Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مسجد اقصیٰ کے تحفظ سے وابستہ افراد کی تعداد میں نمایاں کمی پر تشویش

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے مسجد اقصی کے محافظوں اور مقبوضہ بیت المقدس میں محکمہ اوقافِ اسلامی کے عملے کی تعداد میں تاریخی کمی پر سخت خبردار کیا ہے جو مسجد کے اندر اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہیں۔ ادارے نے اشارہ کیا ہے کہ صبح کے وقت ڈیوٹی پر موجود محافظوں کی تعداد سکڑ کر صرف 20 رہ گئی ہے، جو ہر شفٹ کے لیے باقاعدہ منظور شدہ تعداد کے 39 فیصد سے بھی کم ہے۔

ادارے نے واضح کیا کہ یہ کمی محافظوں اور اوقاف کے عملے کے خلاف جاری اسرائیلی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ حال ہی میں 37 سے زائد محافظوں اور ملازمین کو مسجد اقصی میں ان کے کام کی جگہوں سے زبردستی بے دخل کیا گیا ہے، جبکہ یکم جون سنہ 2026ء سے مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے 30 انتظامی ملازمین کے اجازت نامے (پاسز) منسوخ کر دیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے وہ مدرسہ منجکیہ میں واقع محکمہ اوقاف کے دفاتر میں اپنی ڈیوٹیوں پر حاضر ہونے سے محروم ہو گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بحران اسرائیلی شیکل کی شرحِ مبادلہ میں شدید اضافے کی وجہ سے مزید سنگین ہوا ہے، جس کے اثرات ملازمین کی تنخواہوں پر پڑے ہیں اور گذشتہ چھ ماہ کے دوران ان میں 15 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ مہنگائی کی شرح میں اضافے کے ساتھ ملازمین کی ایک بڑی تعداد بلا معاوضہ چھٹیوں پر جانے، بار بار کام سے غیر حاضر رہنے یا استعفیٰ دینے پر مجبور ہو گئی ہے۔

اسی تناظر میں ادارے نے مانیٹر کیا ہے کہ محکمہ اوقافِ اسلامی نے 7 مئی سنہ 2026ء سے مسجد اقصی پر دھاوا بولنے والے آباد کاروں کی تعداد سے متعلق میڈیا بریفنگز کی اشاعت روک دی ہے جبکہ القدس اوقاف کی باضابطہ ویب سائٹ بھی 29 اپریل سنہ 2026ء سے لے کر اس بیان کے جاری ہونے تک معطل ہو چکی ہے۔

ادارے کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت مقبوضہ بیت المقدس میں محکمہ اوقافِ اسلامی کی میڈیا سرگرمیوں کے تقریباً مکمل خاتمے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی دباؤ کے سامنے جھکنے اور مسجد اقصی پر مسلط کردہ میڈیا سنسرشپ کے نتیجے میں صورتحال یہودی آباد کاروں کی سفاکیت کو دستاویزی شکل دینے میں ناکامی سے بڑھ کر دھاوا بولنے والوں کی تعداد کا پتہ لگانے میں بھی عاجز آنے کے مرحلے تک پہنچ سکتی ہے۔

ادارے نے مزید کہا کہ یہ نئی پیش رفت اردن کے زیرِ انتظام محکمہ اوقافِ اسلامی کے کاموں میں منظم رکاوٹیں ڈالنے کے مترادف ہے، جس میں مسجد اقصی کے اندر مرمت کے معمولی کاموں پر پابندی اور سکیورٹی بہانوں کا سہارا لے کر اس کے چار تاریخی مقامات کو خالی کرانے کی کوششیں شامل ہیں۔

ادارے نے تاکید کی ہے کہ یہ تمام اقدامات مسجد اقصی اور القدس کے مقدسات میں اردن کے کردار کو ایک نازک موڑ پر لے آئے ہیں، کیونکہ اس کا مقصد مسجد کے اسلامی و اردنی انتظام کو ختم کر کے وہاں اسرائیلی انتظام مسلط کرنا ہے۔

اپنے بیان کے اختتام پر القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے اپیلوں کا ایک سلسلہ جاری کیا، جس میں اردن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اوقاف کے عملے کی مدد کرے، انہیں سیاسی و قانونی تحفظ فراہم کرے، اور ان کٹھن معاشی و معیشتی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کی استقامت کو مضبوط بنانے کی خاطر ایک ہنگامی فنڈ قائم کرے۔

ادارے نے کئی عرب اور اسلامی سماجی تنظیموں کے ہمراہ اس فنڈ میں فوری مالی تعاون پیش کرنے کی آمادگی کا بھی اعلان کیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے محکمہ اوقاف کی میڈیا سرگرمیوں کی فوری بحالی، القدس اوقاف کی آفیشل ویب سائٹ کو دوبارہ فعال کرنے اور القدس میں اسلامی اوقاف کونسل کی تنظیمِ نو کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ موجودہ چیلنجز کے سامنے اس کے کردار کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

دیگر اپیلوں میں، ادارے نے مقبوضہ بیت المقدس، سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں اور دیگر فلسطینی خطوں کے باسیوں پر زور دیا کہ وہ مسجد اقصی کی طرف اپنے سفر تیز کریں اور وہاں مرابطین کی موجودگی کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے عرب اور اسلامی عوامی قوتوں پر بھی زور دیا کہ وہ مسجد اقصی کے دفاع، وہاں کے مرابطین کی مدد اور قابض دشمن کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے میں اپنا براہِ راست کردار ادا کریں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan