مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی پولیس کی کڑی سکیورٹی میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 1193 یہودی آباد کاروں نے مقدّس شہر القدس میں واقع مسجدِ اقصی کے صحنوں پر دھاوا بولا جبکہ اس دوران تلمودی رسومات اور کھلی پامالیوں کی شدت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا اور دوسری طرف فلسطینی نمازیوں کی آمد پر سخت پابندیاں مسلط رہیں۔
بیت المقدس کے مقامی ذرائع کے مطابق ان دھاووں کے دوران شدید اشتعال انگیز گشت کیا گیا اور تلمودی عبادات و رسومات ادا کی گئیں، جن کا بنیادی مرکز قبلہ اول کا مشرقی گوشہ اور قبۃ الصخرہ المشرفہ کا گردونواح رہا۔ اس دوران قابض صہیونی پولیس کے اہلکاروں نے متعدد نمازیوں کو باہر ہی روک کر ان کے شناختی کارڈز ضبط کر لیے اور بیرونی ابواب سے ان کا داخلہ سخت ترین بنا دیا۔
جاری ماہِ اکتوبر کی 26 تاریخ بروز پیر قابض اسرائیل کا سفاک اور انتہا پسند وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر پولیس کی بھاری نفری کی چھتر چھایا میں درجنوں یہودی آباد کاروں کو لے کر مسجدِ اقصی کے حرم میں گھس آیا، جہاں دھاوا بولنے والے شرپسندوں کو مبینہ ’ہیکل‘ سے متعلق من گھڑت تاریخ پر بریفنگ دی گئی۔
اگلے ہی دن منگل 27 اکتوبر کو متعصب آباد کاروں نے قبۃ الصخرہ کے بالکل سامنے اور مشرقی صحن میں کھلے عام تلمودی عبادات ادا کیں اور اپنے خرافاتی ’مہاکاوی سجدے‘ کی رسم بجا لائے۔
جمعرات 29 اکتوبر کو بھی یہودی آباد کاروں کے جتھے باب المغاربہ کے راستے پھر مسجد پر حملہ آور ہوئے اور مسجد کے صحن میں اشتعال انگیز چکر لگاتے ہوئے علانیہ تلمودی رسومات ادا کرتے رہے۔
بیت المقدس کے دینی و علمی حلقوں نے ان مذموم کارروائیوں میں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، بالخصوص مشرقی علاقے کو ہدف بنانے پرجو اب آباد کاروں کے اجتماع اور اجتماعی عبادات کا باقاعدہ اڈا بنتا جا رہا ہے۔ علماء اور انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ تمام ہتھکنڈے مسجدِ اقصی کی تاریخی و قانونی حیثیت کو تار تار کرنے اور اسے زمانی و مکانی اعتبار سے تقسیم کرنے کی اس مکروہ صہیونی سازش کا حصہ ہیں جس کا مقصد قبلہ اول کی شناخت محو کرنا ہے۔
