رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مرکز فلسطین برائے اسیران کے مطالعاتی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے لے کر اب تک مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس سے خواتین اور بچیوں کی گرفتاری کے ایک سو تیس کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں، ایسے عالم میں جب فلسطینی خواتین کو گرفتاری، وحشیانہ تشدد اور میدانی تفتیش کا نشانہ بنانے کا قبیح سلسلہ مسلسل جاری ہے، قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر اسیر خواتین کو انتہائی کٹھور اور ظالمانہ حالات کا سامنا ہے۔
مذکورہ مرکز نے ایک بیان میں اس بات کی نشاندہی کی کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد سے فلسطینی خواتین کے خلاف گرفتاریوں کی لہر میں انتہائی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ تعداد بڑھ کر تقریباً آٹھ سو گرفتاریوں تک جا پہنچی ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ گرفتاریاں انتقام اور اجتماعی سزا کی سفاکانہ پالیسی کے تحت عمل میں لائی جا رہی ہیں، جب کہ زیادہ تر کیسز ایسے مبہم اور بے بنیاد الزامات پر مبنی ہیں جن میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی وہ پوسٹس بھی شامل ہیں جنہیں قابض دشمن تحریض کے زمرے میں شمار کرتا ہے۔
مرکز نے واضح کیا کہ اس اعداد و شمار میں قطاع غزہ کی خواتین قیدی شامل نہیں ہیں، چونکہ ان کی درست تعداد کا کوئی حقیقی تخمینہ موجود نہیں ہے اور ان کے خلاف جبری گمشدگی کا مجرمانہ سلسلہ ہنوز جاری ہے، اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ قابض دشمن کی طرف سے وقتاً فوقتاً کسی ایک یا زیادہ اسیر خواتین کی رہائی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ قطاع غزہ سے تعلق رکھنے والی گمنام شناخت کی حامل خواتین قیدی بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
مرکز نے توجہ مبذول کرائی کہ گرفتاریوں کی ان ظالمانہ مہمات نے ضعیف العمر خواتین، کم عمر بچیوں، حاملہ خواتین، بیمار خواتین، یونیورسٹی کی طالبات، میڈیا کے شعبے سے وابستہ نامہ نگار خواتین اور گھریلو خواتین کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے، اس کے علاوہ اسیروں اور شہداء کی زوجات اور بہنوں کو بطورِ خاص ہدف بنایا گیا ہے۔
ایک مہینے کے دوران اکتیس گرفتاریاں
رواں سال کے دوران مارچ کا مہینہ خواتین کے خلاف گرفتاریوں کی سب سے بڑی لہر کا شاہد رہا، جب گرفتاریوں کے کیسز کی تعداد اکتیس تک جا پہنچی، جن میں اکثریت اسیروں، شہداء، رہا ہونے والے اسیروں اور جلاوطن کیے جانے والوں کی بیویوں کی تھی۔
قابض دشمن نے زیادہ تر گرفتار شدہ خواتین کو گھنٹوں طویل تفتیش کے بعد رہا کر دیا، جب کہ دو خواتین کو اسیر رکھا، یہاں تک کہ ایک تیسری خاتون کو دس دن بعد رہا کر کے چوبیس گھنٹوں کے اندر دوبارہ گرفتار کر لیا گیا، اور بعد ازاں اس کے خلاف انتظامی حراست کا ظالمانہ حکم جاری کر دیا گیا۔
مرکز نے رواں سال کے دوران تین حاملہ خواتین کی گرفتاری کا ریکارڈ درج کیا، جس نے ان کی زندگیوں کو شدید خطرے سے دوچار کیا، ان میں کلقیلیہ کی رہنے والی سینتیس سالہ امینہ شاہر الطویل شامل ہیں جو حمل کے چوتھے مہینے میں تھیں اور چار بچوں کی ماں تھیں، انہیں چار ماہ بعد انتہائی خراب صحت اور نفسیاتی حالات میں رہا کیا گیا۔
اسی طرح نابلس سے تعلق رکھنے والی پینتیس سالہ دانا عناد جودہ کی گرفتاری عمل میں آئی، جو حمل کے پانچویں مہینے میں اور ایک بچے کی ماں ہیں، اور جن کے خلاف چھ ماہ کی انتظامی حراست کا فیصلہ جاری کیا گیا۔
جب کہ رام اللہ سے تعلق رکھنے والی اٹھائیس سالہ منار ابراہیم كراجة تاحال زیر حراست ہیں، جو حمل کے چوتھے مہینے میں اور دو بچوں کی ماں ہیں۔
سفاکانہ تشدد، ٹارچر اور ظالمانہ حالات
