Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

1700 شہداء کی میتیں اسرائیلی تحویل میں، لواحقین برسوں سے انتظار میں

مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی اسیران کے میڈیا آفس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیلی حکام کی طرف سے شہداء کے جسدِ خاکی کو قبضےمیں رکھنا بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس مکروہ عمل کی وجہ سے شہداء کے اہل خانہ کو مسلسل کرب کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں اپنے پیاروں کا انجام جاننے، انہیں آخری الوداع کہنے اور ان کے مذہبی شعائر کے مطابق ان کی تدفین کرنے کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔

یہ بیان فلسطین میں اسیران کی بازیابی کے قومی دن کے موقعے پر جاری کیا گیا ہے جو ہر سال 27 اگست کو منایا جاتا ہے۔

دفتر کی طرف سے جمعرات کے روز اسی مناسبت سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دستیاب اعداد و شمار جو کہ میڈیا کی طرف سے فاش کی گئی معلومات پر مبنی ہیں، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ قابض اسرائیل نے تقریبا 1700 شہداء کے جسدِ خاکی کو قید کر رکھا ہے، جبکہ شہداء کے جسدِ خاکی کی بازیابی کے لیے قائم کردہ قومی مہم اور اسیران کے اداروں کے پاس جن شہداء کی شناخت معلوم ہے ان کی تعداد 799 شہداء تک پہنچتی ہے۔

دفتر نے اس بات کی وضاحت کی کہ ان میں 256 ایسے شہداء بھی شامل ہیں جنہیں قبرستان کے بجائے نمبروں کےناموں سے تحویل میں رکھا گیا ہے، جبکہ اسیر تحریک سے تعلق رکھنے والے 99 شہداء، 18 سال سے کم عمر کے 81 بچے اور اس کے علاوہ 10 شہید خواتین بھی اس فہرست میں شامل ہیں، جبکہ غزہ کی پٹی میں ہزاروں افراد کے تاحال لاپتہ ہونے کے تناظر میں ان اعداد و شمار میں مزید اضافے کا بھی قوی امکان پایا جاتا ہے۔

دفتر نے اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ قابض اسرائیل کی طرف سے دہائیوں سے منائی جانے والی شہداء کے جسدِ خاکی کو روکے رکھنے کی یہ سفاک پالیسی شہداء کے اہل خانہ کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرتی ہے اور ان پر انتظار، درد اور معلق سوگ کی ایک کیفیت مسلط کرتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ گھناؤنی پالیسی بین الاقوامی انسانی قانون کے ان اصولوں کی بھی دھجیاں اڑاتی ہے جو مردوں کا احترام کرنے اور ان کے ساتھ باعزت سلوک کرنے کا حکم دیتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ اپنے پیاروں کا انجام جاننے، انہیں دفنانے اور موت و تدفین سے متعلق مذہبی رسومات ادا کرنے کے خاندانوں کے حق کو بھی مجروح کرتی ہے۔

اسیران کے میڈیا آفس نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ تمام لاپتہ افراد کے انجام کو ظاہر کرے، شہداء کے جسدِ خاکی بغیر کسی قید و شرط کے ان کے خاندانوں کے حوالے کرے، اور جسدِ خاکی کو قید رکھنے کے حالات اور ان کے ساتھ برتا جانے والے طریقے کے حوالے سے آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کا آغاز کرے جس میں مردوں کے تقدس کی پامالی کے شکوک و شبہات کی جانچ بھی شامل ہو۔

دفتر نے مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر بین الاقوامی انسانی قانون کی پامالیوں، جن میں سب سے نمایاں شہداء کے جسدِ خاکی کو قید رکھنا ہے پر قابض اسرائیل کا احتساب کرنے کا پرزور مطالبہ کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ لاشوں کی بازیابی کے لیے عوامی، ملی اور قانونی کوششوں کو تیز کیا جائے اور اس مسئلے کو شہداء کے اہل خانہ کے لیے سچائی، وقار اور انصاف کے حصول کی کوششوں کا ایک لازمی حصہ بنایا جائے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan