غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل پامالیوں کے دائرہ کار میں قابض اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی جارحیت کے نتیجے میں تین فلسطینی شہری شہید ہو گئے، جن میں سے دو اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ دیگر کئی افراد زخمی ہو گئے۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ وسطی غزہ کی پٹی میں دیر البلح کے مقام پر واقع شہداء الاقصی ہسپتال کے قریب بے گھر افراد کے خیمے پر قابض دشمن کے طیاروں کے حملے کے نتیجے میں کم از کم ایک شہری شہید اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
ذرائع نے وضاحت کی کہ شہید ہونے والے اس شخص کا نام محمد ناصر ابو اسد ہے، جو اس طرح اپنی والدہ اور بھائیوں سے جا ملے جو نسل کشی کی اس جنگ کے آغاز میں اپنے گھر پر بمباری کے نتیجے میں پہلے ہی شہید ہو چکے تھے۔
قابض صہیونی فوج کے توپ خانے نے وسطی غزہ کی پٹی میں واقع منطقة المصدر پر شدید گولہ باری کی، جبکہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں خان یونس کے مشرق کی طرف قابض فوج کی گاڑیوں اور ٹینکوں نے اندھا دھند فائرنگ کی۔
اسی طرح ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی کہ محمود حسنی أبو شر نامی شہری گذشتہ منگل کے روز شہر غزہ کی بندرگاہ پر واقع ایک کیفے کو نشانہ بنانے والے قابض اسرائیلی بمباری کے واقعے میں زخمی ہونے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔
علاوہ ازیں، حازم بسام موسیٰ نامی شہری بھی خان یونس پر کیے گئے ایک قابض اسرائیلی حملے میں لگنے والے کاری زخموں کی وجہ سے شہید ہو گئے۔
اس سے قبل غزہ کی پٹی میں وزارتِ صحت کی طرف سے اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے لے کر اب تک غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی اس جارحیت کے نتیجے میں شہداء کی مجموعی تعداد بڑھ کر تہتر ہزار چار سو بیس تک پہنچ چکی ہے، جب کہ ایک لاکھ چوہتر ہزار تین سو انہتر افراد زخمی ہوئے ہیں، وزارت نے اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ہزاروں لقمہ اجل بننے والے اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر پڑے ہیں، جن تک ریسکیو اور امدادی عملے کی رسائی انتہائی دشوار بنی ہوئی ہے۔