حقوق انسانی کے اس مرکز نے اسیر خواتین کو درپیش انتہائی کٹھور حراستی حالات کو دستاویزی شکل دی ہے، جن کا آغاز آدھی رات کے وقت گھروں پر دھاوه بولنے اور بچوں کی دل دہلا دینے والی چیخوں کے درمیان خواتین کو زبردستی اور درندگی سے کھینچ کر لے جانے سے ہوتا ہے، اس سے پہلے کہ ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی جائیں، ان کے ہاتھوں کو جکڑا جائے اور انہیں غبی گالیاں اور سنگین توہین آمیز رویے کا نشانہ بنایا جائے۔
گرفتار شدہ خواتین کو ہشارون جیل کے تفتیشی کیمپ میں منتقل کیا جاتا ہے، جہاں مرکز کے مطابق انہیں ان کے حوصلے توڑنے اور طاقت کے بل بوتے پر اعترافات حاصل کرنے کی غرض سے تشدد، بدسلوکی اور توہین کی مختلف منافیِ انسانیت شکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تفتیش کے اختتام کے بعد اسیر خواتین کو الدامون جیل میں منتقل کر دیا جاتا ہے، جہاں مرکز کی رپورٹ کے مطابق جبر و استبداد، فاقہ کشی، طبی غفلت، جنسی ہراسانی اور برہنہ تلاشی کا مکروہ سلسلہ بدستور جاری رہتا ہے، اس کے علاوہ کمروں میں شدید ترین حبس اور بھیڑ، مسلسل نگرانی، شبانہ چھاپے، مارکٹائی اور صوتی بموں اور گیس کے گولوں کا استعمال معمول ہے۔
بیان کے مطابق اسیر خواتین کی صعوبتیں اس وقت مزید بڑھ جاتی ہیں جب چونتیس ماہ سے زائد عرصے سے ملاقاتوں کا سلسلہ مکمل طور پر منقطع ہے اور کپڑے و بنیادی ضروریات کی اشیاء فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔
بیمار اور کم عمر بچیوں سمیت اکیانوے اسیر خواتین
مرکزِ فلسطین نے اطلاع دی ہے کہ قابض دشمن تاحال اکیانوے فلسطینی اسیر خواتین کو انتہائی کٹھور حالات میں قید رکھے ہوئے ہے، جن میں اٹھارہ سال سے کم عمر کی دو کم عمر بچیاں اور پینتیس ایسی مائیں شامل ہیں جن کے مختلف عمروں کے دسیوں بچے موجود ہیں۔
اسیر خواتین کی فہرست میں کینسر کے موذی مرض میں مبتلا دو ایسی خواتین بھی شامل ہیں جنہیں مرکز کے مطابق ضروری علاج سے صریحاً محروم رکھا گیا ہے، اس کے علاوہ ہیپاٹائٹس بی میں مبتلا ایک اسیر خاتون اور الزائمر کی بیماری میں مبتلا ایک معمر خاتون بھی شامل ہے جنہیں رہا کرنے سے قابض دشمن صاف انکار کر رہا ہے۔
داخلی علاقوں سے تعلق رکھنے والی اسیر خاتون تہائی ابو سمحان کا معاملہ انتہائی نمایاں ہے، جنہوں نے ستمبر سنہ 2025ء میں الدامون جیل کے اندر اپنے نو مولود بچے کو جنم دیا، جب کہ انہیں تحریض کے الزام میں حمل کے ساتویں مہینے میں گرفتار کیا گیا تھا، اور وہ اب بھی اپنے شیرخوار بچے کے ساتھ اسی جیل میں قید ہیں۔
مرکز نے اس امر کا اظہار کیا کہ فلسطینی خواتین کو جس بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے عالمی معیار کے دوہرے پن کو بے نقاب کرتا ہے، اس نے بین الاقوامی اداروں سے پُر زور مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، ان پامالیوں کو روکنے کے لیے عملی اقدام اٹھائیں اور اسیر خواتین کو فوری طور پر رہا کریں، خصوصاً ان خواتین کو جو مرکز کے بقول بالکل بے بنیاد اور چارج شیٹ کے بغیر الزامات کے تحت قید ہیں۔
قابض صہیونی افواج کی طرف سے مقبوضہ ضفة کے مختلف علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر دھاوے بولنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جن کے دوران بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی مہمات چلائی جاتی ہیں جن میں خواتین اور بچیاں بھی شامل ہیں۔
کلب برائے اسیران نے یکم جنوری سنہ 2026ء سے لے کر پچیس جولائی تک مقبوضہ ضفة میں گرفتاری کے چھتیس سو کیسز ریکارڈ کیے ہیں، جن کے ساتھ ساتھ ہزاروں میدانی تفتیش کے معاملات بھی درج کیے گئے ہیں۔
سرکاری حقوقی اعداد و شمار کے مطابق قابض صہیونی عقوبت خانوں میں اسیران کی کل تعداد نو ہزار چار سو اسیران سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں بتیس سو چوالیس انتظامی قیدی بھی شامل ہیں، اور اس تعداد میں وہ قیدی ہرگز شامل نہیں ہیں جو قابض فوج کے زیرِ انتظام کیمپوں میں حراست میں رکھے گئے ہیں۔
