غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ نسل کشی کی جنگ کو ایک ہزار دن مکمل ہو چکے ہیں. اس دوران غزہ کا زرعی شعبہ اپنی تاریخ کے بدترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔ زرعی زمینیں، انفراسٹرکچر، نباتاتی، حیوانی اور سمندری پیداوار کے ذرائع وسیع پیمانے پر تباہی کا شکار ہو چکے ہیں۔
محاصرے کے تسلسل اور پیداواری اشیاء کی درآمد پر پابندی کے ساتھ فوڈ سکیورٹی کے نظام کے مکمل خاتمے اور زراعت و ماہی گیری پر انحصار کرنے والے ہزاروں خاندانوں کے مصائب میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
منظم تباہی، فوڈ سکیورٹی کے لیے خطرہ
جنگ نے غزہ کے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ زرعی زمینوں کے بڑے حصے کو بلڈوز کر کے تباہ کر دیا گیا، آبپاشی کے نیٹ ورک، کنویں اور زرعی سڑکیں ملیامیٹ ہو گئیں، جس کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت میں زبردست کمی آئی ہے اور آبادی کا انحصار مکمل طور پر غیر ملکی امداد پر ہو گیا ہے۔
مغازی کیمپ کے مشرق میں اپنے کھیتوں کو تباہ ہوتا دیکھنے والے کسان محمد مغاری اپنی تکلیف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے زیتون، انجیر اور دیگر موسمی فصلوں کے کھیت برباد کر دیے گئے۔ ان کے مطابق جنگ نے نہ صرف ان سے ان کا ذریعہ معاش چھینا، بلکہ گھر کی مکمل تباہی کے بعد انہیں اور ان کے اہل خانہ کو دربدر ہونے پر بھی مجبور کیا۔
مرغ بانی کا شعبہ.. بھاری نقصانات اور پیداوار معطل
پولٹری اور فیڈ ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر ماجد جرادہ کے مطابق، مرغ بانی کا شعبہ بھاری نقصانات کا شکار ہوا۔ 17 میں سے 15 انکیوبیٹرز (مادہ سے بچے نکالنے والی مشینیں) تباہ کر دیے گئے، اس کے علاوہ تقریباً 1500 فارم اور تین فیڈ فیکٹریاں مکمل طور پر برباد ہو گئیں، جس کی وجہ سے سینکڑوں خاندان اپنے بنیادی ذریعہ معاش سے محروم ہو گئے۔
جانوروں کی پیداوار کے شعبے سے وابستہ افراد ایک ہنگامی بحالی منصوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں جس میں فارمز کی بحالی، چارے اور متبادل توانائی کی فراہمی، اور پیداواری سامان کی نقل و حمل کے لیے بارڈر کراسنگ کھولنا شامل ہے، تاکہ زرعی سرگرمیوں کو کم از کم سطح پر بحال کیا جا سکے۔
ماہی گیری کا شعبہ.. جنگ کی بھاری قیمت
سمندری شعبے میں ماہی گیروں کو بندرگاہوں، کشتیوں اور مچھلی پکڑنے کے آلات کی تباہی کے نتیجے میں بھاری نقصانات اٹھانا پڑے ہیں۔
ماہی گیروں کی یونین کے سربراہ نزار عیاش کے مطابق، غزہ اور شمالی بندرگاہوں کی تباہی اور دیگر بندرگاہوں کو پہنچنے والے وسیع نقصانات کے بعد ماہی گیروں کو 75 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچ چکا ہے۔
ماہی گیروں کے مصائب صرف مادی تباہی تک محدود نہیں، بلکہ اسرائیلی پابندیوں کے سبب انہیں سمندر کے وسیع حصوں تک جانے سے روکا جاتا ہے، جس سے مچھلی کے شکار میں کمی آئی ہے اور ان کی معاشی زندگی دشوار تر ہو گئی ہے۔
ماہرین اور زرعی و سمندری شعبوں کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ ان شعبوں کی مسلسل تنزلی فوڈ سکیورٹی کے بحران، غربت اور بے روزگاری کی شرح میں اضافے کا باعث بنے گی۔ انہوں نے عالمی برادری اور امدادی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں پیداوار کے باقی ماندہ ذرائع کو بچانے کے لیے فوری مداخلت کریں۔
