غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مرکزِ غزہ برائے انسانی حقوق نے امریکی حکام کے اس فیصلے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے جس کے تحت برطانوی تحریک ’فلسطین ایکشن‘ کو ایک دہشت گرد گروہ کے طور پر نامزد کرتے ہوئے اس پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ مرکز نے اسے ایک خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے جو فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی پر مبنی سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی مظاہروں کو مجرمانہ رنگ دینے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کے ہتھکنڈوں اور مالی پابندیوں کے استعمال میں اضافے کی غمازی کرتا ہے جبکہ اس دوران قابض اسرائیل کی طرف سے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے پر حملے مسلسل جاری ہیں۔
جمعرات کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں مرکز نے واضح کیا کہ 26اگست سنہ 2026ء کو جاری ہونے والا یہ امریکی فیصلہ سنہ 2025ء میں برطانوی حکومت کی طرف سے اس تحریک پر عائد کردہ پابندی کے تناظر میں سامنے آیا ہے جبکہ اس نے اس بات سے بھی خبردار کیا کہ یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب برطانیہ میں اس پابندی کی قانونی حیثیت پر اب بھی عدالتی جنگ جاری ہے۔
مرکز نے اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ امریکہ نے اس تحریک کو ایگزیکٹو آرڈر 13224 سے منسلک پابندیوں کے دائرہ کار میں شامل کر لیا ہے جس کے نتیجے میں وسیع تر مالی پابندیوں کے علاوہ امریکی دائرہ اختیار میں آنے والے اثاثوں کو منجمد کر دیا گیا ہے اور امریکی شہریوں کو اس نامزد ادارے کے ساتھ کسی بھی قسم کی امداد فراہم کرنے یا ممنوعہ مالی لین دین کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
مرکز نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی مؤقف کی سزا دینے، احتجاج کا گلا گھٹنے یا سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں کے شکار مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کو جرم قرار دینے کا آلہ کار نہیں بنایا جانا چاہیے جبکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کا قانون اظہارِ رائے کی آزادی، پرامن اجتماع کی آزادی اور انجمن سازی کے حق کی مکمل حفاظت کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حقوق کو صرف کسی واضح قانون کے تحت کسی جائز مقصد کے حصول کی خاطر اور ضرورت، تناسب اور عدم امتیاز کے اصولوں کی روشنی میں ہی محدود کیا جا سکتا ہے۔ مزید کہا گیا کہ اگر حکام کے پاس کسی فرد کے مخصوص مجرمانہ افعال میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ ذمہ داروں کا احتساب منصفانہ اور انفرادی عدالتی کارروائی کے ذریعے کیا جائے، جہاں تک دہشت گردی کے مفہوم کو وسعت دے کر کسی سیاسی یا احتجاجی تحریک کو اجتماعی طور پر اس کے دائرے میں لانے کا تعلق ہے تو یہ سخت اور متعین قانونی معیارات کے بغیر انفرادی ذمہ داری کے اصول کو شدید خطرے سے دوچار کرتا ہے اور اس سے اجتماعی سزا اور سویلین و سیاسی سرگرمیوں کو مجرمانہ رنگ دینے کا دروازہ کھل جاتا ہے۔
مرکز نے اس بات کو اجاگر کیا کہ خود امریکی حکام قانونی طور پر غیر ملکی تنظیموں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دینے کے لیے مخصوص معیارات طے کرتے ہیں جن میں اس بات کا ثبوت شامل ہوتا ہے کہ آیا وہ تنظیم کسی دہشت گردانہ سرگرمی میں ملوث رہی ہے یا نہیں یا پھر اس کے پاس اس طرح کا فعل انجام دینے کی صلاحیت اور نیت موجود ہے یا نہیں اور کیا اس سے امریکی قومی سلامتی یا امریکی شہریوں کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے یا نہیں، جو کہ ’فلسطین ایکشن‘ تحریک کے معاملے میں ہرگز ثابت نہیں ہو سکا۔
مرکز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محض کسی ملک کی پالیسیوں کی مخالفت کرنا، ہتھیاروں کی صنعت میں کمپنیوں کے ملوث ہونے کے خلاف احتجاج کرنا یا فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا بذاتِ خود کسی تنظیم کو دہشت گرد قرار دے کر اسے مجرم ثابت کرنے کی کوئی قانونی بنیاد فراہم نہیں کر سکتا۔ اس نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہاں تک کہ ان صورتوں میں بھی جہاں بعض احتجاجی اقدامات میں قانونی خلاف ورزیاں شامل ہوں، اصول یہ بنتا ہے کہ قانون کے مطابق اس کے مرتکب افراد کو انفرادی طور پر جوابدہ ٹھہرایا جائے نہ کہ کسی سیاسی اختلاف کو سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ بنا دیا جائے۔
مرکزِ غزہ برائے انسانی حقوق کا ماننا ہے کہ اس تازہ ترین فیصلے کا جائزہ حالیہ برسوں میں امریکی اقدامات کے اس وسیع تر پس منظر میں لیا جانا چاہیے جن کا ہدف وہ فریق اور افراد رہے ہیں جو فلسطین سے متعلق انسانی حقوق، قانونی اور سیاسی امور سے وابستہ ہیں۔
اس نے یاد دلایا کہ امریکہ اس سے قبل بھی بین الاقوامی جرائم سے متعلق تحقیقات کی پاداش میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حکام کے خلاف پابندیاں اور قدغنیں عائد کر چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ساتھ مل کر کام کرنے والی آزاد فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں پر بھی مالی پابندیاں عائد کر چکا ہے۔
مرکز نے واضح کیا کہ اس لائحہ عمل کی بنیاد 6 فروری سنہ 2025ء کو جاری ہونے والا وہ ایگزیکٹو آرڈر نمبر 14203 تھا جو بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا اور جسے فروری سنہ 2025ء میں عدالت کے سابق پراسیکیوٹر کریم خان پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، اور بعد ازاں اس کا دائرہ کار بڑھا کر عدالت کے متعدد ججوں اور پراسیکیوٹرز تک کو اس کی لپیٹ میں لے لیا گیا۔
اس نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز پر بھی امریکی انتظامیہ کی طرف سے پابندیاں عائد کیے جانے کا ذکر کیا۔
بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ ستمبر سنہ 2025ء میں امریکی محکمہ خارجہ نے انسانی حقوق کی تین سرکردہ فلسطینی تنظیموں کو، جن میں ’الحق‘، ’الميزان سینٹر فار ہیومن رائٹس‘ اور ’فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق‘ شامل ہیں، اسی پابندی کے نظام کے تحت درج کر لیا تھا۔ اس کے علاوہ جولائی سنہ 2025ء میں فلسطینی اتھارٹی اور تنظیم آزادی فلسطین کے عہدیداروں پر ویزا کی پابندیاں اور روکاٹیں بھی عائد کی گئی ہیں۔
مرکز نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ہیومن رائٹس واچ، سنٹر فار کانسٹیٹشنل رائٹس، امریکن فرینڈز سروس کمیٹی اور اوپن سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ سمیت انسانی حقوق کی کئی امریکی تنظیموں نے ان پابندیوں کو اس بنیاد پر چیلنج کرنے کے لیے اگست سنہ 2026ء میں نیویارک کی ایک فیڈرل کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے کہ یہ آزادیِ اظہار اور انجمن سازی کے آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
اس انسانی حقوق کے مرکز نے اس بات سے خبردار کیا کہ ان اقدامات کا تسلسل فلسطین سے متعلق شہری اور قانونی دائرہ کار کو تنگ کرنے کا ایک خطرناک رجحان پیدا کر رہا ہے۔ مزید کہا کہ انسانی حقوق کے محافظوں، صحافیوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور ان عدالتی اداروں کی حفاظت کرنے کے بجائے جو بین الاقوامی جرائم کی تحقیقات کی کوشش کرتے ہیں، یہ تمام ادارے خود دباؤ، پابندیوں اور الزامات کی زد میں آ جاتے ہیں۔
مرکز نے اس بات کو افسوسناک قرار دیا کہ اس پالیسی کا سب سے خطرناک پہلو بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے نفاذ میں دوہرے معیار کا اپنایا جانا ہے۔ اس نے واضح کیا کہ ایک طرف تو امریکہ خود کو استثنیٰ کے خاتمے اور بین الاقوامی جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے حامی کے طور پر پیش کرتا ہے تو دوسری طرف وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حکام کے خلاف اس لیے سزاؤں پر مبنی اقدامات کرتا ہے کہ انہوں نے اپنے آزادانہ عدالتی اختیارات کا استعمال کیا تھا، اور جب وہ آزادیِ اظہار اور سیاسی سرگرمیوں کی باتیں کرتا ہے تو دوسری طرف ’فلسطین ایکشن‘ تحریک کو اس کی سیاسی اور یکجہتی پر مبنی سرگرمیوں کی وجہ سے نشانہ بناتا ہے۔
مرکز نے اس بات پر شدید زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ قانون کے تابع ہونی چاہیے نہ کہ اس کا متبادل بننی چاہیے اور احتساب کے مطالبات کو دبانے یا سول سوسائٹی کو خوفزدہ کرنے اور بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے خلاف احتجاج کرنے سے روکنے کے لیے دہشت گردی کے نام کا استعمال ہرگز نہیں کیا جانا چاہیے۔
مرکز نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اظہارِ رائے کی آزادی کا مطلب جرائم کے احتساب سے استثنیٰ حاصل ہونا نہیں ہے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ سزا ہمیشہ کسی مخصوص فعل، انفرادی ذمہ داری، منصفانہ کارروائی اور عدالتی جانچ پڑتال کے قابل شواہد پر مبنی ہونی چاہیے۔ جہاں تک سول اور سیاسی سرگرمیوں کے پورے دھارے کو خاموش کرنے کے لیے مبہم درجہ بندیوں اور اجتماعی سزاؤں کے استعمال کا تعلق ہے تو یہ قانون کی حکمرانی سے انحراف کے مترادف ہے۔
مرکزِ غزہ برائے انسانی حقوق نے امریکہ اور یورپ کے عوام سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ شہری آزادیوں کا دفاع کریں اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کو جرم قرار دینے کے اس عمل کو مسترد کریں۔ اس نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، یونینز، قانونی اداروں، ماہرینِ تعلیم اور پارلیمنٹیرینز سے بھی اپیل کی کہ وہ سیاسی اور مدنی سرگرمیوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے اس بڑھتے ہوئے استعمال کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اور آزادیِ اظہار، اجتماع، انجمن سازی اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں پر ان اقدامات کے اثرات کو دستاویزی شکل دینے کا مطالبہ کیا۔ اس نے ان تمام دستیاب قانونی اور عدالتی راستوں کو بروئے کار لانے پر زور دیا جو بنیادی حقوق کی پامالی کرنے والے یا ضرورت، تناسب اور طریقہ کار کے تقاضوں سے خالی فیصلوں کو چیلنج کرنے کے لیے موجود ہوں۔
مرکز نے امریکہ اور برطانیہ سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ ’فلسطین ایکشن‘ تحریک سے متعلق اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ سیاسی اختلافِ رائے یا فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کی سزا دینے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی قانون سازی کا استعمال نہ کیا جائے۔ اس نے اس سویلین دائرہ کار کو کچلنے کی پالیسی کو فوری طور پر بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا جو فلسطینی حقوق کے دفاع یا بین الاقوامی جرائم کے ذمہ داروں کے احتساب کے مطالبے کو پابندیوں اور مقدمات کی زد میں لے آتی ہے۔
مركزِ غزہ برائے انسانی حقوق نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بین الاقوامی قانون کو منتخب بنیادوں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا، یا تو شہریوں کا تحفظ، اظہارِ رائے کی آزادی اور انصاف کا حق تمام لوگوں کے لیے یکساں طور پر لاگو ہونے والے عمومی اصول بن سکتے ہیں یا پھر انسانی حقوق کا یہ پورا نظام ایک ایسا سیاسی آلہ کار بن کر رہ جائے گا جو اپنی تمام تر شرعیت اور ساکھ کھو دے گا۔
