Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

ایک کمانڈر کو قتل کرنے کے لیے 300 فلسطینیوں کو شہید کرنے کی اجازت

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض صیہونی فوج کے چار اہلکاروں کے اعترافات اور فراہم کردہ شہادتوں نے 31 اکتوبر سنہ 2023ء کو شمالی غزہ کے جبالیہ مہاجر کیمپ میں صیہونی فوج کی طرف سے کی جانے والی اس ہولناک نسل کشی اور قتلِ عام کی نئی اور سفاکانہ تفصیلات سے پردہ اٹھا دیا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی شہری جامِ شہادت نوش کرنے کے ساتھ دسیوں شدید زخمی ہو گئے تھے۔ ان اعترافات کی تفصیلات صیہونی اخبار «ہارٹز» نے شائع کی ہیں۔

عبرانی اخبار نے ان میں سے ایک صیہونی فوجی کا بیان نقل کرتے ہوئے بتایا کہ اس سفاکانہ حملے کا بنیادی مقصد اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ایک کمانڈر ابراہیم البياری کو نشانہ بنانا تھا۔

صیہونی فوجی نے اعتراف کیا کہ فوج کے اہلکار اس بات سے اچھی طرح واقف تھے کہ البياری متعدد بڑی رہائشی عمارتوں کے نیچے زیرِ زمین موجود ہیں، لیکن انہیں ان کے خاص مقام یا اس مخصوص عمارت کا علم نہیں تھا جس کے نیچے وہ موجود تھے، صیہونی فوجی نے مزید انکشاف کیا کہ’’اسی لیے ہم نے ان متعدد عمارتوں کا انتخاب کیا جو عام شہریوں سے کھچاکھچ بھری ہوئی تھیں اور اس سرنگ کے اوپر واقع تمام رہائشی عمارتوں کو زمین بوس کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا جس میں ان کے موجود ہونے کا گمان تھا‘‘۔

صیہونی فوجی نے تسلیم کیا کہ ’’ہم نے شہریوں کو نکالنے یا علاقہ خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا، کیونکہ ہمارے لیے سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ فرار ہونے کی کوشش نہ کر سکیں اور انہیں ہر قیمت پر قتل کر دیا جائے‘‘۔

ایک اور صیہونی فوجی کی شہادت کے مطابق صیہونی فوج کے اپنے عسکری تخمینوں سے یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ اس حملے کے نتیجے میں 250 سے 300 کے قریب بے گناہ فلسطینی شہریوں کی شہادت کا قوی امکان ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ صیہونی چیف آف سٹاف تک پہنچایا گیا اور انہوں نے اس اجتماعی قتلِ عام کی باقاعدہ منظوری دی۔

صیہونی فوجی نے مزید کہا کہ ’’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں اس وقت شدید ششدر رہ گیا تھا جب صرف ایک بٹالین کمانڈر کو نشانہ بنانے کی خاطر شہریوں سے بھری متعدد کثیر المنزلہ عمارتوں کو بالکل زمین بوس کر دیا گیا، جس سے سیکڑوں معصوم انسان شہید اور زخمی ہوئے‘‘۔

دوسری جانب “ہارٹز” نے صیہونی غاصب فوج کے خلاف کام کرنے والی تنظیم «بریکنگ دی سائلنس» کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نداف وائمن کا بیان نقل کیا ہے، جنہوں نے صیہونی فوجیوں کی شہادتوں کے بعد ان مظالم کے تمام ذمہ داروں کے سخت احتساب کا مطالبہ کیا۔

نداف وائمن نے کہاکہ ’’آپ ایک بٹالین کمانڈر کی ٹارگٹ کلنگ کے لیے 300 عام شہریوں کے قتل کا پروانہ نہیں دے سکتے اور پھر یہ ڈھونگ رچائیں کہ آپ بے گناہ انسانوں کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ 31 اکتوبر سنہ 2023ء کو شمالی غزہ کے جبالیہ مہاجر کیمپ کے وسطی بلاک «6» میں صیہونی جنگی طیاروں نے تقریباً سات ٹن سے زائد وزنی بارودی بم گرا کر ایک ہولناک اور خونریز نسل کشی کو انجام دیا تھا، جس کے نتیجے میں ایک پورا رہائشی محلہ تباہ ہو گیا جہاں ہزاروں کی تعداد میں مقامی باشُندے اور بمباری سے بچ کر آئے ہوئے بے گھر افراد مقیم تھے۔

غزہ میں وزارتِ صحت اور وزارتِ داخلہ کے اس وقت کے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس ہولناک بمباری کے نتیجے میں 400 سے زائد فلسطینی شہری شہید اور مئات زخمی ہوئے تھے، جبکہ دسیوں افراد ملبے تلے دب کر ہمیشہ کے لیے لاپتہ ہو گئے۔

اس صیہونی درندگی کے نتیجے میں کئی خاندان سول رجسٹر سے مکمل طور پر مٹ گئے، جبکہ ابو نصر، ابو القمصان، حجازی، مسعود، البہنساوی اور عکاشہ خاندانوں کے پسماندگان اپنے پیاروں کے جسدِ خاکی کو تلاش کرنے اور ان کا کوئی سراغ حاصل کرنے سے بالکل قاصر رہے، جو صیہونی جارحیت کے انسانی تباہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

قابض صیہونی ریاست آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء سے امریکی و یورپی پشت پناہی کے ساتھ قطاع غزة میں نسل کشی، اجتماعی قتلِ عام، بھوک سے مارنے، اینٹ سے اینٹ بجانے، جبری نقل مکانی، گرفتاریوں اور بیماریاں پھیلانے کے ہولناک سلسلہ پر عمل پیرا ہے، اور اس نے عالمی عدالتِ انصاف کے احکامات اور بین الاقوامی مطالبات کو یکسر ٹھکرا رکھا ہے۔

اس صیہونی نسل کشی اور بربریت کے نتیجے میں اب تک 249 ہزار سے زائد فلسطینی شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر تعداد معصوم بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے، جبکہ 11 ہزار سے زائد شہداءکے ملبے تلے لاپتہ ہیں، اس کے علاوہ لاکھوں بے گھر افراد قحط کا شکار ہیں اور پٹی کے تمام شہروں کو صیہونی ریاست نے مکمل طور پر مسمار کر دیا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan