارے کے مقدس مقامات میں منصوبہ بندی اور تعمیرات کے تمام اختیارات اب اسرائیلی سول ایڈمنسٹریشن کی ہائیر کونسل فار پلاننگ کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ خطرناک قدم الخلیل شہر میں زندگی کے معالم، شناخت اور خودمختاری میں طویل مدتی تبدیلیاں لانے کا پیش خیمہ ہے۔ اسرائیلی تسلط کو مسلط کرنے اور جبری الحاق کی پالیسیوں کو تقویت دینے کے ایک نئے مرحلے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan