Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

ٹوٹے ہوئے اعضا، علاج سے محروم زخم، غزہ کے اسیران کی اذیت ناک صورتحال

غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی اسیران میڈیا آف نے انکشاف کیا ہے کہ صیہونی ’جانوت‘ عقوبت خانے کی انتظامیہ غزہ کے اسیران کو ہر قسم کے طبی علاج سے محروم کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے، بالخصوص ان اسیران کو جو رواں ماہ کی سات تاریخ کو ہونے والی وحشیانہ سرکوبی اورتشدد کے دوران شدید زخمی ہوئے تھے اور ان کی ہڈیاں توڑ دی گئی تھیں اور انہیں زخموں کے ساتھ بغیر کسی طبی دیکھ بھال کے تڑپنے کے لیے لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے۔

دفتر نے وضاحت کی کہ اس صیہونی جلادوں کے تشدد ، پسلیوں میں شدید شکستگی اور سر میں گہرے زخم کا شکار ہونے والے ایک اسیر کو تاحال کوئی علاج میسر نہیں آ سکا، جبکہ انتظامیہ نے ایک اور اسیر کوجس کی ٹانگ میں دھاتی پلیٹیں لگی ہوئی ہیں اور وہ اب ہڈی ٹوٹنے کے شدید کرب میں مبتلا ہےاس کی بار بار التجا کے باوجود درد کش دوا (پین کلر) دینے سے بھی صاف انکار کر دیا ہے۔

علاج سے محرومی کا یہ ظالمانہ سلسلہ دائمی بیماریوں میں مبتلا اسیران تک پھیلا ہوا ہے،کیونکہ دفتر کے مطابق تھیلیسیمیا اور بلڈ پریشر کے مریض ایک اسیر کو بلڈ پریشر کی دوا تک فراہم نہیں کی جا رہی اور خوراک کی شدید قلت و ناقص معیار کے باعث اپنی گرفتاری سے لے کر اب تک وہ تقریباً 50 کلوگرام وزن کھو چکا ہے۔

دفتر نے مزید بتایا کہ خارش اور فنگل انفیکشن میں مبتلا اسیران شدید درد اور خارش کے باعث سونے سے قاصر ہیں، جبکہ ادویات اور صفائی کے سامان کی شدید قلت ہے۔ اسیران میڈیا دفتر کے مطابق کپڑے دھونے کی اجازت صرف دس دن میں ایک بار دی جاتی ہے، وہ بھی اتنے مختصر وقت کے لیے جو تمام اسیران کے لیے بالکل ناکافی ہوتا ہے۔

اسیران میڈیا دفتر نے اسیران کی صحت کی اس ہولناک ابتری کی تمام تر ذمہ داری قابض صیہونی ریاست پر عائد کرتے ہوئے بین الاقوامی اداروں اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بیماروں اور زخمیوں کے علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ دل دہلا دینے والے انکشافات اسیران میڈیا دفتر کی جانب سے آٹھ اکتوبر کو شائع کردہ اس رپورٹ کے چند دن بعد سامنے آئے ہیں جس میں سات اکتوبر کو جیل کے اندر غزہ کے اسیران پر ہونے والے ہولناک حملے کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں، جب صیہونی جلادوں نے ربڑ کی گولیوں، آنسو گیس، پیپر اسپرے اور لاٹھیوں کا بے دریغ استعمال کیا اور اسیران کے کمروں میں خونخوار پولیس کتوں کو چھوڑ دیا تھا۔

دفتر کے مطابق اس صیہونی سفاکیت کے نتیجے میں متعدد اسیران کے ہاتھ ٹوٹ گئے، جبکہ ایک اسیر کا ہاتھ بم لگنے سے شدید جھلس گیا، اسی طرح ایک اور اسیر کو اس کی پہلے سے زخمی اور دھاتی پلیٹوں سے جڑی ٹانگ پر بے دردی سے پیٹا گیا اور اسے ہسپتال یا کلینک منتقل کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔

صیہونی اہلکاروں کی مارپیٹ کا نشانہ خارش اور پھوڑے پھنسیوں میں مبتلا اسیران بھی بنے، جس سے ان کے پرانے زخموں سے خون جاری ہو گیا۔ دفتر نے یہ بھی بتایا کہ اس وحشیانہ کارروائی کے دوران اسیران کو ناشتے سے محروم رکھا گیا، دوپہر کے کھانے میں شدید تاخیر کی گئی اور انہیں باتھ روم استعمال کرنے سے بھی روک دیا گیا۔

’جانوت جیل‘ میں طبی دیکھ بھال کا یہ بحران اس حالیہ حملے سے شروع نہیں ہوا بلکہ کمیشن برائے امور اسیران نے بھی گذشتہ 12 اگست کو شائع کردہ اپنی ایک رپورٹ میں جو اسیران کی ملاقاتوں اور ان کے انکشافات پر مبنی تھی—تھپڑ و تشدد، سرکوبی، طبی خدمات کے فقدان اور ذاتی ضروری اشیاء کی شدید قلت کو دستاویز کیا تھا۔

کمیشن نے اس وقت رپورٹ کیا تھا کہ بعض کمروں میں 12 اسیران کو ٹھونسا گیا تھا جہاں صرف 10 بستر موجود تھے، جس کی وجہ سے دو اسیران کو ننگی زمین پر سونا پڑتا تھا، اس کے علاوہ صبح کی گنتی سے لے کر شام تک گدّے ضبط کر لیے جاتے تھے اور کپڑے دھونے کی نوبت دو دو ہفتوں کے وقفے سے آتی تھی۔ یہی وہ خستہ حال ظالمانہ حالات ہیں جن کے اندر زخمی اسیران صیہونی حملوں کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں علاج سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan