Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

نیتن یاہو کے خلاف کارروائی میں رکاوٹیں، مغربی طاقتوں پر سنگین سوالات

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان نے ان شدید سیاسی دباؤ کی تفصیلات سے پردہ اٹھایا ہے جو امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے اسرائیلی حکام کے خلاف وارنٹ گرفتاری کی درخواست روکنے کے لیے ڈالا گیا۔

صحافی مہدی حسن کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں، جسے الجزیرہ نے نشر کیا، کریم خان نے بین الاقوامی دھمکیوں کے سامنے عدالت کی خود مختاری اور آزادی کا اعادہ کیا۔

کریم خان نے واضح کیا کہ مئی سنہ 2024ء میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری کے حصول کے اعلان کے بعد انہیں براہ راست دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے بیانات کا حوالہ دیا جنہوں نے انہیں صاف الفاظ میں کہا تھا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت افریقہ اور پیوٹن جیسے لوگوں سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی ہے، نہ کہ اسرائیل اور امریکہ جیسی نام نہاد جمہوری ریاستوں کے لیے۔

برطانوی موقف کے حوالے سے کریم خان نے ان رپورٹس کی تصدیق کی کہ وہاں حکومت کی تبدیلی سے قبل لندن کی جانب سے انہیں دھمکیاں دی گئیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ سابق برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے اپریل سنہ 2024ء میں ایک ٹیلی فون کال کے دوران دھمکی دی تھی کہ اگر اسرائیلی حکام کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تو برطانیہ عدالت سے دستبردار ہو جائے گا اور اس کی فنڈنگ روک دے گا، تاہم انہوں نے اشارہ کیا کہ نئی حکومت کے آنے کے بعد برطانوی موقف میں بہتری آئی ہے۔

کریم خان نے اسرائیلی حکام کے خلاف قانونی کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی خود پر لگائے جانے والے ہراساں کرنے کے الزامات پر بھی بات کی، انہوں نے بتایا کہ عدالت کی جانب سے مقرر کردہ 3 ججوں پر مشتمل ایک آزاد عدالتی کمیٹی نے مارچ سنہ 2026ء میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بدسلوکی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا فرائض میں غفلت کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

عدالتی کمیٹی کی جانب سے بریت کے باوجود کریم خان نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ معاملہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے رکن ممالک کی اسمبلی کے ایجنڈے میں دوبارہ شامل کیا جا سکتا ہے، جس سے جاری انضباطی تحقیقات کے فریم ورک کے تحت 125 رکن ممالک کی جانب سے انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے ووٹنگ کا راستہ کھل سکتا ہے۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت سنہ 2024ء میں بنجمن نیتن یاھو اور گیلنٹ کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے، جن پر اکتوبر سنہ 2023ء میں شروع ہونے والی غزہ کی پٹی پر جنگ کے دوران جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan